Clicky

ہوم / اہم موضوعات / بھارت 2023ء تک کرکٹ پابندی کاخطرہ مول لینے کیلئے تیار

بھارت 2023ء تک کرکٹ پابندی کاخطرہ مول لینے کیلئے تیار

بگ تھری کے عملی خاتمے کے بعد ریوینیو شیئرنگ کے معاملے میں آئی سی سی کے دیگر رکن ممالک اور بھارت کے درمیان جنگ میں تیزی آنے کا امکان ہے کیونکہ بھارتی بورڈ نے باہمی مشاورت کے بعد نیا قانون ماننے کے بجائے آئی سی سی سے ٹکرلینے کا فیصلہ کرلیاہے۔

ایک بھارتی ویب سائٹ نے دعویٰ کیاہے کہ بی سی سی آئی نے ممبرپارٹی سیپیشن ایگریمنٹ کو قبول نہ کرنے کے حوالے سے آئی سی سی کو خط لکھنے کا فیصلہ کرلیاہے۔جس میں موقف اختیارکیاجائے گا کہ وہ 2014ء کے بگ تھری فارمولا کے تحت 570ملین ڈالرزکے بجائے 293ملین ڈالرزقبول نہیں کرسکتا۔

بھارتی کرکٹ بورڈکے ٹاپ آفیشل امیتابھ چوہدری کا کہناہے کہ آئی سی سی نے ہمیں 100ملین ڈالرز ززائد دینے کی پیشکش کی ہے لیکن یہ ہمارے مطالبے سے نہایت ہی کم ہے۔

بھارتی بورڈسے ملنے والے اطلاعات کے مطابق بی سی سی آئی کے بیشتر ممبران اس فارمولے کو نہ ماننے کے حق میں ہیں لیکن کچھ کا خیال ہے کہ اس رقم کیلئے اتنے بڑے خطرات نہیں مول لینے چاہییں کیونکہ اضافی100ملین ڈالرزکے بعد بھارت کی جانب سے طلب کئے جانیوالی رقم میں بہت بڑافرق باقی نہیں رہ جاتا۔

فارمولاتسلیم نہ کرنے کے کیا نتائج ہوں گے؟
واضح رہے کہ بھارتی بورڈ اگر اپنی ہٹ دھرمی کا قائم رہا تو بھارتی کرکٹ کو بھی بہت سارے خدشات لاحق ہوجائیں گے ۔ آئی سی سی اور تمام ممبران کامنظورکردہ فارمولا نہ ماننے پر بھارتی بورڈکو سنگین نتائج بھی بھگتنا ہوں گے۔ اس جنگ میں آئی سی سی سمیت کوئی بھی ممبر ملک بھارت کو سپورٹ نہیں کررہا۔

اس لئے انٹرنیشنل کرکٹ سمیت بھارتی بورڈکے زیراہتمام کھیلی جانے والی آئی پی ایل کو بھی مسائل کا سامناکرناپڑسکتاہے کیونکہ ممکن ہے کہ کھلاڑیوں کو اس جنگ کے بعد متعلقہ بورڈز کی جانب سے این اوسی نہ ملے۔

آگے کیا ہوگا؟
بی سی سی آئی کی جانب سے آئی سی سی کو مجوزہ خط بھیجنا محض ایک دھمکی ہوگا لیکن اگر اگلے چند روزمیں معاملات کاحل نہ نکالا گیا تو 7مئی کوشیڈول آئی سی سی کی اسپیشل جنرل میٹنگ میں تمام ممبرمل کر بھارت کو 2015ء سے 2013ء کے رائٹس پروگرام سے باہر نکالنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔

فی الوقت ایسالگتا ہے کہ بھارتی بورڈ اپنے مطالبات منوانے کیلئے ہر حد تک جانے کیلئے تیار ہے ۔اگر وہ نیا ریوینیو فارمولا تسلیم کرنے سے انکارکرتا ہے تو آئی سی سی کو بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے لیکن یہ بات بھی یادرکھنے والی ہے کہ اس صورت میں بھارت کا نقصان نسبتاً کہیں زیادہ ہوگا۔

اس وقت بھارتی بورڈ ایک طرف اور باقی دُنیاکے تمام ممالک دوسری جانب کھڑے ہیں۔اس لئے اگر دونوں اطراف سے لچک نہیں دکھائی جاتی تو بھارت عملی طورپر دُنیائے کرکٹ سے الگ ہوکر رہ جائے گا اور اُس کے بڑے ٹورنامنٹ آئی پی ایل کو ٹاپ کلاس غیرملکی کھلاڑیوں کو کھلانے کے حوالے سے سخت مسائل درپیش آئیں گے۔

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

چیمپئنز ٹرافی کے بائیکاٹ کا بھارتی ڈرامہ بھی فلاپ

آئی سی سی اجلاس میں بگ تھری اور ریونیو اصلاحات میں اکیلے رہ جانے والے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے