Clicky

ہوم / اہم موضوعات / 50ویں پاک- ویسٹ انڈیز تاریخی ٹیسٹ کا آج آغاز

50ویں پاک- ویسٹ انڈیز تاریخی ٹیسٹ کا آج آغاز

پاکستان اور ویسٹ انڈیزکے درمیان 50ویں تاریخی ٹیسٹ کا آج جمیکا میں آغاز ہورہاہے۔آج کیربیئنزپاکستان کے خلاف 50ٹیسٹ کھیلنے والے چھٹی ٹیم بن جائیں گے ،اس سے قبل انگلینڈ(81)، آسٹریلیا(62)، بھارت(59)، نیوزی لینڈ(55)اور سری لنکا(51) یہ سنگ میل عبورکرچکے ہیں۔

ویسٹ انڈیز کیلئے یہ اعزاز ہے کہ وہ حالیہ دنوں میں بہترین الوداعی ٹیم بن گئی ہے جس نے ساڑھے تین سال قبل سچن ٹنڈولکر کے کیریئر ٹیسٹ سیریز میں حصہ لیاتھا ۔اب عظیم بلے بازیونس خان اور کامیاب ترین کپتان مصباح الحق اسی ٹیم کے خلاف اپنے کیریئر کی آخری ٹیسٹ سیریز کھیل رہے ہیں۔

اگرچہ موجودہ ویسٹ انڈین ٹیم اپنے شاندارماضی کے مطابق کارکردگی دکھانے میں یکسر ناکام ہے مگر اس کے باوجود تین روزہ ٹورمیچ میں دوسرے درجے کے کھلاڑیوں پر مشتمل ویسٹ انڈیزپریذیڈنٹ الیون نے جس اندازمیں کارکردگی دکھائی، وہ انتہائی حیران کن اور پاکستان ٹیم کو’خبردار‘کرنے کے مترادف ہے۔

اس ٹور میچ میں کیریئر کی آخری سیریز کھیلنے کیلئے ویسٹ انڈیز پہنچنے والے یونس خان اور مصباح الحق کے مشترکہ رنزبھی15 کے عددسے آگے نہیں بڑھ پائے تھے جبکہ گزشتہ سال ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی دھاک بٹھانے والے یاسرشاہ دونوں اننگزمیں مجموعی طورپر 189رنزکے عوض صرف تین وکٹیں حاصل کرسکے۔اس میچ میں دوسرے درجے کی کیربیئن سائیڈ نے بھی 227 رنزکی برتری حاصل کرکے ثابت کردیاہے کہ یہ سیریز پاکستان کیلئے ہرگزآسان نہ ہوگی۔

ٹیموں کی حالیہ پوزیشن:
پاکستان ٹیم اپنے گزشتہ پانچوں ٹیسٹ ہار چکی ہے جسے نیوزی لینڈمیں دواور آسٹریلیامیں تین شکستوں کا سامناکرنا پڑا جبکہ اس سے قبل ویسٹ انڈیزکے خلاف شارجہ ٹیسٹ کوبھی شامل کیا جائے تو اُس کی لگاتار شکستوں کی تعداد 6ہوجاتی ہے۔ دوسری جانب،کیربیئن سائیڈ اپنے آخری پانچ میں سے تین ٹیسٹ ہارنے کے علاوہ ایک ڈرا اور ایک جیت چکی ہے۔ جس نے اپنے آخری شارجہ ٹیسٹ میں پاکستان ہی کوشکست دی تھی۔

رینکنگ اپ ڈیٹس:
آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں پانچویں درجے پر موجود پاکستان ٹیم کو اپنی پوزیشن بچانے کیلئے یہ سیریز کسی بھی مارجن سے جیتنا لازمی ہے۔ڈرایا شکست کی صورت میں اُس کی رینکنگ میں تنزلی ہوجائیگی(مزید تفصیل پڑھیں)

مرکز ِ نگاہ کھلاڑی:
ٹوئنٹی20سیریزمیں ناقابل یقین کارکردگی دکھانے والے پاکستانی لیگ اسپنر شاداب خان اگرچہ ون ڈے سیریز میں توقع کے مطابق اچھی کارکردگی نہیں دکھاسکے ہیں مگر ٹیسٹ سیریزمیں اُس سے شائقین اور ٹیم منیجمنٹ کو اچھی توقعات وابستہ ہیں ۔محمد عامرکیلئے یہ سیریز ممکنہ طورپر ’’آخری موقع‘‘ ہوسکتی ہے کیونکہ انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے بعد وہ مجموعی طورپر خصوصاً ٹیسٹ کرکٹ میں حسب توقع کارکردگی دکھانے میں ناکام ہیں۔

انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے بعد محمد عامر نے 41.60کی مہنگی ترین اوسط سے وکٹیں حاصل کی ہیں جو کسی بھی ٹیم کے اسٹرائک بولرکی ناقابل قبول کارکردگی ہے۔

ویسٹ انڈین ٹیم میں18سالہ کیران پولارڈمیزبان ٹیم کے سپورٹرزکے ’مرکز ِ نگاہ‘‘کھلاڑی ہونگے جو نومبر2012ء میں بنگلہ دیش کے خلاف ڈھاکہ ٹیسٹ کی دونوں اننگزمیں سنچریاں اسکورکرنے کے بعد سے اس فارمیٹ میں کوئی ففٹی تک اسکورنہیں کرسکے اور حالیہ سیریزسے قبل اُس نے اپنا آخری ٹیسٹ جون2014میں کھیلاتھا۔

پاکستان کے خلاف حالیہ تین روزہ ٹورمیچ میں کیران پولارڈ نے58اور*84کی ناقابل شکست اننگزکھیل کر ثابت کردیاہے کہ وہ ٹیسٹ سیریزمیں اپنی ٹیم کیلئے بہت کچھ کرسکتا ہے جس نے ون ڈے سیریز میں بھی61رنزکی شاندار اننگز کھیلی تھی۔

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

برج ٹائون میں ٹیسٹ نہ جیتنے کی پاکستانی روایت برقرار

188رنزکے ہدف کے تعاقب میں بیٹنگ لائن کی بدترین ناکامی سے دوچار ہوکرپاکستان ٹیم برج …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے