Clicky

ہوم / اہم موضوعات / انٹرویوز / ’’پاکستان چھوڑ کر کہیں اورنہیں جارہا‘‘: جنیدخان

’’پاکستان چھوڑ کر کہیں اورنہیں جارہا‘‘: جنیدخان

26سالہ جنید خان کا شمار پاکستان کے باصلاحیت اور ہونہار فاسٹ بولرز میںکیا جاتا ہے، وہ جون 2015 تک قومی ٹیم میںمستقل جگہ بنائے رکھنے میںکامیاب رہے۔اس کے بعدانہیں اسکواڈ میںاپنی جگہ برقرار میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کی بڑی وجہ ان کی انجریز تھیں۔

جنید خان نے حال ہی میں اس امر پر مایوسی کا اظہار کیا کہ انہیں زخموں سے نجات پانے اور مکمل طور پر صحتیاب ہونے کے باوجود قومی ٹیم میںمنتخب نہیںکیا گیا۔انہوں نے سابق پاکستانی کھلاڑیوں کی تنقید اور اپنے رویے کے بارے میںبھی وضاحت پیش کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں بہترین پرفارمنسز کی بنیاد پر پاکستان ٹیم میں ایک بارپھر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے انہیں سینٹرل کنٹریکٹ کی پیش کش بھی نہیںکی گئی ہے۔ جنید خان نے اپنے خصوصی انٹرویو میں خود کو درپیش صورتحال اور مستقبل کے حوالے سے بات چیت کی جس ایک حصہ کرکٹ اُردو کے قارئین کیلئے پیش خدمت ہے جبکہ یہ مکمل انٹرویو آپ ہفت روزہ میگزین ’’اسپورٹس لنک‘‘ میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

زیادہ عرصہ نہیںگزرا جب آپ پاکستانی لائن اپ میں پہلے نمبر کے فاسٹ بولرسمجھے جاتے تھے، آپ کے خیال میں خرابی کہاں سے شروع ہوئی؟

انجرڈ ہونے سے پہلے انٹرنیشنل کرکٹ میں میری بولنگ اور پرفارمنسز لاجواب تھیں،ان میںسے اکثر میں نے ایشیائی وکٹوں پر پیش کی تھیں۔ فاسٹ بولرز کے لئے ایشیائی وکٹوں پر اچھی کارکردگی پیش کرنا ایک دقت طلب اور انتہائی مشکل کام ہے۔

میں نہیں سمجھتا کہ زخموں سے صحتیاب ہونے کے بعد ایک فاسٹ بولر کی حیثیت سے مجھے اپنی کارکردگی دکھانے کا مناسب موقع دیا گیا ۔ جب کھلاڑی انجرڈ ہوتا ہے تو اسے اپنی فارم میں واپسی میں کچھ وقت لگتا ہے اور خاص طور سے ایک فاسٹ بولر کے لئے اپنی رفتار اور ردھم حاصل کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ صحتیابی کے بعد مجھے ٹیم میں سیٹ ہونے کا مناسب وقت اور موقع نہیں ملا۔

صحتیاب ہونے کے بعد پاکستانی ٹیم میں شامل کئے جانے کا آپ کو موقع کیوں نہیں دیا گیا؟

میںکراچی میں کھیلے جانے والے پینٹینگولر کپ کے بہترین بولرز میں سے ایک تھا۔ اس کے بعد میں نے پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن میں بھی بہترین بولنگ کی اور انگلینڈ اے کے خلاف پاکستان اے کی نمائندگی کرتے ہوئے بھی بہترین پرفارمنسز پیش کیں۔

’’میں مستقبل میں انگلینڈ میں منتقل ہونے کا سوچ سکتاہوں لیکن کھیلنے کیلئے نہیں‘‘ : جنید خان
’’میں مستقبل میں انگلینڈ میں منتقل ہونے کا سوچ سکتاہوں لیکن کھیلنے کیلئے نہیں‘‘ : جنید خان

میں نے حالیہ ڈومیسٹک ٹوئنٹی 20ٹورنامنٹس میں بھی بہترین بولنگ کی جس کا ہر ایک میرے اعداد و شمار سے میری کارکردگی کا جائزہ لے سکتاہے۔ مجھے اپنے زخمی ہونے کے مسائل سے نمٹنے کے بعد دوبارہ موقع حاصل کرنے کے لئے کیا کرنا پڑے گا، اس کے متعلق میں یقین سے کچھ کہہ نہیں سکتا۔

مجھے گھٹنے کی تکلیف کے بعد بنگلہ دیش اور سری لنکا کے خلاف منتخب کیا گیا جہاں مجھ سے چند کیچز ڈراپ ہوئے اور تبھی سے مجھے نظر انداز کیا جارہا ہے۔

آپ کی تکلیف کی موجودہ حالت کیا ہے اور ابتدائی فٹنس مسائل کیا تھے؟

میں اس وقت صد فی صد فٹ ہوں، اس وقت میری فٹنس کا کوئی مسئلہ نہیں ہے،میں مسلسل ڈومیسٹک اور پاکستان اے کی جانب سے کرکٹ کھیل رہا ہوں جس سے صاف ظاہر ہے کہ میری فٹنس کے کوئی مسائل نہیں ہیں۔

میری انجریز میری بدقسمتی کی وجہ سے تھیں لیکن ان میں خراب فٹنس کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ میں ایک ایسی پچ پر بولنگ کررہا تھا جس پر نمی تھی جہاں میں پھسلا جس کی وجہ سے میرے گھٹنے میں چوٹ آئی،میرے ساتھ ہونے والے اس واقعے میں فٹنس کی کمی کا کوئی عنصر نہیں تھا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ آپ کی کارکردگی وہ نہیں تھی جس کے لئے آپ مشہور ہیں، پاکستان کی جانب سے آخری میچ کے وقت بھی یہی صورت حال تھی جس کے بعد آپ کو ڈراپ کردیا گیا؟

میں آپ کو پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میں نے زیادہ انٹرنیشنل کرکٹ ایشیائی ممالک میں کھیلی ہے جہاں فاسٹ بولرز کا کام انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ میرے ساتھ یہ بدقسمتی بھی تھی کہ میں انجریز سے بھی دوچار رہا جن سے سنبھلنے اوراپنی بہترین فارم میںواپس آنے میں مجھے کچھ وقت لگا۔

محمد عامر کو ہی دیکھ لیں جس نے مستقبل قریب میں انگلینڈ میں ایسی کنڈیشنز میں میچز کھیلے ہیں جو فاسٹ بولرز کے لئے سازگار ہوتی ہیں لیکن وہ بھی اپنی بھرپار فارم میں دکھائی نہیں دیا کیونکہ کھیل سے کچھ عرصہ دور رہ کر اپنی پرانی فارم میں واپس آنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔

میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا کہ مجھے زخموں سے صحتیاب ہوتے ہی پاکستان کا بلاوا آ گیا اور اسے کے بعدجلد ہی مجھے ڈراپ کردیا گیا۔ مجھے امید ہے کہ کسی نہ کسی مقام پر مستقبل میں مجھے سلیکٹرز کی جانب سے ایشیاء سے باہر کھیلنے کا موقع فراہم کیا جائے گا جہاں کی کنڈیشنز فاسٹ بولرز کے لئے ساز گار ہوتی ہیں۔

کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کو پاکستان کے لئے کھیلنے کا ایک موقع ضرور دیا جائے گا؟

میری عمر ابھی صرف 26سال کی ہے میں اپنی جگہ بنانے کے لئے لڑنے کے لئے تیار ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ میری بہترین کرکٹ کے دن ابھی آنے ہیں، میں ایک بولر کی حیثیت سے ابھی تک اپنی معراج پر نہیں پہنچا ہوں۔

میں سمجھتا ہوں کہ 26سال کی عمر میں ایک فاسٹ بولر سیکھنے کے مراحل میں ہوتا اور اسی وجہ سے پر امید ہوں کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی سے پاکستان ٹیم میں واپس آنے میں ضرور کامیاب رہوں گا۔

حال ہی میں دو سابق پاکستانی کھلاڑیوںنے آپ کے رویے اور سلوک کے متعلق کافی تنقید کی ہے، آپ اس تنقید پر کیا جواب دینا چاہیں گے؟

میں سب سے پہلے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ معین خان اور راشد لطیف پاکستان کے عظیم کھلاڑیوں میںسے ہیں،بحیثیت سینئر میں ان دونوں کی تہہ دل سے عزت کرتا ہوں۔میں راشد لطیف کی سربراہی میں پورٹ قاسم اتھارٹی کے لئے کھیلا ہوں اور معین خان کے ساتھ بھی کام کیا ہے جب وہ کوچ اور پاکستان کی ٹیم کے منیجر تھے۔

مجھے اس وقت حیرت کا شدید جھٹکا لگا جب انہوں نے میرے بارے میں الزامات لگائے، یہ الزامات خاص طور پر اس لئے بھی باعث حیرت تھے کہ انہوںنے ان کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔راشد لطیف کے الزامات کے بارے میںعرض کرتا چلوں کہ جب پاکستان ٹیم نیوزی لینڈ جارہی تھی تو میں انجرڈ تھا اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں کوئی ڈاکٹر دستیاب نہیں تھا جس کی وجہ سے مجھے ایبٹ آباد میں اپنے فزیو کے پاس جانا پڑا جو مقامی ٹیم کے لئے کام کرتا ہے اور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی اجازت سے کیا تھا۔

جنید خان کاکہناہے کہ ابھی اُن کے بہترین سال آنے ہیں، گزرے نہیں ہیں
جنید خان کاکہناہے کہ ابھی اُن کے بہترین سال آنے ہیں، گزرے نہیں ہیں

انتخاب عالم نے مجھے ایبٹ آباد جانے کی اجازت دی تھی۔ معین خان کے الزامات کے بارے میں عرض کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے دورہ جنوبی افریقہ کے بارے میں لگائے ہیں جہاں میں نے آخری اوور میں جنوبی افریقی بیٹسمینوں کو9رنز نہیں بنانے دئیے تھے۔

میرے خلاف اگر نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے الزامات تھے تو مجھے اس ٹور اور اس کے بعدکی سیریز کے لئے کیوں منتخب کیا گیا تھا؟ میرے خلاف اگر کچھ مسائل تھے تو زیادہ سمجھداری کی بات یہ ہوتی کہ مجھے فوری طور پر ٹیم سے علیحدہ کرکے وطن واپس روانہ کردیا جاتا نہ کہ آئندہ سیریز میں بھی کھلایا جاتا۔

آپ کے متعلق یہ افواہیں بھی گردش میں ہیں کہ آپ انگلینڈمیں آباد ہونے اور شہریت تبدیل کرکے مستقبل میں انگلش ٹیم کے لئے کھیلنا چاہتے ہیں، کیا ان افواہوں پر کچھ روشنی ڈال سکتے ہیں؟

مجھے اس مسئلے کو ہمیشہ کے لئے واضح کرنے کی اجازت دیں،میری پہلی ترجیح پاکستان کے لئے کرکٹ کھیلنا ہے، میں آج جو کچھ ہوں وہ پاکستان کرکٹ کی مرہون منت ہے جسے میں کبھی بھلا نہیں سکتا۔

میرے خاندان کے کافی لوگ انگلینڈ میں آباداور میری بیوی کا تعلق بھی وہیں سے ہے جس کی وجہ سے ممکن ہے کہ مستقبل میں کسی مقام پر انگلینڈ میں رہائش اختیار کرنے کے متعلق غور کروں لیکن فی الوقت میری ترجیح یہی ہے کہ پاکستان میں رہوں اور اسی کیلئے ہی کھیلوں،میں اس وقت صرف اور صرف پاکستان ٹیم میں واپسی کو اپنا ہدف بنائے ہوئے ہوں۔

جنید خان کے انٹرویوکاایک حصہ یہاں شائع کیا گیاہے جبکہ یہ مکمل انٹرویو آپ ’’اسپورٹس لنک‘‘کے اگلے شمارے میں ملاحظہ کرسکتے ہیں جس میں سینٹرل کنٹریک نہ ملنے،پی بی ایل، کائونٹی کرکٹ اور ساتھی کھلاڑیوں کے بارے میں کئی اہم سوالات کے جوابات شامل ہیں۔

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

عاقب جاویدنے پاکستانی کوچ نہ بن پانے کی کہانی سے پردہ اُٹھا دیا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر اورلاہورقلندرزکے ڈائریکٹرکرکٹ آپریشنز عاقب جاوید نے ڈیوواٹمورکی جگہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے