Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / بلاگ / ڈومیسٹک کرکٹ میں ’نوٹ‘ دکھاکر ’موڈ‘ بنانے کی کوشش

ڈومیسٹک کرکٹ میں ’نوٹ‘ دکھاکر ’موڈ‘ بنانے کی کوشش

سار ی دنیا میں کھیل کو بہتری کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے فارمیٹس اور قوانین میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں لیکن پاکستان میں سب کچھ عجیب اور انتہائی انوکھا ہی ہوتا ہے۔

یہ خبر کم از کم حیران کر دینے کے مترادف ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی فرسٹ کلاس کرکٹ کو پرکشش بنانے کیلئے فی میچ دس ہزار روپے کا اضافہ کر دیا ہے ۔اس وقت ریجن کی نمائندگی کرنے والے ہر کھلاڑی کو ایک میچ کیلئے 15ہزار روپے معاوضہ دیا جاتا ہے،اب یہ رقم بڑھ کر 25ہزار روپے ہو جائے گی۔

خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ اس اضافے کے بعد کھلاڑی ملکی فرسٹ کلاس کرکٹ کو زیادہ دلچسپی کے ساتھ کھیلیں گے لیکن کیا اس پہلو کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے کہ ایک ایسے وقت جب قائد اعظم ٹرافی ٹورنامنٹ ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا تھا تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے پندرہ کے لگ بھگ اہم کھلاڑیوں کو بنگلہ دیش پریمیئر میں شرکت کیلئے این او سی جاری کر دیا جبکہ پاکستانی ٹیم پہلے ہی ملک سے باہر ہے ۔

ملکی کرکٹ کے ٹاپ تیس کھلاڑی جب ملک کے سب سے بڑے فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں شریک نہیں ہوں گے تو اس کی کشش اور اہمیت میں بھلا کیسے اضافہ ہو گا ؟یہ دس ہزار اضافی روپے کی رقم کن لوگوں کا کلیجہ ٹھنڈا کرے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی سیزن کے دوران صف اول کے کھلاڑیوں کو بنگلہ دیش پر یمیئرلیگ کے دوران ریلیز کرنے کی بازگشت لاہور میں ہونے والے گزشتہ گورننگ بورڈ اجلاس میں سنائی دی لیکن اس معاملے کو دس ہزار کی اضافی فیس تلے دباتے ہوئے چند بھونڈے جواز اور بھدی قسم کی تاویلیں دے کر دفن کر دیا گیا ۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک ذمہ دار افسر نے بورڈ اجلاس کے دوران اراکین کو بتایا کہ اگر پاکستان بنگلہ دیش لیگ کیلئے اپنے کھلاڑیوں کو ریلیز نہیں کرے گاتو بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کی جانب سے بھی بنگالی کھلاڑیوں کو پاکستان سپر لیگ کیلئے این او سی نہیں ملے گا،ویسے بھی کھلاڑیوں کو ملنے والے بھاری معاوضے کی وجہ سے انہیںروکنا آسان کام نہیں ہوگا۔

ہماری سمجھ میں تو یہ بات نہیں آتی کہ جب کھلاڑیوں کو بھاری معاوضے کے بدلے میں بیرون ملک جانے سے نہیں روکا جا سکتا تو پھر یہ دس ہزار روپے فی میچ کا اضافہ اس حوالے سے کیا کردار ادا کر سکے گا،اس فیصلے سے بھلا فرسٹ کلاس کرکٹ پر کون سا احسان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ؟

گورننگ بورڈ اجلاس کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ریجن کے ون ڈے کرکٹ ٹورنامنٹ میں ہر ٹیم چار گیسٹ کھلاڑی کھلاسکتی ہے، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پی سی بی حکام گیسٹ کھلاڑیوں کو کھلانے کے معاملے کو لازمی قرار دینا چاہتے تھے لیکن ملک کی سب سے بڑی کرکٹ ایسوسی ایشن کے نمائندے نے اس تجویز کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ استحقاق ریجن کے پاس ہونا چاہئے کہ وہ گیسٹ کھلاڑی کھلانا چاہتے ہیں یا نہیں؟

شاید یہ معاملہ بھی اب دسمبر میں کراچی میں ہونے والے اجلاس میں ہی طے ہوگا لیکن یہ بات اپنی جگہ ہے کہ جس انداز سے پی سی بی حکام ملکی کرکٹ کو دلکشی کا روپ دینا چاہتے ہیں اس میں انہیں کامیابی ملنا مشکل ہے کیونکہ جب ملک کے سرفہرست کھلاڑی بھی قومی کرکٹ نہیں کھیلیں گے تو کیا خاک بہتری آئے گی ۔انہیں چاہئے کہ ملکی کرکٹ کا معیار بلند کریں اور وکٹوں کے ساتھ دیگر پہلوؤں پر توجہ دیں کیونکہ محض میچ فیس بڑھانے سے کچھ بھی تبدیل نہیں ہوسکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے