Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / اہم موضوعات / اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل: پی سی بی کیلئے دُہری مشکلات کھڑی ہوگئیں

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل: پی سی بی کیلئے دُہری مشکلات کھڑی ہوگئیں

پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے دوسرے روز منظر عام پر آنے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں پی سی بی تاحال اپنے پہلے دعوئوں کو ثابت نہیں کرسکا کہ اُس پر دُہری مشکلات کھڑی ہوگئی ہیں کیونکہ ایک طرف ناصرجمشید نے منظرعام پر آکر پی سی بی کے دعوئوں کو جھوٹا قرار دیاہے جبکہ خالد لطیف نے ٹریبونل کے قیام کو ہی لاہورہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

پی سی بی پر شرجیل خان اور خالد لطیف کے خلاف ’’ٹھوس ثبوت‘‘ سامنے لانے کا دبائو ہے ،اسی اثناء میں ناصرجمشید کے حوالے سے پی سی بی کی جانب سے پھیلائی گئی افواہوں کا بھی پول کھل گیا ہے۔

پی سی بی حکام کا باربار کہناہے کہ اسپاٹ فکسنگ کے مبینہ مرکزی کردار ناصرجمشید پی سی بی حکام سے تعاون نہیں کررہے اور وہ تحقیقات سے بچنے کیلئے باربار اپنا گھر بدل رہے ہیں ۔پی سی بی نے ان دعوئوں کی تردید ناصرجمشید کی بیوی کی جانب سے بھی آچکی ہے جبکہ اب خود ناصرجمشید بھی منظرعام پر آگئے ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیوشیئرکرکے پی سی بی حکام کے دعوئوں کی قلعی کھول دی ہے۔

ناصرجمشید کاکہناہے کہ اُن کے متعلق پھیلائی گئی ساری باتیں جھوٹ پر مبنی ہیں،وہ میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے تعاون کیلئے پوری طرح تیار ہوں ،وہ جہاں کہیں گے ،میں آجائوں گا۔میں لندن میں نیشنل کرائم ایجنسی سے تعاون کررہاہوں ۔ پہلے یہاں کی تحقیقات مکمل ہوجائیں ،پھر بورڈجہاں کہے گا،میں آجائوں گا‘‘

دوسری جانب،اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں معطل کرکٹر خالد لطیف نے ٹربیونل کی کاروائی کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔درخواست میں موقف اختیارکیاگیاہے کہ اینٹی کرپشن یونٹ اور ٹربیونل کوکاروائی کا اختیار ہی نہیں ،لہٰذا عدالت عالیہ انہیں کام کرنے سے روکے۔

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملزم کرکٹرزکے بجائے پی سی بی حکام پر دبائو بڑھتا جارہاہے۔ حالیہ واقعات نے بورڈحکام کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑاکیاہے۔یہ صورتحال انتہائی حیران کن ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بورڈآج شرجیل خان اور خالدلطیف کیخلاف ثبوت پیش کریگا

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

بورڈنے شرجیل خان اور خالدلطیف کیخلاف ثبوت پیش کردیئے

پاکستان کرکٹ ٹیم آج اپنے ہی قائم کردہ تحقیقاتی ٹریبونل کو شرجیل خان اور خالد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے