Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / اہم موضوعات / ون ڈے کپتان کی تبدیلی،درست یا غلط فیصلہ؟

ون ڈے کپتان کی تبدیلی،درست یا غلط فیصلہ؟

پی ایس ایل 2کے سنسنی خیز مقابلوں اور اس سے متعلق دیگر’سائیڈاسٹوریوں‘کے سبب ون ڈے کپتان کی منتقلی کے اہم موضوع پر گزشتہ دو ہفتوں میں کچھ نہیں لکھا جاسکا تاہم یہ ضرور ممکن ہوسکا ہے کہ نئے ون ڈے کپتان کی پہلی آزمائش سے قبل اس تبدیلی کو’اعدادی حقائق‘کی کسوٹی پر جانچا جائے کہ یہ فیصلہ کتنا درست ہے اور کتنا غلط؟

ورلڈکپ2015ء میں آسٹریلیاکے خلاف کوارٹرفائنل میں شکست کے ساتھ میگاایونٹ میں پاکستان ٹیم کا سفر ختم ہونے کے ساتھ ساتھ ون ڈے کپتان مصباح الحق کے کیریئر اور قائدانہ دورکا بھی خاتمہ ہوگیاتھا۔ ورلڈکپ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈنے سابق کپتان مصباح الحق اور ہیڈکوچ وقاریونس کی سفارش پر عمل کرتے ہوئے اظہرعلی کو ون ڈے ٹیم کی قیادت سونپ دی جو ورلڈکپ اسکواڈکا حصہ نہیں تھا۔

ورلڈکپ کے بعد پاکستان ٹیم نے کپتان کی تبدیلی کے بعد مجموعی طورپر 34ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں لہٰذااس ہفتے ’اعدادی حقائق‘ میں ہم ورلڈکپ کے بعد کے34اور اظہرعلی کے کپتان بننے سے قبل آخری 34 ون ڈے میچوں کے اعدادوشمارشاملکررہے ہیں جس سے ہمیں اس تبدیلی کے نقصان وفائدے کا صحیح اندازہ ہوسکے گا۔

ورلڈکپ2015ء کے بعد پاکستان نے31میچزاظہرعلی، دومیچزمحمد حفیظ اور ایک ون ڈے سرفرازاحمدکی قیادت میں کھیلا۔ ان تینوں میں نتائج کے اعتبار سے اظہرعلی سب سے پیچھے رہے کیونکہ پاکستان نے0.66کے فتح و شکست کے تناسب سے31میچوں میں سے 12جیتے اور18ون ڈے میچوں میں شکست کھائی۔

اظہرعلی کے قائدانہ دور میں پاکستان ٹیم کی ایشیاء میں کارکردگی اچھی رہی مگر ایشیاء سے باہر اُسے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا

محمد حفیظ کو 2میں سے ایک میچ میں شکست اور ایک میں فتح ملی جبکہ سرفرازاحمد واحد آزمائش میں کامیاب رہے تاہم انہوں نے یہ فتح زمبابوے کے خلاف حاصل کی تھی۔

بہرحال!ورلڈکپ کے بعد پاکستان کے مجموعی34میچوں میں فتح و شکست کا تناسب 0.73رہاجو فل ممبر ممالک میں ماسوائے سری لنکا اور زمبابوے کے کسی بھی ٹیم کا کمترین تناسب تھا حتیٰ کہ ان تین ممالک کے علاوہ دیگر ساتوں فل ممبرٹیموں نے اس عرصے میں شکستوں کے مقابلے میں زائدفتوحات حاصل کیں۔ پاکستان ٹیم جیت ہار کے تناسب کے اعتبار سے مجموعی طورپر16ٹیموں میں دسویں نمبرپر تھی جس کے آگے ہانگ کانگ (2.00)، افغانستان(1.30)اور اسکاٹ لینڈ(0.75)جیسی ایسوسی ایٹس ٹیمیں بھی شامل تھیں۔

دوسری جانب ،اظہرعلی کے کپتان بننے سے قبل پاکستان ٹیم اپنے گزشتہ34ون ڈے میچوں میں بھی زیادہ کامیاب نہ تھی جو اس عرصے میں فتح و شکست کے تناسب سے ترتیب دی گئی19ٹیموں میں گیارھویں نمبرپر تھی جس نے34میچوں میں15فتوحات کے بدلے 19 شکستیں کھاکر0.78کا تناسب حاصل کیاتھا۔

یوں نتائج کے اعتبار سے دونوں ادوارمیں کوئی بڑا فرق نہیں۔ دونوں ادوارمیں پاکستان کو عین برابر19،19شکستیں ہوئیں گویا اظہرعلی کپتان بننے کے بعد ٹیم کو فتح کے ٹریک پر ڈالنے میں نہ صرف ناکام رہے بلکہ فتح وشکست کے تناسب کے اعتبار سے قومی ٹیم مزید گراوٹ کا بھی شکار ہوئی۔

واضح رہے کہ ورلڈکپ2015ء تک آخری 34ون ڈے میچوں میں سے30میں مصباح الحق اور چارمیں شاہد آفریدی نے قیادت کی تھی۔جن میں مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان نے 14فتوحات اور16شکستوں کے ساتھ 0.87کا تناسب حاصل کیاتھا جبکہ ’لالے‘کی قیادت میں پاکستان کو چارمیں سے تین میچوں میں شکست اور صرف ایک میچ میں فتح حاصل ہوئی تھی۔

ان اعدادوشمار کو دیکھتے ہوئے اظہرعلی کو قیادت سے ہٹانا کافی آسان فیصلہ دکھائی دیتا ہے کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈنے انہیں بطور کپتان سیٹ ہونے کیلئے مناسب وقت دیا۔31میچز اور 10سیریز/ٹورنامنٹ کسی بھی طرح کم نہیں ہوتے لیکن اس کے باوجود کچھ ایسے حقائق ضرور ہیں جن سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتاجن کا مختصر احوال یہاں اس رپورٹ میں آپ کی خدمت میں پیش کیاجارہاہے۔

اظہرعلی کی کپتانی کاباریک بینی سے جائزہ لینے کیلئے’ کنڈیشنز‘کا عنصر بھی مدنظر رکھناضروری ہے اور اس ’کسوٹی‘پر اظہرعلی ایک بہترکپتان دکھائی دیتے ہیں۔ ورلڈکپ 2015ء کے بعدایشیائی کنڈیشنز میں پاکستان ٹیم نے اپنے تمام 18ون ڈے انٹرنیشنل میچز اظہرعلی ہی کی قیادت میں کھیلے جن میں آدھے میچز جیتنے کے علاوہ نسبتاً ایک کم شکست کھائی۔

بنگلہ دیش میں 3-0 کے بدترین کلین سوئپ کے باوجود تناسب کے اعتبار سے پاکستانی ٹیم اظہرعلی قیادت میں ایشیائی کنڈیشنز میں بھارت، جنوبی افریقہ،سری لنکا،نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے سے بہتر نتائج دینے میں کامیاب رہی۔

ان میچوں میں پاکستانی ٹیم کی مجموعی بیٹنگ اوسط(بشمول ایکسٹرارنز)38.51 رنز فی وکٹ رہی جواس عرصے میں ایشیاء میںکھیلنے والی فل ممبر ٹیموں میں محض انگلینڈ کے بعد کسی بھی ٹیم کی دوسری بہترین اوسط تھی۔

مضمون کا یہ حصہ پاکستان میں کھیلوں کے سرفہرست میگزین’ اسپورٹس لنک‘ کے تازہ ایڈیشن (19 تا 25 مارچ 2017ء) سے لیا گیا ہے۔ یہ مکمل مضمون آپ تازہ ایڈیشن میں ملاحظہ کرسکتے ہیں

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

پاکستان کیلئے عالمی نمبر3 بننے کا موقع

پاکستان کرکٹ ٹیم کو دورۂ ویسٹ انڈیزمیں آئی سی سی ٹوئنٹی رینکنگ میں تین درجے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے