Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / ممالک / پاکستان / پاکستانی کوچنگ اسٹاف ’سفید ہاتھی‘ بن گیا،سخت فیصلے متوقع

پاکستانی کوچنگ اسٹاف ’سفید ہاتھی‘ بن گیا،سخت فیصلے متوقع

اگر پاکستانی کھلاڑیوں کے طرز عمل میں تبدیلی نہیں آتی تو اس کیلئے سب سے پہلے کوچنگ اسٹاف کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ غیر ملکی کوچز کو نکالنے سے محض اس وجہ سے گریز کیا جاتا ہے کہ بیرون ملک پاکستان کی ساکھ خراب ہو گی اور کوچز یہاں آنے سے انکار کر دیںگے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو سدھارنے کیلئے قومی کوچز کی ناکامی کے بعد غیر ملکی کوچز کی لاکھوں روپے ماہانہ کے عوض خدمات حاصل کی گئیں مگربیٹسمینوں کی روش نہ بدل پائی جس کے بعدپی سی بی حکام بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کی رخصتی پر غور کو اولین ترجیح کے طور پر دیکھ رہے ہیں جبکہ فیلڈنگ کوچ ا سٹیو رکسن اور فزیو شان ہیز کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔

فٹنس ٹرینر گرانٹ لیوڈن اور بولنگ کوچ اظہر محمود کی کارکردگی بھی موثر انداز سے سامنے نہ آ سکی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی جانب سے کوچنگ ا سٹاف کی کارکردگی پر شدید تنقید کے بعد پی سی بی بھی پر کوچنگ ا سٹاف کا پوسٹ مارٹم کرنے کا بھی دباؤبڑھ گیا، آنے والے عرصے میں امکان ہے کہ کچھ لوگوں کو نکال باہر کئے بغیر چارہ نہیں ہوگا۔

حالیہ عرصے میں کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود پاکستانی فیلڈرز کی مہارت میں بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے
حالیہ عرصے میں کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود پاکستانی فیلڈرز کی مہارت میں بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے

کرکٹ ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے پی سی بی حکام نے غیر ملکی کوچز اور سپورٹ اسٹاف کی خدمات حاصل کیں جنہیں لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے لیکن سامنے آنے والے نتائج اس بات کی نشاندہی نہیں کر رہے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی اپنی ذمہ داری کو احسن طور پر نبھانے میں ناکام ہے۔

ہیڈ کوچ مکی آ رتھر 16 لاکھ روپے ماہانہ جبکہ بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور، ٹرینر گرانٹ لیوڈن، فیلڈنگ کوچ اسٹیو رکسن، فزیو شان ہیز اور بولنگ کوچ اظہر محمود میں سے ہر ایک کو سات سے آٹھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے مگر اس کے باوجود کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔

آسٹریلیا کی ٹیم کو کمزور گردانا جا رہا تھا مگر سیریز کے اکثر میچوں میں بیٹسمینوں کی خراب کارکردگی سے میچ قومی ٹیم کی جیت کی بجائے ہار پر ختم ہو ئے۔ بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور گزشتہ تین سال سے ٹیم کے ساتھ ہیں مگربیٹسمین کسی بھی طرح ٹھیک ہونے کا نام نہیں لے رہے اور ان کی کارکردگی میں عدم تسلسل نمایاں ہے۔

اگر فیلڈنگ کی بات کی جائے تو صرف دورہ آسٹریلیا میں دو درجن کے قریب کیچز چھوڑے گئے جبکہ فاسٹ بولرز کی جانب سے مخالف ٹیم کوآؤٹ کرنے میں ناکامی پر بولنگ کوچ کی قلعی بھی کھل گئی۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی کھلاڑیوں کی کارکردگی کے ساتھ ہی کوچنگ ا سٹاف کی کارکردگی سے بھی ناخوش ہیں اور سب سے زیادہ گرانٹ فلاور کو ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے جس کے بعد ان کی تبدیلی کے امکانات سب سے زیادہ ہیں جبکہ دیگر کوچز کو بھی وارننگ دی جائے گی کہ وہ اپنی کارکردگی میں بہتری لائیں ورنہ ان کیخلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

دورہ آسٹریلیا کے بعد بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کے علاوہ تمام کوچز چھٹی پر اپنے گھر جا چکے ہیں البتہ ہیڈ کوچ مکی آ رتھر کی جانب سے کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کی کارکردگی سے متعلق تفصیلی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد سخت فیصلے متوقع ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے