Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / بلاگ / آصف کا وہاب ریاض کی بولنگ پر ’’سوئنگ‘‘اٹیک

آصف کا وہاب ریاض کی بولنگ پر ’’سوئنگ‘‘اٹیک

وہاب ریاض نے حالیہ عرصے میں جتنا وقت بیانات دینے پر ضائع کیا اگر وہ اس کا نصف بھی یہ سوچتے ہوئے اپنی بولنگ پر صرف کر دیتے کہ انہیں کامیابی کیسے مل سکتی ہے تو انہیں کافی حد تک’’ افاقہ‘‘ ہو سکتا تھا لیکن نہ جانے کیوں انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ ان کی بولنگ میں وہ جان نہیں رہی جو ایک پیسر کو عالمی کرکٹ میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آئے روز کوئی نہ کوئی سابق یا حالیہ کھلاڑی ان کی بولنگ اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے کارکردگی کا پوسٹ مارٹم کر رہا ہوتا ہے۔ تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں کینگروز کو پیس سے اُڑانے کی خواہشمند پاکستانی فاسٹ بولر وہاب ریاض کا خیال ہے کہ آسٹریلیا کو بھرپورجواب دینے کیلئے جارحانہ کرکٹ ہی بہترین آپشن ہے البتہ پاکستانی کھلاڑیوں کو اس کیلئے اپنی کارکردگی کے عروج پر جانا ہوگا ۔

آسٹریلیا میں ورلڈ کپ 2015 کے دوران اپنی بولنگ کو یاد کرنے والے فاسٹ بولر کا کہنا تھا کہ ٓاسٹریلین وکٹوں پر بولنگ کرنا ہمیشہ ہی ایک پرجوش تجربہ ہوتا ہے جہاں فاسٹ بولرز کے ساتھ بیٹنگ کے پاس بھی کچھ کر دکھانے کے مواقع ہوتے ہیں اور چونکہ ان وکٹوں میں اچھا باؤنس اور پیس ہوتا ہے لہٰذا ان کی تو یہی خواہش ہوتی ہے کہ ساری دنیا میں ایسی وکٹیں میسر آئیں۔

وہاب ریاض کے اپنے متعلق خیالات اپنی جگہ لیکن اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ پاکستانی فاسٹ بولر محمد آصف کا خیال ہی کچھ اور ہے جنہوں نے پاکستانی فاسٹ بولر کیخلاف سوئنگ اٹیک کرتے ہوئے صاف الفاظ میں یہ بات واضح کر دی ہے کہ وہاب ریاض صرف ایشیائی وکٹوں کا بولر ہے جسے بیرون ملک وکٹوں اور کنڈیشنز سے ہم آہنگی کا علم تک نہیں ہے۔

دائیں ہاتھ کے پاکستانی پیسر کی جانب سے وہاب ریاض پر یہ حملہ اس وقت کیا گیا ہے جب وہ آسٹریلیا کو صرف پیس اٹیک کی بنیاد پر اڑانے کے دعوے کر رہے ہیں۔ محمد آصف نے وہاب ریاض کو صرف ایشین وکٹوں کا بولر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی کنڈیشنز سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔

محمد آصف کا کہناہے کہ وہاب ریاض میں کنڈیشنز کے مطابق بولنگ کرانے کی صلاحیت نہیں ہے
محمد آصف کا کہناہے کہ وہاب ریاض میں کنڈیشنز کے مطابق بولنگ کرانے کی صلاحیت نہیں ہے

آصف کے مطابق انہیں نیوزی لینڈ میں وہاب ریاض کی کارکردگی دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی اور خدشہ ہے کہ آسٹریلیا کیخلاف بھی وہ ایسی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ وہاب ریاض کے مقابلے میں راحت علی کیویز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں زیادہ موثر ثابت ہو سکتے تھے کیونکہ دیگر فاسٹ بولرز کو علم تک نہیں تھا کہ کیسی لائن اور لینتھ پر بولنگ کرنا ہے جو بیٹسمینوں کے بجائے وکٹ کیپر کو بولنگ کراتے رہے۔

آصف نے مختصر الفاظ میں پاکستانی پیس اٹیک کی حقیقت کھول کر رکھ دی اور سچائی یہی ہے کہ اگر نیوزی لینڈ میں ان جیسا کوئی بولر موجود ہوتا جسے سوئنگ بولنگ پر دسترس حاصل ہے تو کیویز کو سبز وکٹ بنانے پر ہمیشہ ملال ہی رہتا لیکن خوش قسمتی سے پاکستان کے پاس وہاب ریاض جیسے بولرز ہی موجود ہیں جن کو اس بات کا علم ہی نہیں ہے کہ رفتار کے ساتھ کسی فاسٹ بولر کو سوئنگ اور سیم کی صلاحیت سے بھی کام لینا ہوتا ہے۔

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

وہاب ریاض کے والد کی طبیعت بگڑ گئی، وینٹی لیٹر پر منتقل

بلڈ پریشر کنٹرول نہیں ہورہا، فاسٹ بولر نے دعائے صحت کی اپیل کردی۔ فاسٹ بولر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے