Clicky

ہوم / اسپورٹس لنک میگزین / کیا نئے عامر میں ’پرانا‘دم خم باقی نہیں رہا؟

کیا نئے عامر میں ’پرانا‘دم خم باقی نہیں رہا؟

دوکھلاڑیوں کے عین برابرکھیلے گئے میچوں میں کارکردگی کے موازنے پرمشتمل انتہائی معلوماتی اور مقبولیت حاصل کردہ سلسلہ’’موازنہ‘‘ پاکستان میں کھیلوں کے مقبول ترین میگزین ’اسپورٹس لنک‘ میں شائع کیا جاتا ہے۔

تازہ ایڈیشن میں شائع ہونے والے اس سلسلے میں دوپلیئرزکے بجائے ایک ہی پلیئرکو منتخب کیاگیاہے جس پر حالیہ دنوں میں خاصی بحث ہورہی ہے کہ وہ 2010ء میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں اُلجھنے کے بعد پابندی کا شکارہونے سے قبل جیسی کارکردگی نہیں دکھارہا۔

26فروری تا4مارچ 2017ء ہم ’’موازنہ‘‘ میں آپ کی خدمت میں پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامرکی 2010ء تک اور 2016ء سے اب تک کی کارکردگی کاجائزہ پیش کررہے ہیں جس سے آپ جان حقیقی معنوں میں کہہ سکیں گے کہ وہ پہلے جیسا بولررہاہے یا نہیں؟

ٹیسٹ موازنہ:

4جولائی 2009ء کو سری لنکاکے خلاف گالے کے مقام پر ٹیسٹ کیریئرکا آغازکرنے والے محمد عامر نے ڈیبیوٹیسٹ کی دونوں اننگزمیں تین تین وکٹیں حاصل کرکے ’اُجلی یونیفارم‘ کے کیریئر کا آغازکیاتھاجس کے بعد وہ دورۂ سری لنکا کے اگلے دونوں ٹیسٹ میچوں کی چار اننگزمیں ایک بھی وکٹ حاصل نہیں کرسکاتھا۔

پاکستان ٹیم میں واپسی کے بعد محمد عامر توقعات پر مکمل طورپر پورا نہیں اُتر سکے

اسی سال نیوزی لینڈکے ٹورمیں بھی وہ کسی اننگزمیں دو سے زائد وکٹیں حاصل کرنے میں ناکام رہاتھا ۔بعدازاں اسی سال کے آخرمیں آسٹریلیامیں شروع ہونے والی ٹیسٹ سیریزکے باکسنگ ڈے ملبورن ٹیسٹ میں اُس نے پہلی بار اننگزمیں پانچ وکٹوں کا کارنامہ سرانجام دیاجبکہ اس سے قبل کھیلے گئے پہلے چھ ٹیسٹ میچوں میںانہوں نے 80.7کے اسٹرائک ریٹ اور 43.61کی مہنگی اوسط سے صرف13وکٹیں حاصل کی تھیں۔

کیریئرکے ساتویں ٹیسٹ میچ سے محمد عامرکی بولنگ میں جادوئی اثرانگیزی دیکھنے کوملی جس نے دورۂ آسڑیلیا کے بعد اگلے دورۂ انگلینڈمیں معطل ہونے سے قبل شاندارکارکردگی دکھاتے ہوئے آسٹریلیاکے خلاف لارڈزاورلیڈزکے نیوٹرل وینیوز پر کھیلے گئے دو ٹیسٹ میچوں میں 4/72،0/67، 3/20اور 4/86کی کارکردگی سمیت گیارہ وکٹیں حاصل کیں

ٹیم میں کم بیک کے بعد محمد عامر کی خصوصاً ٹیسٹ میچوں میں کارکردگی میں کافی جھول آیا ہے

اورپھر میزبان انگلینڈکے خلاف اوول اورلارڈزٹیسٹ کی واحد اننگزمیں 5/52اور 6/84کی کیریئر بیسٹ کارکردگی دکھاکر اپنی اہلیت ثابت کی مگر اسی لارڈزٹیسٹ میں اسپاٹ فکسنگ کیس میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے سبب وہ آئی سی سی کی جانب سے کرکٹ سرگرمیوں سے فوری معطل ہوگیاجسے بعدازاں پانچ سال پابندی کی سزا سنائی گئی۔

عامر نے معطلی سے قبل آخری آٹھ ٹیسٹ میچوں میں 24.13کی عمدہ اوسط اور47.8کے عمدہ اسٹرائک ریٹ سے 38وکٹیں حاصل کرکے خودکو ورلڈکلاس بولر ثابت کردیاتھا۔اس کارکردگی کے سبب وہ کیریئر میں پہلی بار ٹاپ ٹین بولرزمیں شامل ہوتے ہوئے آئی سی سی ٹیسٹ بولنگ رینکنگ میں آٹھویں درجے پر براجمان ہوگیاتھاجوعالمی نمبر3محمد آصف کے بعد کسی بھی پاکستانی بولرکی بہترین بولنگ رینکنگ تھی جبکہ موجودہ وقت میں وہ 53ویں پوزیشن پرموجود ہے۔

2010ء کے لارڈز ٹیسٹ کے بعد پابندی کاشکارہونے تک محمد عامرنے مجموعی طورپر 14ٹیسٹ میچوں میں 29.09کی اوسط سے 51وکٹیں حاصل کی تھیں۔

جولائی2016ء میں عامرکاعین اُسی حریف اور وینیو(لارڈز)پرٹیسٹ کرکٹ میں کم بیک ہوا جہاں چھ سال قبل اُس نے اپنی اُجلی یونیفارم کوفکسنگ کے ’اسپاٹ‘سے داغ دار کردیاتھا۔ تب سے اب تک وہ اپنے گیارہ ٹیسٹ میچوں میں41.60کی اوسط 80.8کے اسٹرائک ریٹ سے صرف 30وکٹیں حاصل کرسکاجس میں اننگزمیں پانچ وکٹوں کا ایک بھی کارنامہ شامل نہیں جبکہ چار وکٹوں کی بھی صرف ایک کارکردگی شامل ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کے بعدمحمد عامر کے پہلے چار اور آخری سات ٹیسٹ میچوں کا موازنہ کیاجائے تواُس کے اعدادوشمارمیں معمولی سی بہتری ضرور آئی ہے لیکن یہ فرق اتنا زیادہ نہیں کہ اسے حقیقی بہتری کہاجاسکے۔

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

شاہد آفریدی اور شرجیل خان میں کون بڑا ہٹر؟

پاکستا ن میں کھیلوں کے سرفہرست میگزین ’’اسپورٹس لنک‘‘ نے اپنے تازہ ایڈیشن (5 تا11 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے