Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / اہم موضوعات / انٹرویوز / ’’پلیئنگ الیون میں شمولیت کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہوں‘‘

’’پلیئنگ الیون میں شمولیت کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہوں‘‘

نام اگر عمران خان ہے تو ارادے بھی بہت کچھ کر گزرنے کے ہیں،وہ پاکستان کے ٹیسٹ اسکواڈ کا رکن تو بنتے ہیں لیکن پلیئنگ الیون میں جگہ بنانا ایک چیلنج ہوتا ہے۔ ڈریسنگ روم میں عمران خان پوری ٹیم کو ہنساتا ہے، کیا مصباح الحق کیا یاسر شاہ کوئی بھی کھلاڑی عمران خان کے مذاق سے بچ نہیں پاتا۔

ڈریسنگ روم میں کتنا ہی ٹینشن کا ماحول نہ ہو عمران خان ایسے سب کا موڈ ٹھیک کرتا ہے کہ ہاری ہوئی ٹیم قہقہے مار کر ہنسنا شروع کردیتی ہے۔صفر پر آؤٹ ہونے والے یونس خان غصے سے جب عمران خان کو گھورتے ہیں تو عمران خان کے انداز ایسے ہوتے ہیں کہ وہ بھی بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کی رنز مشین نے آج کوئی رنز نہیں بنایا ہے۔

جس سے بھی پوچھو عمران خان کے گن گاتا ہے لیکن عمران خان صرف ٹیم کو تفریح ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ اس کے ارادے گراؤنڈ میں حریف بیٹسمینوں کے بارے میں بہت ہی خطرناک ہیں۔یہ بھی معلوم ہے کہ اس کو ٹیم میں جگہ بنانے کے لئے محمد عامر،راحت علی،وہاب ریاض اور سہیل خان جیسے چیلنجز کا سامنا ہے،عمران خان خود کو کسی سے کم نہیں سمجھتے اور انہوں نے کئی مواقع پر اپنی صلاحیت بھی ثابت کردی ہے۔

عمران خان کہتے ہیں کہ اگر نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں انہیں موقع ملا تو وہ خود کو ثابت کردیں گے۔عمران خان کی اپنے مستقبل اور دیگر معاملات پر بات چیت قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔

ڈریسنگ روم میں مذاق اور پلیئنگ الیون میں شامل نہ ہوپانے کی وجہ:

سچ پوچھیں تو ٹیم میں نہ تو کوئی بڑا ہے نہ چھوٹا، ہم سب ہی دوستوں کی طرح ہیں،ہم سب بہت مزہ کرتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ جب ٹیم کی حالت پتلی ہوتی ہے تو ماحول بہت خراب ہوجاتا ہے، کچھ تو رونے دھونے بھی لگتے ہیں لیکن یہی تو وقت ہوتا ہے اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا کیونکہ اگر کھلاڑی شکست کا بہت زیادہ دباؤ لے لیں تو پھر ٹیم ایک میچ نہیں ہارتی پوری سیریز یا ٹورنامنٹ ہی ہار جاتی ہے۔

میں یونس خان کا بہت احترام کرتا ہوں، وہ بہت بڑے کرکٹر اور اس سے بھی بڑے انسان ہیں، ان کے مقابلے میں تو ہم بونے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ ہمیں دوستوں کی طرح سمجھتے ہیں تو ہمارا حوصلہ بڑھ جاتا ہے، اگر میری پوچھیں تو جب وہ مجھے گھور کر دیکھتے ہیں تو بس میری جان نکل جاتی ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ میری شکل دیکھتے ہی انہیں میرا کوئی مذاق یاد آتا اور پھر وہ بھی ہنسنے لگتے ہیں۔

عمران خان سینئر اپنی پر مزاح طبیعت کے باعث ٹیم میں بے حد مقبول ہیں
عمران خان سینئر اپنی پر مزاح طبیعت کے باعث ٹیم میں بے حد مقبول ہیں

جب میں بھی مایوس ہوجاتا ہوں کہ میں ٹیم میں کیوں شامل نہیں ہوں تو مصباح کہتے ہیں ایک دن تمہارا بھی ضرور آئے گا۔کرکٹ بائی چانس ہے اور پاکستان کرکٹ ٹیم میں ایک فاسٹ بولرکے لئے اپنی جگہ بنانے کے لئے بہت مشکل کام ہے، جب ٹیم میں وہاب،سہیل،عامر،راحت جیسے بولرز ہوں تو پھر مجھ جیسے بے چارے کو تو ان میں سے کسی کے ان فٹ ہونے کا ہی انتظار کرنا پڑتا ہے ویسے میرے بھی مزے ہی ہیں ،بے چارے بولنگ کرکے تھک جاتے اور میں ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر آرام سے میچ دیکھتا ہوں۔

ہیڈکوچ مکی آرتھر کے بارے میں:

شروع شروع میں جب کوچ مکی آرتھر آئے تو ہمیں ایسا لگتا تھا کہ گورا صاحب کچھ ہٹلر ٹائپ کا ہوگا لیکن وہ تو ہم سے بھی آگے کی چیز نکلے، اس لئے اب ڈریسنگ روم میں موج مستی ہوتی ہے، مصباح الحق کبھی کبھی بہت زیادہ سیریس ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو آدھے گھنٹے کیلئے ہم بھی اچھے بچے بن جاتے ہیں۔

یاسرشاہ کے ساتھ ’فن پارٹنرشپ‘:

وہ کہتے ہیں نہ ایک اور ایک دو ہی نہیں گیارہ بھی ہوتے ہیں تو جب ہم دونوں مل جاتے ہیں تو پھر فل ٹائم مستی شروع ہوجاتی ہے،بڑوں کو ہمیں کنٹرول کرنا اور اپنی ہنسی پر قابو پانا مشکل ہوجاتاہے۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شرارت میری ہوتی اور یاسر شاہ کو ڈانٹ پڑجاتی ہے۔

سچ پوچھیں تو جب ایسا ہوتا ہے تو اس بے چارے کا منہ دیکھنے والا ہوتا ہے،جب میں اس کو دیکھ کر ہنستا ہوں تو پھر سب ہی ہنس پڑتے ہیں۔ یہ سمجھیں کہ ہمارا سب سے بہترین ٹائم وہ ہوتا ہے جب ہم سب ساتھ ہوتے ہیں،یاسر تو مسلسل کھیل رہا ہے۔

میں اس کو اکثر چھیڑتا ہوں کہ وہ تو مزدور ہے اور میں افسر کہ مزے سے ڈریسنگ روم میں بیٹھا رہتا ہوں اور وہ بے چارہ گراؤنڈ میں خوار ہوتا ہے تو وہ مجھے کہتا ہے کہ اگر کسی کام کے ہوتے تو ٹیم میں ہوتے، اس طرح ہماری نوک جھوک چلتی ہی رہتی ہے۔

کبھی میں ناراض ہوجاتا ہوں تو کبھی یاسر اور پھر ہماری لڑائی بھی بڑے مزے کی ہوتی ہے،باقی ساری ٹیم جلتی پر تیل ڈالنے کی کوشش کرتی ہے تو ہم پھر سے دوست بن جاتے ہیں، ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی ہماری صلح کرانے کی کوشش کرے بلکہ سب ہی لڑائی سے مزے لیتے اور مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے ہماری دوستی کرانے کا یہی طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔

پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز:

میرا ملک ایک ہی ہے،میں ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہوں جس کو اس ملک نے عزت بخشی اور میں نے پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ کھیل کرانٹرنیشنل کرکٹ میں اپنا نام لکھوایا۔ٹھیک ہے جب آپ مستقل نظر انداز ہوتے ہیں تو تھوڑی تکلیف ضرور ہوتی ہے لیکن میں مایوس نہیں ہوں ۔

لوئر دیر سے پاکستان ٹیم تک کا سفر:

دوسرے پاکستانی نوجوانوں کے طرح میری کرکٹ بھی گلی محلے سے شروع ہوئی، پھر اللہ نے کرم کیا اور میری بولنگ سے متاثر ہوکر پہلے پشاور اور پھر نیشنل بینک کی ٹیم میں کھیلنے کا موقع ملا جس سے میری کارکردگی بہتر ہوئی، لگاتار اچھی کارکردگی نے مجھے قومی ٹیم تک پہنچا دیا لیکن میری خواہش ہے کہ نا صرف ٹیسٹ اسکواڈ اور ٹیم کا حصہ بنوں بلکہ میں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں بھی اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں۔

میرے خیال سے مجھ میں صلاحیت ہے جب ہی تو میں ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل ہوں،مجھے امید ہے کہ میری کارکردگی جلد ہی مجھے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کا بھی مستقل رکن بنادے گی۔

نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کی تیاری:

ہر سیریز کیلئے ہی میں بھرپور تیاری کرتا ہوں،میرے خیال سے میں کسی بھی وکٹ کا محتاج نہیں ہوں، میری کوشش ہوتی ہے کہ پچ جیسی بھی ہو اس سے فائدہ اُٹھا کر وکٹ اُڑاؤں۔عام طور پر انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کو میڈیم پیسرز کی جنت کہا جاتا ہے لیکن میری اسپیڈ کوئی بہت زیادہ کم بھی نہیں ہے میں تھوڑا زیادہ زور لگاؤں تو ایک سو چالیس تک اسپیڈ جاسکتی ہے۔

اب بھی میرا دل بہت تیز گیند کرانے کو چاہتا ہے لیکن ہر شخص شعیب اختر یا وقار یونس کی طرح خوش قسمت نہیں ہوتا کہ جو اسپیڈ کے ساتھ ساتھ گیند کو سوئنگ کرنے کے بھی ماہر ہوں۔میں میک گرا کو بھی بہت فالو کرتا تھا ،میری ہمیشہ کوشش رہی کہ میں گیند کو سوئنگ کراؤں۔

’’قومی ٹیم میں مستقل جگہ بنانے کیلئے کچھ بھی کرسکتاہوں -‘‘ عمران خان سینئر
’’قومی ٹیم میں مستقل جگہ بنانے کیلئے کچھ بھی کرسکتاہوں -‘‘ عمران خان سینئر

جیساکہ اس وقت سب ہی کہہ رہے ہیں کہ ٹیم کو نئی گیند کے بولر کی ضرورت ہے اگر مجھے نئی گیند سے بولنگ کا موقع ملتا ہے تو میں پوری کوشش کروں گا کہ میں کیویز کی اوپننگ جوڑی پر لگاتار حملے کروں اور ٹاپ آرڈر کو شکار کروں یہ تو مجھے معلوم نہیں کہ مجھے ٹیسٹ ٹیم میں جگہ ملتی ہے یا نہیں لیکن میری بھرپور کوشش ہے کہ میں پاکستان کے لئے کھیلوں اور ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کروں۔

فاسٹ بولنگ آل رائونڈر بننے کی خواہش:

مجھے فرسٹ کلاس اور کلب لیول پربیٹنگ کا زیادہ موقع نہیں ملا لیکن اب میں اس پر بہت محنت کررہا ہوں کیونکہ اس وقت ٹیم میں جس طرح بھی میری جگہ بن سکتی ہے میں وہ سب کچھ کررہا ہوں تاکہ میں میدان میں اترنے میں کامیاب ہوجاؤں۔

میری کوچ مکی آرتھر سے اس سلسلے میں کافی بات چیت ہوتی ہے ،وہ بھی میری کوششوں سے خوش ہیں کیونکہ آپ کو بھی پتہ ہے کہ اس وقت پاکستانی ٹیم کو بھی ایک فاسٹ بولنگ آل راؤنڈر کے اشد ضرورت ہے جو آخری اوورز میں تیزی سے رنز بھی بناسکے اور ٹیم کو مشکلوں سے بھی نکال سکے۔

نیٹ پر بیٹنگ کرنا اور میچ میں بیٹنگ کرنا بہت مختلف کام ہے ،ویسے بھی نمبر گیارہ پر جاکر آپ کیا کرسکتے ہیں اگر آپ آؤٹ نہیں ہوتے تو آپ کا پارٹنر آؤٹ ہوجاتا ہے، ایسے میں آپ کے پاس خود کو ثابت کرنے کا بہت کم موقع ہوتا ہے اگر آپ تیز شاٹس کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ آؤٹ ہوجاتے اور پھر آپ کو بہت کچھ سننا پڑتا ہے، آپ کو سیٹ بیٹسمین کی ہر بات ماننی پڑتی ہے۔

جب آپ ایک بولرکی حیثیت سے نمبر گیارہ پر کھیلنے آتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ میں بولنگ کے علاوہ بیٹنگ کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے لیکن کچھ بھی ہو حالات کیسے بھی ہوں میرا بس ایک مقصد ہے پاکستان کی پلیئنگ الیون کا مستقل حصہ بنوں ۔

آپ اسکواڈ میں آجائیں اور بغیر کھیلے ہی وطن واپس لوٹیں تو مایوسی تو کہیں نہ کہیں ضرور ہوتی ہے۔اس لئے میری کوشش ہے کہ میں خود کو کھیل کے ہرشعبے میں فٹ کروں اس سلسلے میں فیلڈنگ، فزیکل فٹنس اور بولنگ سمیت تمام شعبوں میں خود کو بہتر ثابت کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہا ہوں۔

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

’’پاکستان چھوڑ کر کہیں اورنہیں جارہا‘‘: جنیدخان

26سالہ جنید خان کا شمار پاکستان کے باصلاحیت اور ہونہار فاسٹ بولرز میںکیا جاتا ہے، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے