Clicky

ہوم / اہم موضوعات / محمد یوسف کی مصباح الحق پر تنقید، حقیقت یا بغض؟

محمد یوسف کی مصباح الحق پر تنقید، حقیقت یا بغض؟

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بیٹسمین محمد یوسف نے حالیہ دورۂ ویسٹ انڈیزمیں ون ڈے سیریزمیں شاندار کامیابی کے باوجود سینئر بیٹسمینوں پر خودغرضی کا الزام لگایا جن کا کہناتھا کہ ویسٹ انڈین بولنگ کافی کمزور تھی ۔اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے بیٹسمینوں کو زیادہ بہتر رن ریٹ سے رنز کرنے چاہئیںتھے۔

انہوں نے مصباح الحق کے متبادل کی تلاش کو بھی آسان کام قرار دیا۔سابق کپتان وبلے باز کے اس ’’تجزئیے‘‘ کو ہم اپنے نئے سلسلے ’’کیا صحیح کیا غلط ؟ ‘‘ میں شامل کررہے ہیں جس سے آپ جان سکیں گے کہ اُن کی تنقید درست ہے یا پھر محض لاعلمی یا ذاتی عناداوربغض کا عمل دخل ہے؟

پہلے محمدیوسف کا بیان پڑھیں

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ومڈل آرڈر بیٹسمین محمد یوسف جتنے بڑے پلیئرتھے بدقسمتی سے اُن کے دل میں بغض بھی اُتنا ہی بڑاہے۔جس نے ہمیشہ اُن کی عظمت اور وقارکونقصان پہنچایا ہے لیکن بدقسمتی سے اُن کے بغض میں کوئی کمی واقع نہیں ہورہی۔

2007ء میں اپنی جگہ ورلڈٹی ٹوئنٹی کیلئے مصباح الحق کو ٹیم میں شامل کئے جانے کے بعد سے مسلسل مسائل کا شکار رہنے والے محمد یوسف سمجھتے ہیں کہ اُنہیں ٹیم سے باہر کرانے کی وجہ مصباح الحق ہی تھے حالانکہ درحقیقت، ٹوئنٹی20کرکٹ کھیلنے کی اَنا نے اُنہیں کہیں کا نہیں چھوڑاتھا۔

یہ تصویر شاید شائقین کرکٹ کو 2007ء میں محمدیوسف کے ’’وفاداری بونس‘‘ کی یاد دلادے

یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ تاریخ کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان پر تنقید کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ورلڈٹی ٹوئنٹی2007ء کیلئے ٹیم میں جگہ نہ بناپانے پر محمدیوسف نے پاکستان کرکٹ کو خیربادکہہ کر باغی لیگ آئی سی ایل جوائن کرلی تھی حالانکہ اُس میگاایونٹ میں جیک کیلس،سچن ٹنڈولکر، راہول ڈریورڈجیسے بڑے نام بھی اپنی اپنی ٹیموں سے ڈراپ ہوئے تھے تاہم سبھی نے بھانپ لیاتھا کہ وہ شاید اس فارمیٹ کیلئے موزوں نہیں ہیں لیکن محمدیوسف کو یہ بات سمجھ نہ آئی۔

آئی سی ایل جوائن کرنے کے سبب پاکستان ٹیم محمدیوسف کی خدمات سے محروم ہوئی تو اُس وقت کے چیئرمین پی سی بی نسیم اشرف نے خصوصی طورپر محمدیوسف کو ’’دوکروڑروپے‘‘ کے عوض منایا۔ جس کے عوض انہوں نے آئی سی ایل چھوڑ کر پاکستان ٹیم کیلئے اپنی خدمات پیش کرنے کی حامی بھری۔

اس رقم کو ’’وفاداری بونس‘‘کا نام دیاگیا اس لئے ایسے شخص جو ٹیم کا وفادار بننے کیلئے دو کروڑ لے اور پھر بھی وفا نہ کرے ،اُس کے منہ سے دوسروں پر ٹیم کے بجائے اپنے کیلئے کھیلنے کے الزامات اچھے نہیں لگتے۔

بہرحال! بات آگے بڑھاتے ہیں ’’ وفاداری بونس ‘‘وصول کرنے کے بعد محمدیوسف کو یواے ای میں شیڈول سیریزکیلئے پاکستانی اسکواڈ میں بھی شامل کرلیاگیا لیکن وہ پی سی بی کو چکمہ دیکر اگلے روز آئی سی ایل میں کھیلتے دکھائی دئیے۔یوں پی سی بی محمدیوسف کی لالچ کے سبب نہ صرف بڑے بیٹسمین کی خدمات سے محروم ہوا بلکہ خزانے سے دوکروڑروپے بھی چلے گئے۔

اس واقعے کو بتانے کا مقصد محمد یوسف کی منفی سوچ کا اندازہ لگانا ہے۔اب ذرا محمد یوسف کے حالیہ بیان کے ’’حقائق‘‘کی جانب آتے ہیں۔

موصوف کا کہناہے کہ حالیہ سیریزمیں پاکستانی سینئر بلے باز ٹیم کے بجائے اپنی ذات کیلئے کھیلتے رہے۔اگر اُن کا اشارہ احمد شہزاد اور کامران اکمل کی جانب ہے توکسی حد درست تسلیم کیا جاسکتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں اپنی کم بیک سیریز کھیل رہے تھے جبکہ جہاں تک ’’سینئر ترین کرکٹرز‘‘کی بات ہے تو اس سیریز کے ٹاپ اسکورزدونوں پاکستانی سینئر پلیئرز ہی تھے جن میں محمد حفیظ نے سب سے 201رنز 67کی اوسط اور 88سے زائد کے اسٹرائک ریٹ سے بنائے جبکہ 81سے زائد اوسط سے163رنزکے ساتھ سیریزکے دوسرے ٹاپ اسکورر شعیب ملک کا اسٹرائک ریٹ 98.19رہا جو سیریزمیں90+رنزبنانے والے بلے بازوں میں محض جیسن محمد کے بعد سب سے عمدہ اسٹرائک ریٹ تھا۔

اب مصباح الحق کی جانب آتے ہیں کہ اُن کا متبادل بقول محمد یوسف تلاش کرنا مشکل کام نہیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم جب بھی مصباح الحق کے کیریئرپر نگاہ ڈالتے ہیں تو اُن کی انفرادی کارکردگی کے بجائے ہمیشہ بطور لیڈراورکھلاڑیوں کو یکجاکرکے اُن سے کام لینے کی صلاحیت سب سے آگے آتی ہے۔بات آگے بڑھانے سے پہلے صرف درج ذیل چند حقائق پر نگاہ ڈالتے ہیں …

  • ۔ مصباح الحق کے علاوہ آج تک کوئی بھی کپتان پاکستان کو جنوبی افریقی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز نہیں جتواسکا۔
  • ۔ کسی بھی دوسرے پاکستانی کپتان نے انگلینڈکیخلاف ٹیسٹ سیریز میں کلین سوئپ نہیں کیا۔
  • ۔ کوئی دوسرا کپتان پاکستان کوآئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں نمبرون پوزیشن پر نہیں پہنچاسکا۔
    گزشتہ چھ سالوں میں مصباح الحق اپنے ملک سے باہر سب سے زیادہ ٹیسٹ جیتنے والے کپتان ہیں جبکہ تناسب کے اعتبار سے محض گریم اسمتھ اور ویرات کوہلی کے بعد دوسرے نمبرپر ہیں
  • ۔ کوئی بھی دوسرا پاکستانی کپتان ٹیم کو اپنے ملک سے باہر 7سے زائد ٹیسٹ فتوحات نہیں دلاسکا جبکہ مصباح الحق کی قیادت میں یہ کارنامہ24بار سرانجام دیاگیا جوکسی بھی دوسرے پاکستانی کپتان سے تین گناسے بھی زائد کامیابیاں ہیں۔
  • ۔ کوئی دوسرا پاکستانی کپتان گرین کیپسکو 14سے زائد فتوحات نہیں دلاسکا جبکہ مصباح الحق ویسٹ انڈیز کے خلاف حالیہ سیریز سے قبل ہی یہ کارنامہ 24 بار سرانجام دے چکا ہے۔
  • ۔ کوئی بھی دوسرا پاکستانی کپتان 50میچوں میں ٹیم کی قیادت کا اعزاز نہیں پاسکا۔
  • ۔ کسی بھی دوسرے پاکستانی کپتان کی سیریز فتوحات (جیتی گئی سیریز)کی تعداد مصباح الحق کے قریب تربھی نہیں ہے۔
  • ۔ 1982ء کے بعد کوئی بھی دوسرا پاکستانی کپتان آسٹریلیاکے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کلین سوئپ نہیں کرسکا (مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان ٹیم نے 2014ء میں 2-0 سے کامیابی حاصل کرکے یہ اعزاز پایاتھا)

ان تمام تر اعزازات کے باوجود اگر محمدیوسف سمجھتے ہیں کہ مصباح الحق کا متبادل تلاش کرنا زیادہ مشکل نہیں تو ہمیں اُس کی ذہنی صحت کیلئے دعاکرنی چاہیے۔یہ بیان محض ذاتی اَنا اور بغض سے زیادہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ہوسکتاہے کہ کچھ لوگ یہاں میری بات سے اختلاف کریں لیکن وہ صرف اس سوال کا جواب دیں کہ کیریئر کے آخری سالوں میں عمران خان کی انفرادی کارکردگی کیاتھی؟ لیکن کیابطور کپتان ہمیں اُن کا متبادل دوبارہ کبھی ملا؟

اگر ہم ریکارڈبک کو مزید کھنگالیں تو بطورکپتان مصباح الحق کے بطورکپتان مزید کئی ریکارڈز اور اعزازات بھی سامنے آجائیں لیکن ہم یہاں محمدیوسف کے بیان کے تناظر میں مصباح الحق کی انفرادی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔

گزشتہ چھ سالوں(2011ء سے)پاکستانی بلے بازوں کے ٹاپ ٹیسٹ بیٹسمینوں پر نگاہ ڈالیں تو مصباح الحق رنزکے اعتبار سے تیسرے اور اوسط کے اعتبار سے دوسرے بہترین پاکستانی بلے باز ہیں ۔اس عرصے میں پاکستان کے صرف چار بلے بازوں یونس خان، اظہر علی ، مصباح الحق اور اسدشفیق نے 3ہزار رنزکا سنگ میل عبورکیاہے۔ان چارمیں سے دو بیٹسمین ٹیم سے باہر چلے جاتے ہیں توٹیم کی ممکنہ درپیش مشکلات کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔

اول تو محمدیوسف کا یہ کہناہی غلط ہے کہ اظہرعلی اور اسدشفیق مصباح الحق سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں تو کپتان کا متبادل تلاش کرنا مشکل کام نہیں ہوگا۔یہ دونوں پلیئرتوپہلے ہی ٹیم کا حصہ ہیں اور تواتر کے ساتھ ٹیسٹ کھیل رہے ہیں۔

ظاہر ہے مصباح الحق کا متبادل ان دونوں کے علاوہ ہی ہوگا ناں کہ یہی پلیئرز اُن کے متبادل بنیں گے جو پہلے ہی ٹیسٹ ٹیم کا مستقل حصہ ہیں؟اس تناظر میں محمدیوسف کا بیان ہی انتہائی بچکانہ اور ناقابل بحث لگتاہے لیکن قارئین کو حقائق سے باخبر رکھنے کیلئے میں اس حوالے سے کچھ اعدادوشمار پیش کرنے مجبورہوں۔

مصباح الحق 2011ء سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ 62 چھکے لگانے والے بلے باز ہیں جن کے بعد صرف یونس خان (41)ہی اُن کے دوسرے ایسے ساتھی ہیں جو25 سے زائد چھکے لگاسکے ہیں۔

اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ حریف ٹیم کو کم وقت میں زیادہ ٹارگٹ دینے کی کوشش میں پاکستان کے اس فارمیٹ میں کوئی بھی مصباح الحق جیساکردار ادانہیں کررہا جو بوقت ضرورت نہ صرف محتاط بیٹنگ کرسکے بلکہ جارحانہ اندازاختیارکرکے کم وقت زیادہ رنز بناکر حریف ٹیم کو دبائو میں لاسکے۔ جس کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ چھ سالوں سے پاکستان کی جانب سے 115+کے اسٹرائک ریٹ سے صرف دو ہی ففٹی پلس اننگز کھیلی گئی ہیں جو دونوں ہی مصباح الحق نے کھیلی ہیں۔

دوسری اہم ترین بات مستقل مزاج کارکردگی ہے۔2011ء سے مصباح الحق نے سب سے زیادہ 37ففٹی پلس اننگز کھیلی ہیں جس کے بعد اظہرعلی32،یونس خان 28اور اسد شفیق 27ایسی اننگز کھیل سکے ہیں۔اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ مصباح الحق محض بڑے اسکورز کرکے شہ سرخیوں میں جگہ بنانے کے بجائے تواتر کے ساتھ ٹیم کے کام آتے ہیں۔

گزشتہ چھ سالو ں میں مصباح الحق اپنی89اننگزمیں 22بار سنگل ڈیجٹ اسکورزپر آئوٹ ہیں جو اس عرصے میں 60سے زائد اننگزکھیلنے والے پاکستانی بلے بازوں میں محض یونس خان کے بعد کمترین سنگل ڈیجٹ اسکورزہیں جبکہ اس عرصے میں اسدشفیق اور اظہرعلی نے سب سے زیادہ 27،27بار جلد آئوٹ ہوکر ٹیم کو دبائو میں مبتلاکیا۔

ایک بار ڈبل ڈیجٹ اسکور میں داخل ہوجانے کے بعد مصباح الحق نے اپنے ساتھی بلے بازوں کی نسبت 50سے کم اسکورسے قبل کم ہی ہمت ہاری ہے۔جس کی تفصیل آپ ذیل میں دئیے گئے چارٹ میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

loading...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے