Clicky

ہوم / ممالک / پاکستان / جاویدمیانداد بمقابلہ سلیم ملک …کون کتنا بہتر؟

جاویدمیانداد بمقابلہ سلیم ملک …کون کتنا بہتر؟

دو نامور کھلاڑیوں کی ایک ساتھ کھیلے گئے میچوں میں کارکردگی کا موازنہ ہرکوئی جاننا چاہتاہے اورپاکستان میں کھیلوں کا مقبول ترین میگزین قارئین کے علم کی پیاس اپنے سلسلے ’’ٹاکرا‘‘ میں بجھاتاہے۔

دو مدمقابل ٹیموں کے نامور کھلاڑیوں کے ساتھ ایک کھیلے گئے میچوں میں کارکردگی کے جائزے اور موازنے پر مشتمل سلسلے ’’ٹاکرا‘‘ میں کئی نامور کھلاڑیوں کے اعدادوشمار ’’اسپورٹس لنک‘‘ میں شائع کئے جاچکے ہیں اورکئی شائع ہونا باقی ہیں۔

گزشتہ دنوں ’اسپورٹس لنک‘نے ماضی کے دو عظیم پاکستانی بیٹسمینوں جاویدمیاندا د اور سلیم ملک کا موازنہ پیش کیا۔ یہ دونوں عظیم بلے باز80sء کی دہائی میں پاکستان ٹیم کی بیٹنگ لائن کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے تھے۔

جاوید میانداد اور سلیم ملک کو ایک ساتھ پاکستان کی نمائندگی کرنے کا بہت زیادہ موقع ملا اور دونوں نے ملک کیلئے اعلیٰ خدمات بھی پیش کیں جن کی تفصیل’’کرکٹ اُردو‘‘کے قارئین کیلئے ’اسپورٹس لنک‘ کی خصوصی اجازت سے شائع کی جارہی ہے۔

box 1

ٹیسٹ ٹاکرا:
جاویدمیانداد اور سلیم ملک کو ایک ساتھ 67 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا، ان میچوں میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی انتہائی شاندار رہی جس نے 3.28کے عمدہ فتح وشکست کے تناسب سے محض سات شکستوں کے بدلے 23 ٹیسٹ جیتے۔

انفرادی کارکردگی کے اعتبار سے جاوید میانداد نے ان میچوں میں خود کو سلیم ملک کے مقابلے میں کہیں بہتر بلے باز ثابت کیاجنہوں نے نسبتاً 13 رنز فی اننگز زائد رنزکی اوسط سے رنزبنانے کے ساتھ ساتھ چھ زائد سنچریاں بھی اسکورکیں۔

1543زائد رنز بنانے والے جاویدمیانداد ان67میچوں کی94 اننگز میں صرف تین بار صفر کی خفت سے دوچار ہوئے جبکہ سلیم ملک کو سات باربغیر کوئی رن بنائے پویلین واپس لوٹنا پڑاجو ان میچوں میں وسیم اکرم(9)کے بعد کسی بھی دوسرے پاکستانی کرکٹرکے زیادہ ’’ڈک‘‘ تھے۔

ایک ساتھ کھیلے گئے67ٹیسٹ میچوں میں زیادہ رنزبنانے والے پاکستانی بلے بازوں کی فہرست میں جاویدمیانداد اور سلیم ملک ہی ٹاپ دو پوزیشنز پر موجود تھے جن کے علاوہ کوئی اور تیسراپاکستانی بلے باز ان میچوں میں تین ہزاررنزکا سنگ میل عبورنہیں کرسکاتھا۔

بائونڈریوں کے اعتبار سے دونوں کاکوئی جوڑنہیں بنتا کیونکہ جاویدمیاندادنے ان 67ٹیسٹ میچوں میں عمران خان کے بعد سب سے زیادہ22چھکے لگائے تھے جبکہ سلیم ملک صرف چھ بارہی گیند فضائی راستے سے بائونڈری لائن کے باہر پھینک سکے تھے۔اس طرح جاویدمیانداد نے اُن کے مقابلے میں 80 زائد بائونڈریاں بھی لگائی تھیں۔

سلیم ملک نے ان 67ٹیسٹ میچوں کی سولہ اننگزمیں مجموعی طورپر45.2اوورزپھینکتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں جبکہ جاویدمیانداد ان میچوں میں 20اوورزپھینک کر بھی کوئی وکٹ حاصل نہیں کرسکے تھے۔

box 2

ون ڈے ٹاکرا:
سلیم ملک اورجاویدمیاندادکو ایک ساتھ 154 ون ڈے میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا جن میں پاکستان کو1.42کے فتح وشکست کے تناسب سے 88کامیابیاں ملیں۔

ٹیسٹ میچوں کی طرح ایک ساتھ کھیلے گئے ایک روزہ مقابلو ں میں بھی جاویدمیاندادنے سلیم ملک کے مقابلے میں کہیں اچھی کارکردگی کامظاہرہ کیاجنہوں نے ان میچوں میں دوزائدسنچریاں اور 15 زائد ففٹیاں اسکورکرنے کے علاوہ اوسطاً فی اننگزمیں 1400کے قریب زائد رنزبھی بنائے۔

بیٹنگ کے دیگر پیمانے میں ’’ہلکے‘‘ پڑنے والے سلیم ملک نے اسٹرائک ریٹ کے اعتبار سے برتری حاصل کی جنہوں نے ان میچوں میں 80.98کے عمدہ اسٹرائک ریٹ سے رنزکئے جبکہ جاویدمیاندادکے رنز بنانے کی اوسط تقریبا20رنز فی 100بالز پیچھے رہی۔

نوٹ: دوکھلاڑیوں کے ایک ساتھ کھیلے گئے میچوں میں کارکردگی کے موازنے پر مشتمل سلسلہ ’’ٹاکرا‘‘ ہر ہفتے اسپورٹس لنک‘ میگزین میں شائع کیاجاتاہے

ایک ساتھ کھیلے گئے 154ون ڈے میچوں میں رنزکے اعتبار سے جاویدمیانداد ہی سب آگے رہے جو ان میچوں میں پانچ ہزار رنزکا سنگ میل عبور کرنے والے واحد بلے باز تھے جن کے بعد رمیزراجہ3822 رنزکے ساتھ دوسرے نمبرپر رہے جبکہ سلیم ملک کو اس فہرست میں تیسری پوزیشن مل سکی۔ان میچوں میں 9 زائد چھکے لگانے والے جاوید میانداد نے بائونڈریوں میں بھی جاویدمیانداد پر برتری حاصل کی۔

بیٹنگ میں جاویدمیانداد سے پیچھے رہ جانے والے سلیم ملک نے ون ڈے میچوں میں بھی بطوربولر اپنے ساتھی کو پیچھے چھوڑا۔سلیم ملک نے ان میچوں کی37 اننگزمیں بولنگ کراتے ہوئے 24وکٹیں حاصل کیں جبکہ جاویدمیانداد کو پانچ اننگزمیں بولنگ کرانے کا صلہ صرف دو وکٹوں کی صورت میں مل سکا۔

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

شین وارن بمقابلہ انیل کمبلے، کون کتنا بھاری؟

ویسے تو شین وارن اور انیل کمبلے کی کلاس میں بظاہر واضح فرق دکھائی دیتاہے،آسٹریلوی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے