Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / اہم موضوعات / پاکستان ٹیم کے ناقد سابق کرکٹرزکا’’شر‘‘ بے نقاب ہوگیا

پاکستان ٹیم کے ناقد سابق کرکٹرزکا’’شر‘‘ بے نقاب ہوگیا

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پاکستان ٹیم جب بھی آسٹریلیا یا جنوبی افریقہ کا سفر کرتی ہے تو اس کے ممکنہ نتائج کا نوے فیصد اندازہ سبھی کو ہوتاہے لیکن جب وہاں پاکستان ٹیم’’حسب ِ سابق‘‘ ہارتی ہے تو’’ حسب روایت‘‘تنقیدکا بھی سلسلہ شروع ہوجاتاہے۔

اس میں عام شائقین اور ماہرین کی بات تو کسی حدتک پھر بھی قابل قبول لیکن وہ لوگ بھی قومی ٹیم پر تنقید کے ڈونگرے برسارہے ہوتے ہیں جنہیں خود آسٹریلوی سرزمین پرمسلسل ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑاتھا۔

ان سابق کھلاڑیوں کے ’’شر‘‘سے بچانے کیلئے پاکستان کے مقبول ترین اسپورٹس میگزین ’’اسپورٹس لنک‘‘ نے اپنے قارئین کیلئے ’’مثبت پہلو‘ ‘ کا نیا سلسلہ شروع کیا ہے جو بوقت ضرورت شائع کیاجائے گا۔جس کی پہلی قسط یہاں ’کرکٹ اُردو‘ کے قارئین کیلئے پیشِ خدمت ہے۔

جیساکہ ہم کچھ ہفتے قبل ہی اپنے’’ اعدادوشمار‘‘میں بتاچکے ہیں کہ حیران کن طورپر آسٹریلوی پچوں پرپاکستانی بولرزکی کارکردگی بہت زیادہ اچھی نہیں ہے،اس بار بھی ہمیں صورتحال ویسی ملی لیکن اس بارتنقید کی شدت کچھ تیز ہوگئی۔

Pakistan team
حسن علی آسٹریلیامیں میزبان سائیڈکے خلاف سب سے عمدہ اسٹرائک ریٹ سے وکٹیں حاصل کرنے والے پاکستانی بولر بن گئے ہیں جبکہ وسیم اکرم اور شعیب اختر کے بعد اننگزمیں 5 وکٹیں لینے والے محض تیسرے پاکستانی فاسٹ بولر ہیں

جن لوگوں کی یاداشت کمزور ہے یا حقیقت نہیں جانتے،اُن کیلئے عرض ہے کہ وسیم اکرم جیسادُنیا کا بہترین لیفٹ آرم پیسربھی آسٹریلوی سرزمین پر میزبان بلے بازوںکے خلاف 29میچوں میں صرف ایک ہی باراننگزمیں5وکٹوں کی کارکردگی دکھاسکاتھا جبکہ اُن کا اسٹرائک ریٹ 40سے زائد اور اوسط ساڑھے26رنزفی اننگز سے زائد تھی۔

اس طرح وقار یونس کووہاں 17میچوں میں صرف13وکٹیں مل سکی تھیں جن میں 4+وکٹوں کی ایک بھی کارکردگی شامل نہیں ہے، انہیں یہ کامیابیاں بھی49سے زائدرنزفی وکٹ کی مہنگی اوسط سے ملیں۔ یہ آسڑیلیامیں کم ازکم پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے کسی بھی پاکستانی بولرکی بدترین اوسط بھی ہے۔

سابق پاکستانی فاسٹ بولرزمیں اگر کسی کو کینگروزکے دیس میں ہوم ٹیم کے خلاف ’’کامیاب‘‘کاٹیگ دیاجاسکتاہے تو وہ صرف شعیب اختر،سکندر بخت اور عبدالرزاق ہیں جنہیں فی وکٹ 20 یا اس سے کم رنز کے عوض ملی،وگرنہ وہاں میزبان سائیڈکے خلاف 5+وکٹیں حاصل کرنے والے 13پاکستانی بولرزمیں سے 9 کو فی وکٹ کیلئے23 سے زائد رنز دینا پڑے۔جن میں سے چارکی اوسط 30رنز فی اوسط سے بھی زائد رہی اور ان میں عمران خان، وقار یونس، سرفرازنوازاورعاقب جاوید جیسے بڑے نام موجود ہیں۔

اس طرح اگر آسٹریلوی سرزمین پر حریف ٹیم کے خلاف کم ازکم پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے 13بولروں کواسڑائک ریٹ کے پیمانے پر جانچا جائے تو جن پانچ بولروں کو فی 35بالز سے کم گیندوں پر کامیابی ملی ہے ،اُن میں سے دو حالیہ پاکستانی ٹیم کے ہیں جن میں حسن علی 21.6کے اسٹرائک ریٹ کے ساتھ کامیاب ترین پاکستانی بولرہیںجبکہ محمد عامر 31.2کے اسٹرائک ریٹ کے ساتھ پانچویں نمبر ہیں ۔

یہ ’حقائق‘دیکھ کر مجھے تو سمجھ نہیں آتاکہ ’سابق‘ کس بنیادپر اپنے جونیئرزسے اُس کام کی توقع کررہے ہیں جو اُن سے کبھی نہیں ہوسکاتھا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آج تک جن مجموعی 40پاکستانی فاسٹ بولروں کو آسٹریلیامیں بولنگ کرانے کا موقع ملا ہے،اُن میں سے صرف تین اننگزمیںپانچ وکٹوں کی کارکردگی دکھاسکے ہیں جن میں وسیم اکرم اور شعیب اختر کے بعد حسن علی تیسرے بولر بنے ہیں۔

Australia tour Table-1

بولنگ کے علاوہ ماضی کے بیٹسمینوں پر بھی نگاہ ڈالیں تو ’’ہمارے دورمیں ایساہوتاتھا‘‘ کا راگ اَلاپنے والے سابق پاکستانی ’’لے جنڈ‘‘بلے بازوں کی بھی کارکردگی ہرگزایسی نہیں رہی جس پر وہ فخر کرسکے لیکن حیران کن طورپر وہ ٹی وی اسکرینوں پر سینے چوڑے کرکے شائقین کرکٹ کو گمراہ کررہے ہوتے اور اس موضوع پر لیکچر دے رہے ہوتے ہیں کہ ’’ہم باہر کیسے کامیابیاں حاصل کرتے تھے؟‘‘

ستم ظریفی یہ ہے کہ ’’ماہر‘‘ بن کر بیٹھنے والے ان سابق کرکٹرز کے سامنے بیٹھے لکیرکے فقیر اینکرز بھی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اپنا سرہلارہے ہوتے ہیں لیکن کاش! کوئی اُن سے پوچھے کہ بھئی! ہمیں بھی تو بتائو کہ آسٹریلیامیں جاکر کونسی کامیابیاں سمیٹی تھیں؟ کیا کارنامے سرانجام دئیے تھے۔

اگر آسٹریلوی سرزمین پر میزبان ٹیم کے خلاف کم ازکم چار ون ڈے (چار ون ڈے اس لئے کیونکہ زیرنظرمضمون لکھتے وقت پاکستان اورآسڑیلیاکے درمیان حالیہ سیریز کا پانچواں ون ڈے نہیں کھیلاگیاتھااورموجودہ کھلاڑیوں کو وہاں صرف چار ہی میچز کھیلنے کومل سکے تھے) میچوں میں ٹاپ آرڈر(1-7)میں بیٹنگ کا موقع پانے والے33پاکستانی بیٹسمینوں کی اوسط کے لحاظ سے درجہ بندی کی جائے تو صرف چھ ہی بیٹسمین ایسے دکھائی دیتے ہیں جن کی اوسط 30رنز فی اننگز سے زائد تھی

Babar Azam
بابر اعظم آسٹریلیامیں میزبان ٹیم کے خلاف سب سے زیادہ اوسط سے رنز بنانے والے پاکستانی بلے باز ہیں (بمطابق 25 جنوری 2017ء)

اور ان چھ میں سے چار بلے باز حالیہ ٹورمیں پاکستانی ٹیم کا حصہ ہیںگویا اس س قبل صرف دو ہی بیٹسمین (ظہیرعباس اور عمران خان)ہی آسٹریلیامیں ایسی کارکردگی دکھا سکے تھے جس پر قدرے فخر کیاجاسکتا ہے۔وگرنہ دیگر’’عظیم بلے بازوں‘‘کیلئے تو وہاں پرفارم کرنا ایک خواب بنارہا۔

قومی ٹیم کے سب سے بڑے ناقد جاوید میانداد نے کینگروزکے دیس میں میزبان ٹیم کے خلاف کھیلے گئے25 ون ڈے میچوں میں صرف چار ففٹیوں سمیت 27.16 کی اوسط سے رنزبنائے جس میں اُن کا اسکورنگ ریٹ 60.24رہاجو وہاں 27+کی اوسط سے رنزبنانے والے تمام پاکستانی بلے بازوں میں کمترین اسٹرائک ریٹ ہے۔

اس طرح محمد یوسف وہاں 18میچوں میں صرف چارففٹیوں سمیت 26.23کی اوسط سے رنزبناسکے، عامر سہیل کی اوسط 25رنز فی اننگز تک محدودرہی۔ رمیزراجہ آسٹریلیامیں میزبان ٹیم کے خلاف13 اننگزمیں صرف ایک ففٹی سمیت 14.76رنز فی اننگزکی کمتر اوسط سے صرف192رنز بناسکے تھے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ شرجیل خان نے محض چوتھے میچ میں جتنے(74) رنز کی اننگز کھیل لی ہے،جاویدمیانداد اُن سے چھ گنازائد میچز کھیل کربھی اتنے اسکورتک نہیں پہنچ سکے جبکہ کبھی چھکا نہ لگانے والے میاندادکے آسٹریلیامیں25میچوں میں50چوکوں کے مقابلے میں شرجیل خان نے محض چار ون ڈے میں ہی 23چوکے اورپانچ چھکے لگالئے ہیں ۔

یہ اعدادوشمار ساری ’حقیقت‘ بیان کرنے کیلئے کافی ہیں لیکن اس کے باوجود یہ سابق کرکٹرز بڑی ڈھٹائی کے ساتھ نوجوان بلے بازوں پر تنقید کے ڈونگرے برسارہے ہوتے ہیں۔یہ نہ صرف موجودہ پاکستانی کھلاڑیوں بلکہ پاکستان کرکٹ اور شائقین کرکٹ کے ساتھ سراسرزیادتی اور بدیانتی ہے۔

Australia tour Table-2

سابق پلیئرز کے ’ریکارڈز‘ساری حقیقت کھول رہے ہیں کہ وہ کتنے پانی میں تھے اور انہوں نے آسٹریلیامیں کتنی ’’گراں قدر‘‘خدمات سرانجام دی تھیں۔ہمارایہاں مقصد اپنے سابق عظیم پلیئرز کونیچادکھانایا اُن کی خدمات کو فراموش کرنا نہیں لیکن اُن حقائق کو مسخ ہونے سے بچانا ہے جس کی بدقسمتی سے کوشش کی جارہی ہے۔

مثبت پہلو:
پاکستان ٹیم کی حالیہ سیریزمیں شکست کے باوجود کم ازکم مجھے حالیہ دورۂ آسٹریلیامیں اب تک کئی مثبت پہلو دیکھنے کو ملے ہیں جنہیں ہمیں سراہنا چاہیے اور اپنے پلیئرزکی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

اگلی سطور میں حالیہ دورے میں محسوس کئے جانے والے مثبت پہلوئوں پر باری باری مختصراً روشنی ڈالتے ہیں۔(واضح رہے کہ یہ مضمون پاکستان اور آسڑیلیاکے درمیان سڈنی میں کھیلے چوتھے ون ڈے میچ کے فوری بعد لکھاگیاتھا،اس میں پانچویں میچ کے اعدادوشمار شامل نہیں ہیں)

  • حالیہ ٹورمیں حسن علی سے قبل کسی بھی پاکستانی بولرکی آسٹریلوی سرزمین پر وکٹیں حاصل کرنے کی رفتار21گیندیں فی وکٹ نہیں تھی۔حسن علی نے سابقہ روایت سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی۔
  • حسن علی گزشتہ15سالوں میں آسٹریلیامیں میزبان ٹیم کے خلاف ایک میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی بولر بنے۔20جون2002ء کے بعد کوئی بھی پاکستانی بولر ایسی کارکردگی نہیں دُہراسکاتھا جبکہ اس عرصے میں عبدالرزاق ہی اننگزمیں چار وکٹیں حاصل کرنے والے واحد پاکستانی بولر تھے۔
  • بابراعظم اور شرجیل خان آسٹریلیامیں میزبان سائیڈ کے خلاف بالترتیب 45.50 اور 42.75کی اوسط سے رنزبنانے میں کامیاب رہے۔اس سے قبل کوئی بھی پاکستانی بلے باز وہاں کم ازکم چار ون ڈے میچز کھیل کر اتنی اوسط حاصل نہیں کرسکاتھا۔
  • اب تک چارمیچوں میں پاکستانی بلے بازوں کی شراکت اوسط 29.90رہی جبکہ اس سے قبل آسٹریلیامیں کسی بھی دوطرفہ سیریزمیں پاکستانی بلے بازوں کی شراکت اوسط 25رنز فی وکٹ تک بھی نہیں پہنچ سکی تھی۔
  • اس سیریزمیں پہلی چھ وکٹوں پر پاکستانی بلے بازوں کی جانب سے اب تک قائم کی گئی 7ففٹی پلس شراکتیں آسٹریلیامیں کسی بھی دوطرفہ سیریزمیں پاکستانی بلے بازوں کی سب سے زیادہ ففٹی پلس شراکتیں ہیں،اس سے قبل2009/10ء کی سیریزکے پانچ میچوں میں ایسی صرف چھ شراکتیں قائم ہوسکی تھیں۔
  • Sharjeel Khan
  • دوسری وکٹ پر پاکستانی بیٹسمینوں کی اوسط 50.75ہوچکی ہے جبکہ اس سے قبل آسٹریلیامیں کسی بھی باہمی سیریزمیں پاکستانی بلے بازوں کی دوسری وکٹ پر اوسط 28.00 رنز فی وکٹ سے آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔اس طرح سب سے زیادہ39.25کی اوپننگ شراکت اوسط بھی حالیہ سیریزکے دوران ہی حاصل ہوئی ہے۔
  • یہ پہلا موقع تھا جب 300سے زائدرنزکے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم 250رنزکاہندسہ عبورکرنے میں کامیاب ہوئی جب ان کی جانب سے سڈنی کے مقام پر354رنز کے جواب میں 267رنزبنے۔اس سے قبل 300سے زائد رنزکے مجموعے پاکستان ٹیم کا مجموعہ کبھی بھی 233رنز سے آگے نہیں بڑھ سکاتھا۔
  • حالیہ سیریزمیں پاکستانی بلے بازوں کے 12چھکے کینگروزکے دیس میں میزبان سائیڈکے خلاف کسی بھی دوطرفہ سیریزمیں چھکوں کی سب سے بڑی تعداد ہے،اس سے قبل اُن کی جانب سے ایک سیریزمیں زیادہ سے زیادہ گیارہ چھکے(پانچ میچوں میں)لگ سکے تھے۔
  • یہ پہلا موقع ہے جب آسٹریلیامیں کسی بھی باہمی سیریزمیں پاکستانی ٹیم کی مجموعی بیٹنگ اوسط 32رنز فی اننگز سے زائد ہے۔اس سے قبل اُن کی بہترین اوسط 2002ء کی تین میچوں کی سیریزمیں تھی جب پاکستانی بلے بازفی اننگز24.83رنزبنانے میں کامیاب ہوسکے تھے۔
  • حالیہ سیریزمیں اب تک کاپاکستان کا78.74کا مجموعی اسٹرائک ریٹ وہاں کھیلی گئی کسی بھی باہمی سیریزمیں پاکستان کا عمدہ ترین اسکورنگ ریٹ ہے جبکہ اس سے قبل یہ بہترین اسکورنگ ریٹ 72.01(2010ء میں)تھا۔

نوٹ: ہمارے ان اعدادوشمار اور حقائق شائع کرنے کا مقصد ہرگز سابق کرکٹرز کی تذلیل نہیں بلکہ اصل مقصد شائقین کرکٹ کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہے۔اگر آپ ہم سے متفق ہیں تو برائے مہربانی اس پوسٹ کو شیئر کرکے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ’’حقیقت‘‘ سے آگاہ کرنے کی کوشش میں ہمارا ساتھ دیں‘‘

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

ٹیم میں بڑی تبدیلیاں درکار،فی الحال کسی کا نام نہیں لیتا: انضمام الحق

پی سی بی کے چیئرمین شہریار خان کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے