Clicky

ہوم / ممالک / آسٹریلیا / مصباح الحق کیلئے نئی تاریخ رقم کرنے کا موقع
پاکستانی کپتان مصباح الحق کلئے حالیہ دورۂ آسٹریلیامیں فاتح بن کر لوٹنے والے پہلے پاکستانی کپتان بننے کا موقع ہے

مصباح الحق کیلئے نئی تاریخ رقم کرنے کا موقع

کینگروزکے دیس میں21سال سے فتح کیلئے ترسی پاکستان ٹیم کوتاریخ بدلنے کا چیلنج درپیش ہے، فتح سے رینکنگ بھی بہتر ہوگی

پاکستان کرکٹ ٹیم آج( 15جون) سے آسٹریلوی سرزمین پر اپنی 12ویں ٹیسٹ سیریز کا آغاز کرچکی ہے،اس سے قبل پاکستان ٹیم کینگرودیس میں کبھی ٹیسٹ سیریز نہیں جیتی جو اپنی گزشتہ گیارہ کوششوںمیں پاکستان ٹیم ’’سیریز ڈرا‘‘سے بہتر نتیجہ حاصل نہیں کرپائی ہے اوراُس نے یہ ’’کارنامہ ‘‘بھی 1979ء میں آخری بارسرانجام دیاتھا جس کے بعد سے وہاں کھیلی گئی گزشتہ ساتوں ٹیسٹ سیریز میں شکستیں ہوئی ہیں،اس سے بھی مایوس کن بات وہاں 1999ء سے کھیلی گئی آخری تینوں سیریزمیں ہونے والے کلین سوئپس ہیں۔

جہاں وسیم اکرم،انضمام الحق اور محمدیوسف کی کپتانی میں پاکستان ٹیم کو بدترین شکستوں کا سامناکرناپڑا ۔پاکستان ٹیم اس بار مصباح الحق کی قیادت میں فتح کا خواب لئے آسٹریلیاپہنچی ہے جو کینگروزکے دیس میں پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کرنے والے دسویں پاکستانی کپتان بن جائیں گے۔

اس سے قبل کینگروزکا دیس بطور بیٹسمین بھی مصباح الحق کیلئے اچھا نہیں رہا جہاں وہ 2009/10ء کے آخری دورۂ آسٹریلیاکے دونوں ٹیسٹ میچوں میں’’گولڈن ڈک‘‘ سمیت ایک ایک بارصفرکی خفت سے دوچار ہونے کے علاو ہ 11اور65رنز کی اننگز کھیل سکے تھے ۔

اس لئے حالیہ دورہ ٔ آسٹریلیامیں اُن کے پاس آخری موقع ہوگا کہ وہ وہاں اپنا انفرادی ریکارڈ بہتربنانے کے ساتھ ساتھ ٹیم کو بھی 21سال بعد پاکستان کو فتح سے ہمکنار کرائیں جہاں آخری بار 1995ء میں وسیم اکرم کی قیادت میں پاکستان ٹیم نے سڈنی کے مقام پر میزبان ٹیم کے خلاف فتح حاصل کی تھی۔

پاکستان ٹیم کیلئے60’اور70’ء کی دہائی کے آسٹریلیاکے دورے قدرے بہتر تھے جب ان دو دہائیوں میں کئے گئے چار دوروں میں پاکستان ٹیم کو صرف ایک بار ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔

table-1
مندرجہ بالاچارٹ سے پھیلنے والی پاکستانی شائقین کی مایوسی کو2010ء اور بعدمیں آسٹریلیا سے باہر کھیلی جانیوالی ٹیسٹ سیریزکے ’’نتائج‘‘ سے کم کیاجاسکتا ہے کیونکہ 2010ء میں انگلینڈکے نیوٹرل وینیوزپرکھیلی گئی کینگروزکے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریزپاکستان ٹیم نے 1-1 سے برابرکی تھی جس کے بعد 2014ء میں یواے ای میں کھیلی گئی دومیچوں کی سیریزمیں 2-0 سے کامیابی سمیٹی تھی۔

ماضی کے بدترین نتائج کے برعکس پاکستانی شائقین اس دورۂ آسٹریلیامیں اپنی ٹیم سے اچھی کارکردگی کی توقع کرسکتے ہیں جس کی بڑی وجہ میزبان ٹیم کا ماضی کی طرح مضبوط نہ ہونا ہے جسے گزشتہ دونوں اَوے اینڈ ہوم ٹیسٹ سیریزمیں بدترین شکستیں ہوچکی ہیں ۔

اگر پاکستان ٹیم نے حالیہ دورۂ نیوزی لینڈمیں کی جانے والی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اپنی کوتاہیوں پرقابو پالیا تو یہ مصباح الحق الیون کیلئے کینگروزکے دیس میں نئی تاریخ رقم کرنے کا بہترین موقع ہوگاکیونکہ اس سے قبل کوئی بھی پاکستانی کپتان وہاں طویل دورانئے کے میچوں کی سیریزمیں فاتح نہیں بن سکاہے۔

مشتاق محمد واحد پاکستانی کپتان ہیں جنہیں آسٹریلیامیں ایک سے زائد بار فاتح بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔اُن کی قیادت میں پاکستان ٹیم نے وہاں پرکھیلے گئے پانچ ٹیسٹ میچوں میں دوشکستوں کے بعد دو فتوحات حاصل کیں جبکہ ایک ٹیسٹ ڈراکیا۔

مشتاق محمد کے علاوہ کینگروز کے دیس میں پاکستان ٹیم کی قیادت کا اعزاز حاصل کرنے والے دیگر 8پاکستانی کپتانوں میں سے صرف جاویدمیانداد اور وسیم اکرم کو ہی وہاں ایک ایک فتح نصیب ہوسکی جبکہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان ٹیم نے وہاں سب سے زیادہ تین ٹیسٹ ڈراکئے۔

table-2

پاکستان ٹیم موجودہ وقت میں آسٹریلیاکا اُس وقت دورہ کررہی ہے جب وہ ٹیسٹ سائیڈ کے طورپرکافی حد تک سیٹ اور فتح گر جتھے کی شکل میں موجود ہے جس نے حالیہ دورۂ نیوزی لینڈ سے قبل اس فارمیٹ میں شاندار کارکردگی کامیابیاں حاصل کرکے خودکو دُنیاکی نمبرون ٹیسٹ ٹیم بنایا لیکن ویسٹ انڈیزکے خلاف یواے ای سیریزکے آخری ٹیسٹ میں شکست کے بعد نیوزی لینڈکے دونوں میچوں میں ہونے والی شکستوں نے اُسے آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں چوتھے نمبرپر دھکیل دیاہے۔

یہ حقیقت ہے کہ آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں دوسری سے پانچویں پوزیشن تک محض تین پوائنٹس کے فرق کے سبب پاکستان کیلئے دوبارہ عالمی نمبر2ٹیم بننا زیادہ مشکل بھی نہیں ہے جس کیلئے پاکستان کوحالیہ دورۂ آسٹریلیامیں کسی بھی مارجن سے ہرانا درکار ہے۔

آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں موجودہ وقت میں پاکستان سے ایک درجہ اوپر موجود آسٹریلوی ٹیم کو اگرچہ ہوم کنڈیشنزکا بھرپور ایڈوانٹیج حاصل ہوگا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں اب وہ پہلے جیسی مضبوط سائیڈ نہیں ہے کہ اُسے ’’ناقابل تسخیر‘‘کہاجائے۔

آسٹریلیا نے 2014/15ء ہوم سیریزمیں بھارت کو ہرانے کے بعد اگلی سات ٹیسٹ سیریزمیں ماسوائے چھٹے درجے کی نیوزی لینڈ اورنویں پوزیشن کی حامل ویسٹ انڈیزکے،کسی بڑی ٹیم کو ٹیسٹ سیریزنہیں ہراسکی ہے۔جسے اس دوران انگلینڈ،سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلی گئی سیریزمیں ناکامیوں کا سامناکرنا پڑاہے۔

دوسری جانب، پاکستان ٹیم کو 2015ء سے کھیلی گئی چھ ٹیسٹ سیریزمیں ماسوائے نیوزی لینڈکے خلاف حالیہ سیریزکے،کسی سیریزمیں ناکامی کا سامنانہیں کرناپڑا جس نے اس عرصے میں بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیزجیسی لو-رینک ٹیموں کے علاوہ سری لنکا اور انگلینڈکو شکست دی ہے جبکہ انگلش کنڈیشنز میں بھی سیریز برابرکی۔

نہ صرف سیریز بلکہ میچ بائی میچ نتائج میں بھی پاکستان نے گزشتہ دو سالوں کے دوران آسٹریلیاکے مقابلے میں بہتر نتائج دئیے ہیں جبکہ اگر ’’ہوم ایڈوانٹیج‘‘کو نکال کر اَوے اور نیوٹرل میچوں میں نتائج کی بنیاد پر دونوں ٹیموں کو پرکھا جائے تو مصباح الحق الیون ،آسٹریلیا سے کہیں بہتر سائیڈ دکھائی دیتی ہے تاہم یہ ’امتیاز‘ برقرار رکھنے کیلئے حالیہ دورۂ آسٹریلیامیں وہ نتائج حاصل کرنا ہوں گے جو اس سے قبل کوئی اور پاکستانی ٹیم حاصل نہیں کرسکی ہے۔

table-3

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

چیمپئنزٹرافی کی کوریج پر خاص ایڈیشن شائع ہوگیا

پاکستا ن میں کھیلوں کے سرفہرست میگزین ’اسپورٹس لنک‘ کا جون 2017ء کا ایڈیشن3 (18تا24جون) …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے