Clicky

ہوم / ممالک / بھارت / بھارت سے سیریز کی تان بھی آخر ٹوٹ گئی

بھارت سے سیریز کی تان بھی آخر ٹوٹ گئی

بڑی عجیب سی بات ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام پڑوسی ملک بھارت کیخلاف باہمی سیریز کیلئے صبح اور شام بیانات کی قطار لگا کر قوم کو امیدوں کے چراغ فراہم کرتے رہے۔

انہوں نے بھارتی ہٹ دھرمی کے بعد معاہدے کی پاسداری نہ کرنے پر بی سی سی آئی حکام کو عدالت میں گھسیٹنے کا بھی اعلان کیا لیکن بدقسمتی سے یہ ارادہ بھی ان پاکستانی سیاستدانوں کے نام نہاد دعووں سے زیادہ نہیں نکلا جن میں اپنے حریفوں کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی بات کی جاتی تھی۔

آئی سی سی اجلاس میں ایک حالیہ فیصلے کے بعد بگ تھری ایشو کم و بیش ختم ہو گیا جس کیلئے ’’بلیک وارنٹ‘‘پر دستخط کا انتظار کیا جا رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستان کا بھارت کے خلاف چھ سیریز نہ کھیلنے پر عدالتی چارہ جوئی کا’’دعویٰ‘‘ بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔

اعدادوشمارسے متعلق یہ رپورٹ بھی پڑھیں:  ہاشم آملہ نے ٹنڈولکر اور کوہلی کو پیچھے چھوڑدیا

یہ بڑی حیران کن بات ہے کہ وکلا ء کی جانب سے پاک بھارت سیریز کے بارے میں ایم او یو کو کاغذ کا ٹکڑا قرار دینے اور بگ تھری فارمولا کے خاتمے سے بخوبی علم کے باوجود پی سی بی حکام بھارت سے سیریز نہ کھیلنے پر قانونی چارہ جوئی کا راگ الاپتے رہے اور ان کے بیانات صدا بہ صحرا ہی ثابت ہوئے۔

پاکستان وبھارتی کھلاڑیوں کے درمیان باہمی تعلقات اچھے رہے ہیں مگر بورڈزکے مابین ہمیشہ سیاست کام کرتی رہی ہے

قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ بگ تھری کے خاتمے پر اصولی منظوری دینے کے بعداس کا کریڈٹ لینے کیلئے کئی دعویدار سامنے آ گئے ہیں تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس کے خاتمے میں سب سے بڑا کرداربھارت کے سابق صدراور آئی سی سی کے نئے چیئرمین ششانک منوہر کارہاہے جنہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی بگ تھری کو غیر منصفانہ اور جمہوری رویوں کے خلاف’’غنڈہ گردی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کی نوید سنا دی تھی۔

تین سال قبل بھارت نے آسٹریلیا اور انگلینڈ کے کرکٹ بورڈز کو ساتھ ملا کر آئی سی سی پر اپنی خود ساختہ برتری جمانے کیلئے فروری 2014 ء میں بگ تھری کا ایشو اُٹھا کر اس کے مالی وسائل پر سب سے زیادہ حق جتا دیا تھا اور تینوں ممالک نے سرمائے کے ساتھ ہی انٹرنیشنل کرکٹ کا رخ بھی اپنی جانب موڑ لیا تھا۔

بگ تھری فارمولاکے تحت بھارت کو2015 ء سے لے کر 2023 ء کے آٹھ سالہ دور میں 571 ملین ڈالرز حصہ ملنا تھا، انگلینڈ کو 174 ملین ڈالرز، آسٹریلیا کو 131ملین ڈالرز جبکہ پاکستان کو 94ملین ڈالر زکی رقم ملنا تھی۔جب یہ منصوبہ منظورہوا تو پی سی بی کے سابق سربراہوں سمیت اکثر کرکٹ مبصرین نے بھی اس کی مخالفت کی تھی اوراس بات کی نشاندہی سے بھی گریز نہیں کیا تھا کہ بھارت نے پاکستان کو چھ باہمی سیریز کھیلنے کا لالچ دے کر پاکستان کی اہم حمایت حاصل کر لی ہے۔

مگر وہ پاکستان کے ساتھ سیریز نہیں کھیلے گااور یہی کچھ ہوا کہ آنے والے عرصے میں بی سی سی آئی حکام محض حیلے بہانے ہی کرتے رہے اور نہ ہی بگ تھری فارمولا چل سکا اور نہ ہی بھارت نے پاکستان کے ساتھ چھ سیریز کھیلنے کا وعدہ پورا کیا اور یہ معاملہ اپنی موت آپ مر گیا۔

اب ظاہر سی بات ہے کہ پاک بھارت باہمی سیریز کی ’’پڑیا‘‘بگ تھری کی حمایت کے صلے میں ملی تھی لہٰذااس منصوبے کے ساتھ ہی سیریز کا ایم او یو بھی اپنے منطقی انجام کوپہنچ گیا۔

چیئرمین پی سی بی شہر یار خان اور ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی اس حقیقت کو جانتے ہوئے اور وکلا ء کی جانب سے ایم او یو کے بارے میں مبینہ طور پر منفی رائے آنے کے بعد بھی بھارت کیخلاف سیریز نہ کھیلنے پر معاوضہ کیلئے قانونی چارہ جوئی کا ڈھول بجاتے رہے جس کا مقصد محض اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔

پاکستان کیلئے آئی سی سی ٹاسک فورس کے چیئرمین جائلز کلارک بھی گزشتہ دنوں پاکستان کے دورہ پر اس بات کا اشارہ کر چکے ہیں کہ آئی سی سی کی پالیسی میں باہمی سیریز سے گورننگ باڈی کا کوئی تعلق نہیں ہوتا اور باہمی سیریز کھیلنا یا نہ کھیلنا دونوں ممالک کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے اور یہ بھی اس بات کی واضح نشاندہی تھی کہ پی سی بی حکام اس حوالے سے پاکستانی شائقین کرکٹ کو تسلیوں اور دلاسوں کی چوسنیاں فراہم کرتے رہے حالانکہ انہیں بخوبی علم تھا کہ انہیں اس حوالے کبھی کامیابی نہیں مل سکے گی۔

یقینی طور پر بگ تھری کے خاتمے کے بعد پاکستانی شائقین کو بہت سارے دوسرے معاملات کی طرح اس مسئلے پر بھی خاموشی اختیار کرنا ہی ہو گی کیونکہ جن لوگوں نے سب کچھ کیا وہ اس بارے میں قطعی ذمہ داری قبول نہیں کریں گے بلکہ شاید اس پر اظہار شرمندگی بھی نہ کر سکیں حالانکہ انہیں اپنی کوتاہیوں کو ماننے کے ساتھ اس نقصان کی تلافی کیلئے لازمی کچھ کرنا چاہئے کیونکہ وہ اسی نقصان کی بنیاد پر باہمی سیریز کا راگ الاپ کر اپنی دکان چمکاتے رہے ہیں۔

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

پی ایس ایل فائنل < ’پاگل پن‘ یا ’دہشتگردی کیخلاف فتح‘؟

پاکستان کرکٹ بورڈ نے’’ حکومتی کاندھے‘‘ پر سوار ہو کر پاکستان سپر لیگ فائنل کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے