Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / اہم موضوعات / پی ایس ایل فائنل < ’پاگل پن‘ یا ’دہشتگردی کیخلاف فتح‘؟

پی ایس ایل فائنل < ’پاگل پن‘ یا ’دہشتگردی کیخلاف فتح‘؟

پاکستان کرکٹ بورڈ نے’’ حکومتی کاندھے‘‘ پر سوار ہو کر پاکستان سپر لیگ فائنل کے لاہور میں انعقاد کا حتمی فیصلہ کر لیا جس پر خوب بغلیں بھی بجائی جا رہی ہیں اور اسے دہشت گردوں کی شکست سے جوڑتے ہوئے پانچ مارچ کے دن کو ایک تاریخی حیثیت کا حامل دن بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

حیران کن امر تو یہ بھی ہے کہ ’’سیاستدانوں‘‘نے اس معاملے میں ٹانگ اَڑانے کے بعد اسے کمزور ملکی معیشت کیلئے طاقت کا انجکشن بھی کہنے سے گریز نہیں کیا ہے اور حیرانگی اس بات پر بھی ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری کے دعوے کرنے والے کیا اس فائنل سے قبل لوگوں کو محض ’’لارے لپے‘‘دے رہے تھے کہ اب انہوں نے پی ایس ایل فائنل کو مرکز نگاہ بنالیا ہے۔

اب یہ دعوے کئے جا رہے ہیں کہ اربوں روپے زیر گردش آئیں گے،کروڑوں کی آمدنی ہو گی اور پاکستان کا روشن چہرہ اُبھرے گایعنی پاکستان سپر لیگ فائنل نہ ہوا کوئی بیوٹی سوپ ہو گیا جو پلک جھپکتے میں چہرے کی رنگت صاف کر کے اُجلی اور شاداب بنا دے گا اور ملکی خزانے بھی لبالب بھر جائیں گے۔

جہاں تک ملکی مالیات کی بہتری کا معاملہ ہے تو’’ذاتی‘‘ پوائنٹ اسکورنگ کرنے والوں کیلئے ہمارا مفت مشورہ یہ ہے کہ اگر ایک پی ایس ایل فائنل سے پاکستان میں نوٹوں کے دریا اور فوائد کے سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگیں گے تو سال میں تین سے چار انٹرنیشنل ایونٹ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کرا لئے جائیں تواس کے بعد کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ پی ایس ایل کا ہر فیصلہ کن معرکہ پاکستان کے دلدر دور کر کے ملک میں خوشحالی کی ایک ایسی ’’لہر ‘‘لے آئے گا جس میں ہر پاکستانی غوطے کھا رہا ہوگا۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا واقعی حالات ویسے ہی ہیں جیسے کہ ظاہر کئے جا رہے ہیں کیونکہ ہمیں نہیں لگتا کہ ساری دنیا کی نگاہیں قذافی اسٹیڈیم پر جمی ہوئی ہوں گی اور اس میچ کے خاتمے کے ساتھ ہی انٹرنیشنل ٹیمیں اور ان کے کرتا دھرتا پاکستان کرکٹ بورڈ کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جائیں گے کہ وہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کیلئے بے چین ہیں۔

حقیقت صرف یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر ایک ایسا جواء کھیلنے جا رہے ہیں جس میں ان کا داؤچل بھی گیا تب بھی ان کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا کیونکہ لاہور کو عملی طور پر ’’بند ‘‘کر کے اگر پاکستان سپر لیگ کا ’’لافانی‘‘فائنل کرانے میں کامیابی مل بھی گئی تو اس سے مستقبل میں پاکستانی کرکٹ پر کچھ زیادہ بہتر اثرات مرتب نہیں ہوں گے اور نہ ہی بین الاقومی سطح پر ملک میں حالات کی بہتری کا پیغام جائے گا ۔

سچائی یہی ہے کہ غیر ملکی ٹیمیں پاکستان آنے پر اس وقت تک آمادہ نہیں ہوں گی جب تک ملک میں حالات بہتر نہیں ہو جاتے اور بیرون ملک اس تبدیلی کو محسوس نہیں کیا جاتا۔

اگر اس ایک فائنل پر ہی پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا تمام تر دارو مدار ہے تو براہ کرم ملک میں میچز کے انعقاد کی ’’راہداری‘‘کھلنے کے دعویدار اس بات کا بھی جواب دے دیں کہ ابھی تک پاکستان کرکٹ بورڈ کے کرتا دھرتا جن ٹیموں کی پاکستان آمد کے ڈھنڈورے پیٹتے رہے انہیں پاکستان بلا کر کون سے تیر چلائے گئے۔

اوراب تک ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال کیوں نہیں ہوئی کیونکہ اصل مسئلہ تو پاکستان میں موجود بے امنی ہے اور ایک دہشت گردی کی واردات ماضی کے تمام اچھے کاموں پر پانی پھیر دیتی ہے یوں ملکی کرکٹ ایک بار پھر ’’صفر‘‘پر جا کر کھڑی ہو جاتی ہے۔

ماضی قریب میں کینیااور زمبابوے کی ٹیمیں پاکستان میں کھیل کر واپس گئیں اور افغانستان کے علاوہ بنگلہ دیش کی ویمنز ٹیم بھی پاکستانی سرزمین پر ایکشن میں دیکھی گئی لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ ملک میں مکمل امن کا وہ تاثر ہی پیدا نہیں ہو رہا جس کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

زمبابوے کو اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے پاکستان بلانے کا فائدہ شاید انہیں ہوگیا ہو جنہوں نے یہ سیریز مہمانوں کو ان کی ’’اوقات‘‘سے زیادہ رقم ادا کر کے طے کی کیونکہ اسی سیریز کے دوران ایک میچ میں اسٹیڈیم کے قریب ہونے والے والے دھماکے میں ایک پولیس والے کی جان چلی گئی تو اس نے یہ بات بھی ثابت کی کہ ملک میں حالات بہت اچھے نہیں اور یہ بھی کہ پاکستان میں حفاظتی نظام کتنا’’ فول پروف‘‘ ہے۔

یہ چند پیراگراف پاکستان میں کھیلوں کے سرفہرست میگزین ’اسپورٹس لنک‘ کے 5تا11مارچ 2017ء کے ایڈیشن میں شائع ہونے والے مضمون’ ’پی ایس ایل فائنل محض اَناء اور پوائنٹ اسکورنگ کا معاملہ بن گیا ‘‘سے لئے گئے ہیں۔

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

پشاورزلمی کاپلڑابھاری،کوئٹہ کاکوئی بولرٹاپ ٹین میں شامل نہیں

پی ایس ایل2کے فائنل میں آج لاہورکے قذافی اسٹیڈیم میں گزشتہ ٹورنامنٹ کی رنراَپ ٹیم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے