Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / بلاگ / سینئرز کا بیٹ کیا تھما، چیونٹیوں کے بھی پَر نکل آئے

سینئرز کا بیٹ کیا تھما، چیونٹیوں کے بھی پَر نکل آئے

جب تک حالات اچھے ہوں سب کچھ اچھا رہتا ہے لیکن جیسے ہی معاملات ہاتھوں سے نکلنے لگیں تو پھر سایہ بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے

مصباح الحق اور یونس خان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے کہ ان کی عمدہ کارکردگی کا سلسلہ کیا رکا چیونٹیوں کے بھی پر نکل آئے جنہوں نے اُڑان بھرتے ہوئے اپنے کھیل کے قد سے زیادہ لمبے ناموں پر انگلیاں اُٹھانا شروع کر دی ہیں، یہ بات بھی فراموش کر بیٹھے ہیں کہ یہی وہ دو کھلاڑی ہیں جنہوں نے طویل عرصے سے پاکستانی ٹیم کو کامیابیوں کی شاہراہ پر گامزن رکھا ہے۔

چند ٹیسٹ میچوں میں ان کی کارکردگی سامنے آنے کے باعث پاکستانی ٹیم کو شکستوں کا سامنا کرنا پڑا تو تنقید کے ڈونگرے برسانے والوں نے انہیں مشورے بھی دینا شروع کر دیئے ہیں۔آسٹریلیا کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں اوسط درجے کی کارکردگی کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کے سینئر کھلاڑیوںکیخلاف باتیں بننا تو شروع ہو ہی چکی ہیں لیکن سچائی یہی ہے کہ اس کے ساتھ ہی مڈل آرڈر بیٹنگ کے ستون بھی لرزنے لگے ہیں

اگر کوئی حیران نہ ہو تو یونس خان اور مصباح الحق کی میلبورن میں قدرے بہتر وکٹ پر جلد پویلین واپسی نے ہیڈ کوچ کو بھی وضاحتوں پر مجبور کر دیاجنہیں کڑے سوالات کا سامنا کرنا پڑا کہ پاکستان کے دونوں سینئر کھلاڑی آخر کب ریٹائرمنٹ کا اعلان کریں گے؟

یونس خان اور مصباح الحق گزشتہ دورۂ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیامیں توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں
یونس خان اور مصباح الحق گزشتہ دورۂ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیامیں توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں

مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے درست وقت کا تعین انہیں خود ہی کرنا ہے تاہم وہ اتنا ہی کہہ سکتے ہیںکہ ڈریسنگ روم میں ان کی حمایت بدستور جاری رہے گی۔اُن کے الفاظ یہ تھے

’’ وہ اس بات کا خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ انہیں کب کھیل سے رخصت ہونا چاہئے لیکن جہاں تک ڈریسنگ روم کی بات ہے تو انہیں بہت زیادہ احترام حاصل اور بیٹنگ کیلئے میدان میں جاتے وقت ان کی بھرپور حمایت کی جائے گی، کسی کو یونس خان اور مصباح الحق کی ڈریسنگ روم میں اہمیت پر کوئی شک نہیں ہے۔‘‘

واضح رہے کہ 42سالہ مصباح الحق اس بات کی پہلے ہی نشاندہی کر چکے تھے ان کی آنکھوں اور ہاتھوں کے درمیان ربط متاثر ہونے لگا اور وہ اس بارے میں سوچنا بھی شروع کر چکے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ اگر دونوں کھلاڑی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہیں تو ان کی جگہ لینے کیلئے اظہرعلی اور اسد شفیق جیسے بیٹسمین موجود ہیں جو بہتر کارکردگی تو دکھا رہے ہیں لیکن مکی آرتھر کا خیال ہے کہ بڑے ناموں کا متبادل بننے کیلئے انہیں پہلے اپنی پائیداری کو ثابت کرنا ہوگا۔

مکی آرتھر کی جانب سے مثبت حمایت کے برعکس سابق کپتان محمد یوسف حسب توقع سینئر قومی بیٹسمینوں کے کردار سے خوش نہیںدکھائی دیئے جن کو اپنے دل کا غبار نکالنے کا موقع مل گیا، ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسی وکٹ پرجہاں بڑا اسکور بن سکتا تھا سینئرز اپنا فرض نبھانے میں ناکام رہیں تو جونیئرز کا بھی وکٹ پر ٹکنا آسان نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ سینئر بیٹسمینوں کے کردار سے زیادہ خوش نہیں ہیں کیونکہ اگر وہ گیندیں ضائع کر کے اپنی وکٹیں گنوائیں گے اور پریشر کو بھی برداشت نہیں کر سکیں گے تو پھر جونیئر کھلاڑیوں کیلئے کریز پر ڈٹ کر کھیلنے کی مثال کس طرح قائم کر سکیں گے۔

ایک اور سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ سینئر بیٹسمین مصباح الحق اور یونس خان نے رنز نہ بنانے شروع کئے تو پھر ٹیم مشکلات سے دوچار رہے گی۔

شاید اس قسم کے تبصرے کرنے والوں کو یہ بات یاد نہیں رہی کہ ان دونوں کھلاڑیوں نے ملک کو بہت کچھ دیا ہے اور اب کیریئر کے اختتامی حصے میں انہیں کچھ مشکلات کا سامنا ہے تو کسی کو بھی یہ بات ہضم نہیں ہو رہی ہے جو ایسے کرداروں کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے کہ جنہوں نے اپنی ساری زندگی پاکستان کی کامیابی کیلئے لگا دی مگر اب انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

ٹور میچ: اظہر،یونس ،مصباح سبھی ناکام، احمد شہزاد چل پڑے

پاکستانیز اور ویسٹ انڈیزپریذیڈنٹ الیون کے درمیان کھیلے جارہے ٹورمیچ میں پاکستان کے بڑے بیٹنگ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے