Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / پی ایس ایل 2017ء / پی ایس ایل محاذ:بھارتی حسینائوں کے دبئی میں ڈیرے

پی ایس ایل محاذ:بھارتی حسینائوں کے دبئی میں ڈیرے

اس بات کا امکان تو پہلے سے ہی تھا کہ پاکستان سپر لیگ کا پہلا ایڈیشن کامیاب ہو جانے کے بعد سٹے بازوں اور بدعنوان عناصر کا اصل ہدف ایونٹ کا دوسرا ایڈیشن ہوگا لیکن جس بھیانک انداز سے اس ٹورنامنٹ پر دھاوا بولا گیا ہے اس کی کم از کم توقع نہیں کی جا رہی تھی اور یہی وجہ ہے کہ پی سی بی حکام کو بھی سنبھلنے کا موقع تک نہیں مل سکا اور پی ایس ایل پر بھی ایک بدنما داغ لگ گیا۔

پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کو ناکام بنانے اور کھلاڑیوں کو پھنسانے کیلئے بھارت سے خوبرو لڑکیوں کو دبئی میں پہنچانے کا انکشاف ہواہے، اس سلسلے میں دبئی میں ڈانس کلب چلانے والے بھارتیوں کی مدد بھی لی گئی ، ان حسینائوں کو ٹیم ہوٹلوں کے قریب ٹھہرایا گیا ہے تاکہ موقع ملتے ہی کھلاڑیوں سے رابطہ بڑھایاجاسکے اور انہیں اپنے مقصد کیلئے استعمال کیا جا ئے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق بھارتی حسینائوں کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ کھلاڑیوں سے کرکٹ فین بن کر ملیں اور سیلفیاں بنانے کے بہانے انہیں اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کریں جبکہ کھلاڑیوں کے ساتھ ایسی ویڈیوز بنانے کی بھی کوشش کریں جن سے اسکینڈل کا عنصر نکلے ایونٹ کو بدنامی کے گڑھے میں دھکیلاجا سکے۔

محمد عرفان نے بکیوں کے رابطہ کرنے کے باوجود پی سی بی کو اطلاع نہیں دی۔اُن کے خلاف تحقیقات تاحال جاری ہیں

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پی ایس ایل پر سٹہ کھیلنے والے معروف بکیز بھی امارات پہنچ چکے ہیں اور ان میں سے ہی کچھ مشکوک افراد ہوٹل کی لابی میں خالد لطیف سے سیلفی بنانے کے بہانے ملے تھے، اسی دوران انہوں نے شرجیل خان کو بھی بلالیا اور یہ معاملہ حد سے آگے بڑھ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  مشکلات میں گھری اسلام آبادیونائیٹڈکواہم کامیابی مل گئی

ذرائع کاکہناہے کہ بھارتی حکام کو پی ایس ایل کی کامیابی سے پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی ناممکن بنانے کی اپنی سازش ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس کی وجہ سے وہ مایوس ہو کر اس قسم کے حربے استعمال کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ پاکستان سپر لیگ میں بدعنوانی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد مزید نت نئی کہانیاں سامنے آنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور اس تمام تر معاملے پر ایک بک میکر کا کہنا ہے کہ یہ تمام میچز پہلے سے ہی فکسڈ ہیں، اس ایونٹ پر جتنے پیسے خرچ کئے گئے ہیں وہ پہلے دو میچوں میں ہی پورے کئے جا چکے ہیں۔

ایک بک میکر بٹ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ ایونٹ میں سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے اور ٹورنامنٹ کا باضابطہ آغاز ہونے سے پہلے ہی دبئی کے تمام بڑے ہوٹلوں میں کمرے بک ہو چکے تھے، بھارت اور لاہور کے سٹے باز وہاں بیٹھے ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

بک میکر نے کہا کہ لیگ کے پہلے دو میچز جس طرح کرائے گئے انہوں نے بک میکرز اور پنٹرز کو بھی فارغ کر دیا ہے کیونکہ پورے ٹورنامنٹ کے پیسے پورے کر لئے گئے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں بک میکر بٹ نے کہا کہ تمام کھلاڑی پہلے سے ہی بک ہیں اور یہ ٹورنامنٹ نہیں بلکہ صرف جواء ہو رہا ہے اور جسے کرکٹ کی الف اور بے کا بھی علم نہ ہو وہ بھی اس بات کو محسوس کر سکتا ہے کہ کیا گیم ہو رہا ہے۔

بک میکر کا کہنا تھا کہ دبئی میں بہت بڑی بک ہے جو لاہور سے دبئی میں ہی نہیں بلکہ انگلینڈ میں بھی اکٹھی ہوتی ہے اور پاکستان سے بھی اس پر پانی کی طرح پیسہ بہایا جا رہا ہے۔بک میکر سے سوال کیا گیا کہ اب تک کتنا سٹہ لگ چکا ہے تو اس کا کہنا تھا کہ کیا آپ کو نہر میں بہتے پانی کا اندازہ ہو سکتاہے؟ بالکل اسی طرح اس بات کا بھی کوئی اندازہ نہیں کہ ایونٹ میں کتنی رقم کا سٹہ لگ چکا ہے ۔

بکیوں سے روابط کے الزام میں شرجیل خان اور خالد لطیف کو پہلے ہی کرکٹ سے معطل کیا جاچکا ہے

اس کا دعویٰ تھا کہ’’میں تو یہاں تک بتا رہا ہوںکہ ایونٹ پر جتنے پیسے لگے ہیں وہ دو میچوں میں پورے ہو چکے ہیں، دبئی کے ہوٹلوں میں جواریوں کے علاوہ کھلاڑیوں کے مہمانوں کیلئے بھی کمرے بک کئے جا چکے ہیں اور لاہور سے ساری کٹنگ دبئی اور پھر دبئی سے بھارت میں ہو رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مذکورہ بک میکر کا کہنا تھا کہ جس طرح کوئی فلم بنائی جاتی ہے تو اس کیلئے ہر کردار کا انتخاب کیا جاتا ہے بالکل اسی طرح یہ کرکٹ کے میچز نہیں ہو رہے بلکہ ایک فلم بن رہی ہے اور ہر ایک اپنا کردار نبھا رہا ہے۔اس کا کہنا تھا کہ ہر کھلاڑی کی جیب میں پڑی پرچی میں اس کا کردار تحریر ہے اور اسکرپٹ کے مطابق اسے میدان میں آکر اپنا کردار نبھانا ہوتا ہے اور اس کے بعد وہ واپس چلا جاتا ہے۔

اگرچہ اس قسم کے دعوے پہلے بھی سننے میں آتے رہے ہیں لیکن حالیہ عرصے میں جو کچھ پاکستان سپر لیگ کے بارے میں کہا یا سنا جا رہا ہے اس نے لوگوں کی آنکھیں کھول دی ہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام محض زبانی دعوے کرنے میں مصروف ہیں جنہیں اس بات کی فکر ہی نہیں ہے کہ ان کا محنت سے اس مقام تک لایا گیا ٹورنامنٹ بدعنوان ہاتھوں میں منتقل ہوتا جا رہاہے جن سے اگر اسے نہ بچایا گیا تو یہ بھی تباہی کا شکار ہو جائے گا اور اس کی حیثیت بھی بنگلہ دیش پریمیئر لیگ سے مختلف نہیں ہو گی جہاں کرکٹ کے سوا سب کچھ ہورہا ہے۔

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

12کرکٹرزکے اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کاانکشاف

پاکستان کرکٹ ٹیم پی ایس ایل2کے دوران منظرعام پر آنے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے