Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / اہم موضوعات / انضمام اور سرفرازاحمد، سینئرزکو کنٹرول کرنے میں کامیاب

انضمام اور سرفرازاحمد، سینئرزکو کنٹرول کرنے میں کامیاب

پاکستان ٹیم میں ماضی قریب میں کپتانوں کے خلاف سینئرزکرکٹرزکی سازشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیم میں شامل کئی سینئر کرکٹرزکونظراندازکرکے سرفرازاحمد کو ٹوئنٹی 20اور پھر ون ڈے ٹیم کا کپتان مقرر کیاتھا تو خدشہ پیدا ہوگیاتھا کہ ایکبارپھر سازشوں کا سلسلہ شروع ہوسکتاہے لیکن چیف سلیکٹرانضمام الحق اور کپتان سرفرازاحمد نے کمال مہارت اور حکمت عملی سے تمام سینئر کرکٹرزکو قابو کرلیاہے۔

ویسٹ انڈیزکے خلاف تیسرے اور آخری ون ڈے میچ میں سیریزکی سب سے بڑی شراکت قائم کرنے والے شعیب ملک اور محمد حفیظ اپنے کپتان کے گن گانے پر مجبور ہیں جس کی بڑی وجہ ماضی کے برعکس سینئر ہونے کے ناطے ان کی ٹیم میں مضبوط کے بجائے کمزور پوزیشن ہے۔محمد حفیظ کو بمشکل اسکواڈ میں جگہ ملی تھی جبکہ چیف سلیکٹر انضمام الحق نے سال کے اندر سینئرز کے بغیر ٹیم تیارکرنے کا عندیہ دیکر تمام سینئر کرکٹرز کے کان کھڑے کردئیے ہیں۔

شعیب ملک جیسا جہاندیدہ کرکٹر اس صورتحال سے اچھی طرح واقف اور خودکو صورتحال کے مطابق ڈھالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ۔اپنی اس ہوشمندی اور دوراندیشی کی بدولت مزیدچند سالوں تک ٹیم میں موجود رہ سکتاہے۔یہ وہ حقیقت ہے جسے شاہد آفریدی سمجھنے میں یکسر ناکام رہے جس کے سبب انہیں36 سال کی عمر میں ہی ’’سابق‘‘کاٹیگ سینے پر لگانا پڑگیاحالانکہ وہ مکمل فٹ تھے۔اگر صورتحال کے مطابق چلنے کی کوشش کرتے تو مزیدتین ،چار سال تک باآسانی کھیل سکتے تھے۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف حالیہ سیریز کے فیصلہ کن میچ اور سیریزکے بہترین کھلاڑی شعیب ملک کا سیریزکے اختتام پر بیان بھی ’’صورتحال‘‘ کی عکاسی کررہاہے جس میں انہوں نے کہاکہ ’’ سرفرازاحمد جس اندازمیں ٹیم کو لیکر چلتے ہیں اورکرکٹرزاُن کو رسپانس کرتے ہیں ،وہ قابل دید چیزہے جس پر میں اُنہیں (سرفرازکو)مبارکباد دیتاہوں‘‘

یہ ’مثالی بھائی چارہ‘ کافی عرصے بعد پاکستان ٹیم میں دیکھنے میں آیاہے جس پر شائقین اور ماہرین کی حیرانگی بھی اپنی جگہ جائز ہے کیونکہ ماضی میں ایسی مثالیں بہت کم دیکھنے کو ملی ہیں خصوصاً 90sء کے دور میں تو کپتان کو ناکام بنانے کیلئے جس انداز اور کھلے بندوں کوششیں کی جاتی تھیں ،وہ واقعات تاحال شائقین کے ذہنوں سے محو نہیں ہوئے۔

1995ء میں جب رمیزراجہ کو کپتان بنایاگیاتھا تو وسیم اکرم،سلیم ملک، سعید انور،وقاریونس سمیت کئی سینئرکھلاڑیوں کو سائیڈ لائن کرناپڑاتھاجن میں سے کچھ کی واپسی بھی ہوئی اور پھر جب 1997ء میں وسیم اکرم کو ٹیم کی دوبارہ کمانڈدی گئی تو سب سے پہلے رمیزراجہ کو فارغ کیا گیاحالانکہ وہ گزشتہ دو سالوں میںپاکستان کے ٹاپ 2 بلے بازوں میں شامل تھے۔

ماضی قریب میں مصباح الحق کو ون ڈے ٹیم کی قیادت سے ہٹانے کی کوششیں اور ورلڈکپ سے قبل آسٹریلیاکے خلاف یواے ای سیریزمیں ریگولر کپتان کو ’جبری اَن فٹ‘کرکے شاہد آفریدی کی کو ’’آزمائشی کپتان‘‘بنانا زیادہ پرانی اور بھلائے جانے کے قابل بات نہیں ۔ اس طرح اظہرعلی کی قیادت میں بھی سینئرزکے کچھ مسائل رہے۔

پاکستانی کرکٹ تاریخ اور ان حالات کے بعد سرفرازاحمد کاسینئرکھلاڑیوں کو ایک صفحے پر لاکراُن سے کام لینا واقعی حیران کن چیز ہے جس سے ثابت ہوتاہے کہ اُس میں اچھے لیڈرکی صلاحیتیں موجود ہیں ۔پاکستان کرکٹ بورڈکی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین انضمام الحق کی جانب سے نوجوان کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل کرنا بھی ثابت کررہاہے کہ ٹیم منیجمنٹ اور سلیکٹرز ایک ہی پالیسی پر عمل پیراہیں جو کسی صورت سینئرزکی اجارہ داری نہیں چاہتے۔

گزشتہ چند ون ڈے سیریز میں پاکستانی ون ڈے اسکواڈ کے ریگولر ممبر عمراکمل کو فٹنس مسائل کی بنیاد پر ٹیم میں شامل نہ کرنے کا ’آفیشل بیان ‘ریکارڈ پر ہے لیکن ممکن ہے کہ درمیانے اکمل کو کامران اکمل کو جگہ دینے کی غرض سے ڈراپ کیا گیا ہو کیونکہ ماضی میں دونوں اکمل برادران کو ایک ساتھ کھلانے کا تجربہ اچھا نہیں رہا۔

زیادہ پرانی بات نہیں جب یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ کامران اکمل کونہ کھلانے پرعمراکمل نے بھی انجری کا بہانہ کرکے انٹرنیشنل میچ کھیلنے سے انکارکردیاتھا اور یہ حقائق بھی نہیں مٹائے جاسکتے کہ عمراکمل وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری نبھانے سے ہمیشہ کیوں انکارکرتے رہے تھے اور بعدازاں کامران اکمل کے ڈراپ ہوجانے کے بعد انہوں نے وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری متواتر میچوں میں نبھائی تھی۔

چندماہ قبل جب انضمام الحق نے تینوں فارمیٹس کی ٹیموں کیلئے ایک ہی کپتان ہونے کا ’’اظہارِخیال‘‘کیاتھا توزیادہ تر سابق کرکٹرزنے اس کی مخالفت جبکہ کرکٹ ماہرین کے نزدیک یہ محض ایک ’ذاتی رائے‘ تھی جسے عملی جامہ پہنانا کافی مشکل دکھائی دے رہاتھا لیکن آج وہ سب ہونے جارہایا تقریباً ہوچکاہے جس کا چیف سلیکٹر نے کچھ عرصے قبل ’’اظہارِ خیال‘‘ کیاتھا۔

انضمام الحق کی جانب سے ایک سال کے اندر سینئرزکے بغیر مکمل فٹ اور نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم سیٹ کرنے پر قہقے لگانے والوں کو محض ایک ،دو ہفتے بعد ہی مصباح الحق اور یونس خان کاانٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے پر حالات کا رُخ جانچنے میں مشکل ہورہی ہے تو پھر کچھ نہیں کہاجاسکتا۔

بہرحال ! یہ صورتحال اس جانب اشارہ ہے کہ موجودہ ٹیم منیجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی انتہائی پروفیشنل انداز سے صورتحال کو کنٹرول کررہی ہے۔

اگرچہ ماضی کی ہماری کرکٹ تاریخ سازشوں کے حوالے سے کافی تلخ ہے مگر موجودہ صورتحال میں چیف سلیکٹرانضمام الحق اور سرفرازاحمد قدرے آہستگی اور جس مہارت کے ساتھ صورتحال کو کنٹرول کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں،اُس سے اُمید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو اس بار تلخ تجربے کا سامنانہیں کرنا پڑے گا!!

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

ون ڈے کپتان کی تبدیلی،درست یا غلط فیصلہ؟

پی ایس ایل 2کے سنسنی خیز مقابلوں اور اس سے متعلق دیگر’سائیڈاسٹوریوں‘کے سبب ون ڈے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے