Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / اہم موضوعات / فکسنگ کیس: ’پردہ نشینوں‘ کو بچانے کیلئے قربانی کا ’بکرا‘ مل گیا

فکسنگ کیس: ’پردہ نشینوں‘ کو بچانے کیلئے قربانی کا ’بکرا‘ مل گیا

کس قدر حیران کن بلکہ عجیب سی بات ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے بارہا مختلف ممالک کو اس بات کی وارننگ دی جاتی رہی ہے کہ حکومتی اثر و نفوذ کو کرکٹ بورڈ سے الگ رکھا جائے لیکن ایسا لگتا ہے کہ بعض پہلو ایسے ہیں جہاں حکومت کی سرپرستی گورننگ باڈی کے احکامات کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے لیکن آئی سی سی کی جانب سے اس بارے میں نرمی برتی جا رہی ہے۔

پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ایف آئی اے کی جانب سے مداخلت کے بعد اس معاملے کا رخ تبدیل ہو گیا تھا لیکن بورڈ میں موجود کچھ افراد نے حکومتی ’’آشیرباد‘‘کے ساتھ وفاقی ادارے کو مزید تحقیق سے روک دیا کیونکہ بعض اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہتا تو بہت سے ’’پردہ نشینوں ‘‘کے چہروں سے بھی نقاب اُتر سکتا تھا جنہوں نے آئی سی سی کی ناراضگی کی آڑ میں خود کو صاف بچا لے جانے میں کامیابی حاصل کر لی۔

اب یہ موقف اپنایا جا رہا ہے کہ پی سی بی کسی کھلاڑی کو جیل نہیں بھیج سکتا اور کھلاڑیوں کو قصوروار ثابت ہونے پر سزائیں پی سی بی اور آئی سی سی قوانین کے تحت ہی دی جائیں گی۔

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ساراملبہ ناصر جمشید پر ڈال کر کئی دیگر ’پردہ نشینوں‘ کو بچانے کی کوششیں کی جاسکتی ہیں

اس سارے کھیل میں سب سے اہم بات یہ سامنے آئی کہ پاکستان کرکٹ بورڈنے ایف آئی اے کو اپنی تحقیقات مکمل ہونے تک کھلاڑیوں کے موبائل ڈیٹا و دیگر معاملات تک رسائی دینے سے انکار کردیاحالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ پی سی بی نے خود وفاقی ادارے کو خط لکھ کر پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث کھلاڑیوں کے فون ڈیٹا اور دیگر معلومات کیلئے درخواست کی تھی جس کا اعتراف بعد میں پی سی بی حکام کو بھی کرنا پڑا۔

گزشتہ دنوںانکشاف کیا گیا تھا کہ پی سی بی کے ایک ہائی پروفائل اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ جب تک پی سی بی ٹربیونل اپنی تحقیقات مکمل نہیں کرلیتا تب تک ایف آئی اے یا کسی بھی ادارے کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی جائیں گی۔

پی سی بی ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے بدعنوانی میں ملوث کھلاڑیوں کے علاوہ دیگر پلیئرز کے موبائل فون او ردیگر ریکارڈ تک رسائی طلب کی گئی تھی جس کے باعث پی سی بی کو قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنارہا تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے معلومات تک رسا ئی دینے سے فی الحال معذرت کرلی لیکن درحقیقت معاملہ اس کے برخلاف تھا ۔

ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو ملکی عزت کی دھجیاں بکھیرنے والے کھلاڑیوں کے خلاف سخت کاروائی کا حکم دیا گیاتھا اور پھروزیر داخلہ کی جانب سے اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کو پی سی بی کی جانب سے مجوزہ سزا سے ہٹ کر ملکی وقار سے’’ کھلواڑ‘‘ کرنے کی سزا دینے کے بیان کے بعدایف آئی اے حکام نے پی سی بی سے کھلاڑیوں کے موبائل ڈیٹا و دیگر اہم دستاویزات تک رسائی طلب کی تھی جس کے بعد پی سی بی حکام کو سر جوڑ کر بیٹھنا پڑا کہ اس معاملے کو دبانے اور حد سے زیادہ بڑھ جانے سے بچانے کیلئے کیا اقدام کیا جائے۔

بورڈ میں ایک اہم شخصیت نے اپنے حکومتی حمایتی افراد پر یہ بات واضح کر دی کہ اگر اس معاملے میں ایف آئی اے کی جانب سے مداخلت کی گئی تو پھر آئی سی سی حکام اس کو مداخلت کے زمرے میں رکھیں گے جس کے بعد چیئرمین پی سی بی کے زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جب تک پی سی بی کا مقرر کردہ ٹربیونل اپنی تحقیقات مکمل نہیں کر لیتا تب تک ایف آئی اے سمیت کسی بھی فورم پر یہ معلومات شیئر نہیں کی جا سکیں گی۔

حالانکہ حقیقت تو یہ تھی کہ اس حوالے سے پی سی بی حکام نے خود ہی خط لکھ کر ایف آئی اے کو مداخلت کی دعوت دی تھی تاکہ مسلسل دباؤڈالنے والے آئی سی سی حکام پر یہ تاثر ابھارا جا سکے کہ اب یہ معاملہ پی سی بی کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے ۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایف آئی اے نے پی ایس ایل اسکینڈل میں ملوث کھلاڑیوں کے علاوہ دیگر کئی اور اہم پلیئرز کے موبائل ڈیٹا تک بھی رسائی طلب کی تھی تاہم قومی کرکٹ ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں کی جانب سے پی سی بی کو سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا جس کو وجہ بناتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام نے فیصلہ کیا کہ معاملے کی تحقیقات مکمل ہونے تک کسی بھی تحقیقاتی ادارے یا فورم کو معلومات فراہم نہ کی جائیں۔

اگر اس سلسلے میں متعدد یو ٹرن دیکھے جائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ معاملہ کہیں نہ کہیں اتنا گہرا ہے کہ پی سی بی کیلئے خود بھی اس سے نجات مشکل محسوس ہو رہی ہے، اسی وجہ سے بعض معاملات میں تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں تاکہ وقت کے ساتھ یہ معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے اور بدعنوانی کا ہار لندن میں موجود ناصر جمشید کے گلے میں ڈال کر یہ موقف اپنا لیا جائے کہ ان کا پاسپورٹ چونکہ لندن پولیس کی تحویل میں ہے لہٰذا وہ پاکستان نہیں آ سکتے۔

سچائی تو یہ ہے کہ بیشتر معاملات کو سیدھا کرنے کیلئے اب پی سی بی کا قبلہ درست کرنے کی بھی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کیونکہ مختلف افراد اپنے اختیارات کا استعمال کر کے بہت ساری چیزوں کا رخ تبدیل کرنے میں مصروف ہیں، اس سے شفافیت کا عنصر کم و بیش ختم ہوتا جا رہا ہے اور ایک بار پھر یہی امکان ہے کہ بدعنوانی میں ملوث افراد کو وہ سزا نہیں مل سکے گی جس کے وہ مستحق ہیں اور کچھ لوگوں کو معمولی سزاؤں سے گزار کر اس بڑے اسکینڈل کا بھی خاتمہ کر دیا جائے گا جو سب سے بڑی حماقت ہو گی!!

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

بورڈنے شرجیل خان اور خالدلطیف کیخلاف ثبوت پیش کردیئے

پاکستان کرکٹ ٹیم آج اپنے ہی قائم کردہ تحقیقاتی ٹریبونل کو شرجیل خان اور خالد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے