Clicky

ہوم / اہم موضوعات / کیریئر آگے بڑھانے کیلئے سرفرازاحمدکو ’’مفت مشورہ‘‘
وقاریونس کے دور میں سرفراز احمد کے ساتھ زیادتی کا پرچار ایک میڈیا گروپ پر بہت زیادہ تھا اور اب اُسی میڈیا گروپ کے چینل پر آکر سرفراز احمد نے زبان کھولی ہے

کیریئر آگے بڑھانے کیلئے سرفرازاحمدکو ’’مفت مشورہ‘‘

ماضی ہمیشہ تلخ زیادہ اور خوشگوار کم ہوتا ہے جس کے بارے میں سوچنا بھی حال پر اثر انداز ہو سکتا ہے لیکن نہ جانے کیوں بعض لوگ پرانے زخموں کو چھیڑ کر ان میں خود ہی تکلیف پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد نے بھی طویل عرصے کی خاموشی کا خاتمہ کرتے ہوئے اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ وہ سابق ہیڈ کوچ وقار یونس کے دور میں خود کو غیر محفوظ سمجھتے تھے اور انہیں ڈراپ ہونے کے خوف کی وجہ سے کچھ زیادہ کہنے کی ہمت تک نہیں ہوتی تھی کیونکہ وہ دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والا سلوک دیکھ چکے تھے۔

سرفراز احمد کا شمار اس وقت ملک کے ان چند کھلاڑیوں میں کیا جاتا ہے جنہوں نے مختصر سی مدت میں اپنے اچھے کھیل کی بدولت ہی خود کو قومی ٹیم میں مستحکم کیا ہے، اگر وہ بھی ماضی کے قصوں اور کہانیوں میں محض اس وجہ سے اُلجھ جائیں گے کہ ان کی باتیں کسی اخبار کی اشاعت بڑھا دیں گی یا ان کے کچھ منفی جملے کسی ٹی وی چینل کی ریٹنگ میں اضافہ کر دیں گے تو انہیں یہ بات بھی یاد رکھنا چاہئے کہ وقت پڑنے پر انہیں بھی اسی جانب سے باتیں سنائی جائیں گی اور کہانیاں بیان کرنے والا کردار بدل چکا ہوگا۔

اچھے انداز میں کیریئر آگے بڑھانے کیلئے سرفرازاحمد کو ماضی کے واقعات کو کریدنے سے گریز کرنا چاہیے

سرفراز احمد کو تینوں فارمیٹس کے کپتان بنانے کی ’’مہم جوئی‘‘ کرنے والے چینل پر ایک بات چیت میں سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ وہ سابق ہیڈ کوچ کے دور میںبری طرح عدم تحفظ کا شکار ہو چکے تھے کیونکہ انہیں عمدہ کارکردگی کے باوجود زمبابوے کیخلاف سیریز سے قبل ڈراپ کر دیا گیا اور انہیں یہ فکر تھی کہ اگر ان کے متبادل کھلاڑی نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر ڈالا تو پھر کیا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والی مشکلات پر بھی کچھ کہنے کے قابل نہیں تھے کیونکہ انہیں علم تھا کہ ان کی باتوں کو مثبت انداز سے نہیں لیا جائے گا لیکن ہمارا خیال تو یہ ہے کہ ان کی باتوں کو مثبت انداز سے اب بھی نہیں لیا جائے گا، کسی نے بھی ’’بڑوں‘‘کے کان بھر دیئے تو ممکن ہے کہ انہیں لینے کے دینے پڑ جائیں۔

یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر کوئی کسی خاص مقصد سے کسی مہم جوئی کا آغاز کرنا چاہتا ہے تو کھلاڑی خود اس کا حصہ کیسے بن جاتے ہیں، انہیں یہ بات محسوس کیوں نہیں ہو جاتی کہ ان سے یہ سب کہلوا کر کوئی اور مقصد پورا کیا جا رہا ہے۔ ویسے تو سرفراز احمد ہی کیا کسی بھی کھلاڑی سے بات کرنے کی کوشش کی جائے تو انہیں بورڈ کے ساتھ معاہدہ اور اس کے تحت خاموشی اختیار کرنے کا ’’بہانہ‘‘یاد رہتا ہے لیکن وہ اپنی مرضی سے کسی بھی جگہ کچھ بھی کہنے سے گریز نہیں کرتے۔

یہ بات درست ہے کہ وقار یونس اب پاکستانی کرکٹ کے سیٹ اپ کا حصہ نہیں، ان کیخلاف کچھ بھی کہنا کافی آسان ہے لیکن کیا یہ بات کسی کو بھی زیب دیتی ہے کہ وہ ماضی کے زخم کریدتے ہوئے پاکستان کے ایک سابق کھلاڑی کیخلاف باتیں بنائے اور سب سے بڑھ کر یہ بات کہ بورڈ کے حکام یہ سب دیکھ کر بھی خاموش رہیں، ان کی جانب سے کوئی روک ٹوک بھی نہ کی جائے کہ اسی بورڈ کی ایک اہم شخصیت مذکورہ ٹی وی چینل سے وابستہ ہے۔

ہمار ا ذاتی خیال تو یہی ہے کہ سرفراز احمد کامیابی کی جن سیڑھیوں پر قدم رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں کافی احتیاط سے کام لینا چاہئے کیونکہ اگر ان کا پاؤں کسی بھی غیر ضروری بیان کے چکر میں رپٹ گیا تو انہیں سب سے نچلی سیڑھی پر پڑا بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

اس ملک میں کامیابی کا ایک گر یہ بھی ہے کہ خاموشی کے ساتھ کارکردگی دکھاتے ہوئے ترقی کی منازل طے کی جائیں کیونکہ یہاں زبان چلانا کبھی سود مند نہیں رہا خواہ وہ ماضی کا ہی کوئی معاملہ کیوں نہ ہو۔ وقار یونس کے دور میں سرفراز کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ اب ایک تاریخ بن چکا ہے اور اسے بیان کر کے سوائے مشکلات کے کچھ حاصل نہیں ہوگا !!

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

پی ایس ایل فائنل < ’پاگل پن‘ یا ’دہشتگردی کیخلاف فتح‘؟

پاکستان کرکٹ بورڈ نے’’ حکومتی کاندھے‘‘ پر سوار ہو کر پاکستان سپر لیگ فائنل کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے