Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / بلاگ / پاکستان سپر لیگ مفاد پرستوں میں ’پھنس‘گئی

پاکستان سپر لیگ مفاد پرستوں میں ’پھنس‘گئی

اس بات کی تعریف نہ کرنا تو ممکن ہی نہیں کہ نجم سیٹھی نے پاکستان سپر لیگ کا پہلا ایڈیشن کامیابی کے ساتھ منعقد کرایا لیکن ایک ایڈیشن سے دوسرے کی جانب بڑھتے ہوئے جو بھی فیصلے کرنے کی کوشش کی گئی ہے انہوں نے ساری محنت پر پانی پھیرتے ہوئے پاکستان سپر لیگ پر مخالفت کے بادل گہرے کر دیئے ہیں۔

ایک جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے ایک رکن نے علم بغاوت بلند کر رکھا ہے تو دوسری جانب بعض فرنچائز مالکان اپنے ساتھ کئے جانے والے وعدوں کی تکمیل نہ ہونے پرگلے شکوے کرنا شروع کر دیئے ہیں کیونکہ انہیں پہلے ایڈیشن میں فائدہ بھی نہیں ہوا اور اب پی ایس ایل کو کمپنی کاروپ دینے کے بعد انہیں معاملات سے بھی باہر رکھا گیا ہے ۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستان سپر لیگ کو الگ کمپنی بنانے کے اعلان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے رکن اقبال محمد علی نے گزشتہ دنوں پی سی بی کے سرپرست اعلیٰ وزیر اعظم نواز شریف کوایک شکایتی خط لکھ ڈالا جس میں کہا گیا کہ پی ایس ایل کی پاکستان کرکٹ بورڈ سے علیحدگی کو رکوایا جائے ورنہ پی سی بی مالی طور پر دیوالیہ ہو جائے گا۔

خط میں اقبال محمد علی نے پاکستان سپر لیگ کو پرائیویٹ کمپنی کا درجہ دیئے جانے پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایل کی پی سی بی سے علیحدگی کرکٹ بورڈ کو شدید نقصان پہنچائے گی لہٰذا وزیراعظم پیٹرن کی حیثیت سے اس کا نوٹس لیں اور پی ایس ایل کو نجی کمپنی میں تبدیل کرنے کا نوٹس لیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے ان کی کرکٹ کے معاملات پر گہری نگاہ ہے،انہیں علم ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش سمیت دنیا میں کہیں بھی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ لیگ کو بورڈ سے الگ نہیں کیا گیا،اگر پی ایس ایل کو پی سی بی سے الگ کیا گیا تو پہلے سے ہی مالی بحران کا شکار کرکٹ بورڈ مزید مالی مشکلات سے دوچار ہو جائے گا۔

اقبال محمد علی کے مطابق دوسرے ملکوں میں کرکٹ بورڈز اپنی لیگز سے پیسہ کما رہے ہیں جبکہ پی ایس ایل سے منسلک فرنچائز کو پہلے تجربے سے مالی نقصانات کا سامنا رہا،اب اسے کمپنی بنا کر کیا پی سی بی کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔

انہوں نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا پی اسی ایل کی پاکستان کرکٹ بورڈ سے علیحدگی کی وجہ پہلے تجربے کی ناکامی ہے اور پھر یہ بھی کہ پہلے ایڈیشن سے مطلوبہ ہدف حاصل نہیں ہوا توکیا کسی نے اس کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کی کوشش کی، جب پی ایس ایل کے لاہور میں ہونے والے ڈنر پر چار کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ ہوئی تو چیئرمین پی سی بی اور وزیراعظم آفس کی جانب سے مداخلت کیوں نہیں کی گئی؟

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی جانب سے پی ایس ایل کی مخالفت کے ساتھ ہی وعدے وفا نہ ہونے پر پاکستان سپر لیگ کے بیشتر فرنچائز مالکان بھی ایونٹ کی انتظامیہ سے ناراض ہیں جنہوں نے لمیٹڈ کمپنی میں نمائندہ شامل نہ کرنے کا گلہ کرتے ہوئے ٹورنامنٹ کے روح رواں نجم سیٹھی کو بھی اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے جبکہ انہیں پی سی بی گورننگ بورڈ کے رکن شکیل شیخ کو بھی ڈائریکٹر بنانے پر اعتراض ہے۔psl-2

میڈیا ذرائع کے مطابق گزشتہ ملاقات میں تمام فرنچائز مالکان نے چیئرمین پی ایس ایل نجم سیٹھی کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تو انہوں نے فرنچائز مالکان سے وعدہ کیا کہ پیسہ ان کا لگا ہوا ہے لہٰذا گورننگ بورڈ بنایا جائے گا جس میں فرنچائز کے نمائندے شامل ہوں گے جبکہ پی ایس ایل کے لمیٹڈ کمپنی بنائے جانے پر بھی ڈائریکٹرز میں ان کے نمائندوں کی شمولیت کا وعدہ کیا گیا تاہم ایسا بھی نہیں ہو سکا

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مستقبل قریب میں فرنچائزز مالکان کی نجم سیٹھی سے دوبارہ ملاقات ہو گی جس میں پھر ان تحفظات پر بات ہو گی اور اپنے نمائندے پی ایس ایل کمپنی میں شامل کروانے کا مطالبہ پیش کیا جائے گا۔

باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ فرنچائز مالکان شکیل شیخ کو ڈائریکٹر بنانے پر بھی نالاں ہیں کہ جو شخص پی سی بی کو مختلف معاملات پر بلیک میل کرتا رہا اور اس نے اپنے بیٹے کو اسلام آباد یونائیٹڈ میں شامل کرانے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اسے پی ایس ایل میں محض اس وجہ سے جگہ دی گئی کہ اس نے ریجنل ایسوسی ایشنز کے پی سی بی کیخلاف عدالت میں جانے کی دھمکی دی تھی۔

ایک فرنچائز آفیشل کے مطابق پی سی بی گورننگ بورڈ کے رکن نے پی ایس ایل میں پوسٹ کے حصول کیلئے یہ ضمانت دی تھی کہ وہ ایسوسی ایشنز کو سنبھال لے گا اور انہیں کوئی منفی اقدام نہیں کرنے دے گا،اب انہیں خدشہ یہ ہے کہ پاکستان سپر لیگ میںبھی اسی طرح کی باتیں ہوں گی جو ایونٹ کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں کیونکہ یہاں بھی میرٹ کیخلاف کھلاڑیوں کو شامل کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جائے گا۔

یقینی طور یہ تما م باتیں جو سامنے آئی ہیں کافی تشویشناک ہیں،ایسا لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان سپر لیگ کو مزید مسائل کا سامنا رہے گا کیونکہ بعض باوثوق ذرائع کا دعویٰ ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو اس معاملے پر آواز اٹھانے کیلئے کچھ ایسے لوگوں نے معلومات کی فراہمی کے ساتھ اُکسایا جو پی ایس ایل کو بورڈ سے الگ کرنے کے ساتھ ہی شکیل شیخ کے بھی مخالف ہیں۔

اب وہی مخالفت کرتے ہوئے بعض فرنچائز مالکان کو بھی اس بات پر آمادہ کر لیا ہے کہ وہ دباؤ میں اضافہ کریں اور اپنی شرائط منوائیں۔اگر اس طرح کا سلسلہ رہا تو پاکستان سپر لیگ کیلئے یہ کوئی اچھی بات نہیں ہو گی،ایونٹ بجائے کامیابی کے پستی میں چلا جائے گا۔

یہی وقت ہے کہ اس بارے میں راست اقدامات کر لئے جائیں اور پی ایس ایل کو بچانے کی سنجیدہ کوشش کی جائے ورنہ خدشہ ہے کہ پی ایس ایل کے ساتھ پاکستان کرکٹ کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

یہ بلاگ پاکستان میں کھیلوں کے مقبول ترین میگزین ’’اسپورٹس لنک‘‘ سے لیا گیا ہے

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

پی ایس ایل فائنل میں پہنچتے ہی کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکودھچکا

پاکستان سپرلیگ کے پہلے پلے آف میں پشاورزلمی کے خلاف ایک رن سے فتح حاصل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے