Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / ممالک / پاکستان / شہریار اور مکی آرتھر نے انضمام کو ’ناک آئوٹ‘ کردیا

شہریار اور مکی آرتھر نے انضمام کو ’ناک آئوٹ‘ کردیا

شاید پاکستان کرکٹ کے دو بڑوںمیں پاکستانی ٹیم کی قیادت کے بارے میں جاری ’’خفیہ‘‘ چپقلش کا انجام ہو چکا ہے کیونکہ ٹیسٹ کپتان مصباح الحق نے ویسٹ انڈیز کے دورے پرجانے کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ ان کی فارم بھی بحال ہونے لگی جبکہ انہیں لطف بھی حاصل ہو رہا ہے۔

خوشی کے عالم میں ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے بھی ٹیسٹ کپتان کی عظمت اور بڑائی کے ڈھول پیٹتے ہوئے یہ خیال ظاہر کر دیا ہے کہ مصباح الحق جب بھی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کریں تو انہیں شایان شان طور پر رخصت کیا جائے، وہ آئندہ کچھ دنوں میںہونے والی ملاقات کے دوران ان کا ارادہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ وہ اپنے کیریئر کو کہاں تک لے جانے بلکہ’’ گھسیٹنے‘‘ کا رادہ رکھتے ہیں۔

ہیڈ کوچ مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ مصباح الحق سے انہوں نے گزشتہ دنوں بھی ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے پاکستان سپر لیگ کے اختتام تک اپنی فارم اور اعتماد کو پرکھنے کیلئے وقت مانگا تھا، آئندہ چند روز میں وہ ریٹائرمنٹ کے معاملے پر دوبارہ ٹیسٹ کپتان سے تبادلہ خیال کریں گے اور کوشش ہو گی کہ ان سے ریٹائرمنٹ کے ارادوں پر بات کی جائے کہ وہ اب کیا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  شرجیل نے غلط کیایانہیں؟ صوفی جمیل نے سب بتادیا

مکی آرتھر کے مطابق بہترین کارکردگی کے مالک مصباح الحق پاکستان کرکٹ کے لیجنڈ ہیں جن کی خدمات کو سراہنا چاہئے، بہتر ہوگا کہ انہیں شاندار انداز سے الوداع کہا جائے خواہ وہ کسی بھی وقت کھیل سے علیحدگی کا فیصلہ کریں کیونکہ اس بات کا تعین انہیں خود ہی کرنا ہے لیکن اس بات کا فیصلہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جنہیں اپنے کپتان کو الوداع کہنا ہے۔

مصباح الحق دورۂ ویسٹ انڈیز تک اپنے ٹیسٹ کیریئر کو بڑھانا چاہتے ہیں

اگر صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو زائد العمر کپتان کی جانب سے کیریئر کو طول دینے کی خواہش ہیڈ کوچ اور پی سی بی چیف کی کامیابی ہے جنہوں نے چیف سلیکٹر کو ناک آؤٹ کردیا جو تینوں فارمیٹ کے ایک کپتان کی بین پر سرفراز احمد کو نچانے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہوں نے ایسا کرتے ہوئے ان مضمرات کو جانچنے اور بھانپنے کی کوشش تک نہیں کی جن کا بھگتاوا پاکستان کرکٹ ماضی میں اُٹھا چکی ہے۔

دوسری جانب حیران کن طور پر ٹیسٹ کپتان مصباح الحق نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ وہ مارچ میں ویسٹ انڈیز کے دورے پر جا سکتے ہیں کیونکہ ریٹائرمنٹ سے قبل پی سی بی نے ان کیلئے ایک اور سیریز کا دروازہ کھلا رکھا ہے جس سے منہ نہیں موڑا جا سکتا۔

مصباح الحق کا خیال ہے کہ حالیہ خراب فارم کے بعد انہیں اپنا فیصلہ مشکل لگ رہا تھا لیکن اب حالات پہلے سے کافی بہتر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میدان کے وسط میں وقت گزارنے کے بعد اندازہ ہوا کہ وہ بال کو مہارت سے ہٹ کرنے میں کامیاب ہیں جس کیلئے پی ایس ایل سے قبل پریکٹس میچوں نے بہتری کی راہ ہموار کی اور اب ان میں ہر دن کے بعد اعتماد پیدا ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ چیئرمین پی سی بی بھی کھیل سے ریٹائرمنٹ کا معاملہ مصباح الحق پر چھوڑ چکے ہیں، ان کا حالیہ بیان میں کہنا تھا کہ وہ قومی ٹیسٹ کپتان کے کسی بھی فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور اگر وہ مزید کھیلنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں تو وہی ہمارے کپتان ہوں گے۔

ہمیں اس بات پر قطعی کوئی اعتراض نہیں کہ مصباح الحق اپنا کرکٹ کیریئر جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن کیاانہیں خود اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ ان کی کپتانی نے ٹیسٹ میں پاکستان کو عالمی نمبر ایک بنایا تو اسے وہ چھوڑتے وقت چھٹے یا پانچویں نمبر پر ہی ہوں گے جسے کوئی بڑا کارنامہ نہیں کہا جا سکتا ۔

کیا اس بات سے بھی انکار ممکن ہے کہ یہ مصباح الحق کا ہی کیا دھرا تھا کہ وہ ون ڈے ٹیم کو اپنی دفاعی حکمت عملی کے ساتھ ایک ایسے موڑ پر چھوڑ کر گئے جس سے وہ تنزلی کے ’’انتہائی‘‘کنارے پر جا کر کھڑی ہوئی۔

فی الوقت مکی آرتھر تینوں فارمیٹس کیلئے ایک کپتان کے انضمام الحق کے ’’نظریئے‘‘ کے حامی دکھائی نہیں دیتے

سونے پہ سہاگہ یہ کہ انہوں نے اس وقت اظہرعلی کو اپنی جگہ آگے بڑھانے میں اہم کردار نبھایا مگر آج وہ ون ڈے کپتان کی سبکدوشی کے بعد خاموش ہیں کیونکہ یہ ان کی اور اظہر علی کی اجتماعی دفاعی کاوش کا نتیجہ ہے کہ پاکستانی ٹیم ایک ایسے ٹیلے پر کھڑی ہے جہاں سے پاؤں پھسلتے ہی وہ ورلڈ کپ کوالیفائنگ کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرے گی اور اسے سنبھالنے میں ناکامی کا شکار ہونے والے محض تماشہ دیکھتے رہ جائیں گے۔

اگر مصباح الحق اپنا کیریئر عزت کے ساتھ ختم کرنا ہی چاہتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ اب ویسٹ انڈیز جانے کا جشن مناتے ہوئے ہیڈ کوچ کو بھی بغلیں نہ بجانے دیںاور یہ فرض کسی ایسے کھلاڑی کے حوالے کر دیا جائے جو سرفراز احمد کی پختگی تک اس منصب کو سنبھال سکے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی بدقسمتی ہے کہ اس کے بل پر اپنی اناء کی جنگ لڑنے والے اس بارے میں سوچنے کی بھی زحمت نہیں کر رہے کہ ٹیم کا ستیا ناس ہو چکا ہے، اگر اب بھی درست فیصلے نہ کئے گئے تو اسے نچلے درجوں کی پاتال سے نکالنا مشکل ہو جائے گا، اس کی ذمہ داری انہیں ہی قبول کرنا ہوگی جو اس معاملے پر اپنا طرہ بلند رکھنا چاہتے ہیں۔

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

’’لالہ‘‘ کا دیرینہ خواب حقیقت میں ڈھلنے کے قریب!!

پی سی بی کے دو بڑوں کے درمیان بہت سارے پہلوؤںپر اختلاف میں سے ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے