Clicky

ہوم / بلاگ / ذوالقرنین حیدرکی ’’اُمیدیں‘‘بھی جاگ گئیں

ذوالقرنین حیدرکی ’’اُمیدیں‘‘بھی جاگ گئیں

یو اے ای سے انگلینڈ فرار ہو جانے والے سابق وکٹ کیپر بیٹسمین ذوالقرنین حیدر نے اپنا کیریئر اس وقت داؤ پر لگا دیا جب وہ کچھ بن جانے کے قریب تھے لیکن قسمت کی بات ہے کہ انہیں وہ مقام نہیں مل سکا جس کی توقع کی جا رہی تھی ۔

اگرچہ وہ سیاسی پناہ کیلئے برطانیہ جا پہنچے تھے اور انہوں نے اس وقت جو الزامات عائد کئے انہوں نے خود ان کا کیریئر ہی کنارے نہیں لگایا بلکہ انہیں ایک متنازع شخصیت کے روپ میں بھی ابھار دیا جس کے بعد ان کی کہانی پاکستان کرکٹ میں انجام کو پہنچ گئی لیکن نہ جانے کیوں وہ مسلسل اس بات پر مصر ہیں کہ انہیں ایک بار پھر پاکستانی ٹیم کی جانب سے کھیلنے کا موقع دیا جائے حالانکہ وہ اپنا سب کچھ بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔

حال ہی میں ایک بار پھر یہ اطلاع ملی کہ چیئرمین پی سی بی شہر یار خان کی مصروفیات کے باعث قومی کرکٹ ٹیم کے سابق وکٹ کیپر بیٹسمین ذوالقرنین حید ر ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی ان سے ملاقات نہیں کر سکے کیونکہ وہ اپنے کیریئر کو دوبارہ شروع کرنے کے متمنی ہیں۔

2010ء میں انگلینڈ میں سیاسی پناہ کیلئے کئے جانے والے ’’ڈرامے‘‘ کے فلاپ ہوجانے کے بعد ذوالقرنین کی مثال دھوبی کے کتے جیسی بن گئی ہے

ذوالقرنین حیدر نے ایک ماہ قبل چیئرمین پی سی بی شہر یار خان کو خط لکھ کر ملاقات کیلئے درخواست کی تھی لیکن چیئرمین پی سی بی کرکٹ کے فروغ اور انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے مصروفیات کی وجہ سے ذوالقرنین حیدر کو ملاقات کا وقت نہیں دے سکے۔،ذوالقرنین حیدر نے ایک خبر رساں ادارے کو بتایا کہ انہوں نے چیئرمین پی سی بی کو ملاقات کیلئے خط لکھا ہے اور انہیں پوری امید ہے کہ چیئرمین جلد ملاقات کا وقت دیں گے اور وہ انہیں اپنے مسئلے کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کریں گے۔

ذوالقرنین حیدر کا کہنا تھا کہ وہ ٹیم میں دوبارہ وکٹ کیپر بیٹسمین کی حیثیت سے شمولیت کیلئے اپنی ٹریننگ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی فٹنس بھی برقرار ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ذوالقرنین حیدر نے قومی ٹیم سے ڈراپ ہونے کے بعد کرکٹ کھیلنا نہیں چھوڑی اوروہ امریکا ،انگلینڈ ،عمان اور دیگرممالک میں لیگ کرکٹ کھیل رہے ہیں جہاں مختلف ٹورنامنٹس میں بطور وکٹ کیپر بیٹسمین ان کی کارکردگی انتہائی عمدہ رہی اوروہ متعدد میچز میں مین آف دی میچ بھی قرار پائے جبکہ ایک ٹورنامنٹ میں انہوں نے مین آف دی سیریز کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

ذوالقرنین حیدر کے مطابق وہ قومی ٹیم میں دوبارہ شمولیت کیلئے بھرپور محنت کررہے ہیں اور انہیں پوری امید ہے کہ ان کی محنت رنگ لائے گی اور وہ میرٹ پر ٹیم میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ انہوں نے بتایاکہ پاکستان سپر لیگ کیلئے ان کی نجم سیٹھی سے بھی بات چیت ہوئی ہے اور انہیں امید ہے کہ پی ایس ایل میں بھی ان کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیا جائے گا۔

ہمیں تو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ذوالقرنین حیدر آخر کن ہواؤں میں ہیں کہ انہیں اس بات کا بھی اندازہ نہیں کہ ملک میں پہلے سے جو وکٹ کیپر بیٹسمین ہیں انہیں قومی ٹیم میں چانس نہیں مل رہا تو ایسے میں انہیں بھلاکون پوچھے گا۔اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کلب لیول کے میچوں میں کارکردگی کی بنیاد پر انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا تو یہ ان کی بھول ہے اور ایسا لگتا ہے کہ انہیں کرکٹ کھیلنے سے کہیں زیادہ علاج کی ضرورت ہے!!

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

’’جونسے‘‘ احمد شہزاد کا نمبر کب آئے گا؟

اگر سابق ہیڈ کوچ وقار یونس کی جانب سے اس طرح کا طرز عمل ظاہر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے