Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / بلاگ / ثقلین نے ایک تیر سے دو شکاروں پر نشانہ سادھ لیا

ثقلین نے ایک تیر سے دو شکاروں پر نشانہ سادھ لیا

گزشتہ دنوں سرکاری ٹی وی چینل پر پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا سیریز کا جائزہ لیتے ہوئے سابق پاکستانی بیٹسمین محمد وسیم نے یہ نکتہ اُٹھایا کہ ہیڈ کوچ کے علاوہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچنگ اسٹاف میں شامل افراد پر ڈالرز ضائع کرنے کے بجائے اگر مقامی سابق کھلاڑیوں سے یہ کام لیا جائے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو کافی’’بچت‘‘ہو سکتی ہے۔

انہوں نے ساتھ بیٹھے ثقلین مشتاق کی جانب اشارہ کیا کہ وہ ساری دنیا میں فرائض انجام دیتے ہیں لیکن پاکستان میں ان سے یہ کام نہیں لیا جاتا۔ محمد وسیم کی بات سنتے ہی سابق قومی کپتان راشد لطیف نے جواب دیاکہ ثقلین مشتاق پی سی بی کو مہنگے پڑتے ہیں جس پر محمد وسیم نے مشتاق احمد کی مثال دی کہ ان کو بھی تو پی سی بی نے رکھا ہوا ہے

جس پر راشد لطیف نے سابق لیگ اسپنر کو کم پیسے ملنے کا انکشاف کرتے ہوئے یہ انوکھا پہلو بھی اُجاگر کیا کہ ساری دنیا میںاگر کوچز کو دیکھا جائے ان میں بیٹنگ اور ہر قسم کی بولنگ کے کوچز دستیاب ہیں لیکن اس وقت کوئی ایسا اسپیشلسٹ آف اسپنر دستیاب نہیں جو بڑی ٹیموں کی کوچنگ کے فرض کو نبھا سکے، یہی وجہ ہے کہ ویسٹ انڈیز،نیوزی لینڈ،بنگلہ دیش اور انگلینڈ کو جب بھی اسپن بولنگ کوچ کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ ثقلین مشتاق سے ہی رجوع کرتے ہیں جن کا معاوضہ بھی ظاہر سی بات ہے کہ زیادہ ہے ۔

ثقلین مشتاق بہ یک وقت انگلینڈ اور پاکستان میں مستقل کوچنگ کی جاب کے متلاشی ہیں
ثقلین مشتاق بہ یک وقت انگلینڈ اور پاکستان میں مستقل کوچنگ کی جاب کے متلاشی ہیں

راشد لطیف کی بات غلط نہیں کیونکہ خود ثقلین مشتاق بھی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ انہیں پاکستان میں وہ معاوضہ نہیں مل سکتا جس کی انہیں توقع ہے لہٰذا انہوں نے حال ہی میں ایک تیر سے دو شکار کرتے ہوئے پہلے تو انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کو یہ مشورہ دیا کہ وہ انگلش ٹیم کیلئے کل وقتی اسپن بولنگ کوچ مقرر کرے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس خواہش کا بھی اظہار کر ڈالا کہ وہ اس پوزیشن پر خدمات کی انجام دہی کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستانی آف اسپنر فی الحال عارضی طور پر بھارت میں موجود انگلش ٹیم کے اسپن بولرز کی کوچنگ کر تے دیکھے گئے جنہوں نے بنگلہ دیش کے دورے پر بھی معین علی،عادل رشید اور ظفر انصاری کی تربیت کا فرض نبھایا تھا جبکہ رواں سال انہوں نے اس وقت بھی انگلش کرکٹ ٹیم کا ڈریسنگ روم شیئر کیا جب جولائی میں پاکستان کیخلاف انگلش ٹیم کو مشکلات درپیش تھیں۔

انگلش ٹیم کے ڈائریکٹر اینڈریو اسٹراس نے حال ہی میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ای سی بی کا ذہن اسپن بولنگ کوچ کی تقرری کیلئے کھلا ہوا ہے لیکن اسے ’’فل ٹائم‘‘کے بجائے زیادہ مستقل بنیادوں تک محدود رکھا جائے گا۔

ممکن ہے کہ دنیا کے بہترین آف اسپنر سمجھے جانے والے ثقلین مشتاق کیلئے اینڈریو اسٹراس کی بات زیادہ پسندیدہ نہ ہو لیکن کم از کم انہیں یہ پیغام تو مل ہی گیا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں انہیں انگلش ٹیم کیلئے کسی حد تک مستقل بنیادوں پر کام کرنے کا موقع ملا سکتا ہے۔

اس طرح انہیں پاکستانی ٹیم کیلئے کام نہ کرنے کی مایوسی کے آنسو پونچھنے میں آسانی ہو جائے گی کیونکہ انگلش کرکٹ ٹیم کیلئے کسی حد تک مستقل بنیادوں پر بھی انہیں پاکستان کی کل وقتی ملازمت سے کہیں زیادہ معاوضہ مل جائے گا کیونکہ انہوں نے انگلش ٹیم میں اسپن بولنگ کو نظر انداز کرنے اور اسپن بولنگ کوچ کی تقرری کیلئے جس طرح محنت کی ہے اس کا پھل انہیں ملنا ہی چاہئے۔

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

’’ایساہوتارہا تو کرکٹ اپنا چارم کھوبیٹھے گا‘‘

ایک ایسے دور میں جب کھیل کی گورننگ باڈی نے گیند کی سیم سے لے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے