Clicky

ہوم / اہم موضوعات / بھارتی ٹیم ’نمبرون‘کیسے بنی؟

بھارتی ٹیم ’نمبرون‘کیسے بنی؟

حال ہی میں ختم ہونے والے ’بگ تھری فارمولے ‘‘کا جس قدر فائدہ بھارت نے اُٹھایا،وہ کوئی اورملک نہیں اُٹھا سکا، کوئی اور ملک تو خیرفائدہ اُٹھاہی نہیں سکتاتھا ماسوائے انگلینڈ اور آسٹریلیا لیکن یہ دونوں ٹیمیں بھی دولت مند بورڈکے آگے پر نہ مارسکیں۔

بھارتی کرکٹ ٹیم آئی سی سی فیوچرٹورزپروگرام کی قید سے آزاد ہوجانے کے بعد دولت اور کرکٹ کی بڑی مارکیٹ ہونے کا دونوں ہاتھوں سے فائدہ اُٹھایا جس نے آئی سی سی ریوینیوکا بڑاحصہ اپنی جیب میں ڈالنے کے علاوہ آئی پی ایل کو خفیہ طورپر ’’ونڈو‘‘فراہم کیا اور اپنی مرضی کی سیریز ترتیب دیکرہوم کنڈیشنزکافائدہ اُٹھاتے ہوئے خودکو دُنیا کی نمبرون ٹیم بھی بنادیا۔

زیرنظر رپورٹ میں ،حقائق اور اعدادوشمار کی روشنی میں یہ حقیقت آپ کے سامنے عیاں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ بھارتی بورڈ نے کس قدر چالاکی سے اپنی ٹیم کو نمبرون ٹیسٹ ٹیم بنوایاحالانکہ اُس کا اپنے ملک سے ریکارڈ کسی بھی طرح قابل اطمینان نہیں ہے۔

اس رپورٹ میں گزشتہ تین سالوں یعنی یکم اپریل2014ء سے 30مارچ 2017ء تک ٹیموں کے اعدادوشمار اکٹھے کرکے یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ بھارتی ٹیم کس حد تک نمبرون ٹیم کہلانے کے لائق ہے؟

یہ حقیقت ہے کہ بھارتی ٹیم اس وقت آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں ٹاپ پوزیشن پر موجود ہے جس نے 2005ء سے اپنے ملک میں کھیلی گئی ہرٹیم کے خلاف آخری ٹیسٹ سیریز میں فتح حاصل کی ہے لیکن دوسری جانب، اُس کا اسی عرصے میں دیارِغیر میں ریکارڈ اُسے کسی بھی طرح ویسی فتح گر ٹیم ثابت نہیں کرتا جیساکہ وہ اپنے ملک میں ہوتی ہے۔

جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کی ٹیمیں ہمیشہ ہر کنڈیشنز میں حریف ٹیموں کیلئے کڑا امتحان ثابت ہوئی ہیں لیکن بھارت میں ان دونوں ٹیموں کو بھی ’’خلاف ِ توقع‘‘ نتائج کا سامنارہاہے۔

2004/05ء میں آسٹریلیاکے خلاف آخری بار ہوم سیریزہارنے کے بعد سے بھارتی ٹیم نے اسی حریف سائیڈکے خلاف اگلی لگاتار چار ہوم سیریز جیتی ہیں ۔جس نے کینگروزکے خلاف اپنے میدانوں پر کھیلے گئے آخری دس ٹیسٹ میچوں کے دوران صرف ایک ہی شکست کھائی ہے لیکن عین اسی عرصے کے دوران اُس کے آسٹریلیامیں نتائج یکسر مختلف رہے ہیں جس نے وہاں کھیلے گئے 12 ٹیسٹ میچوں میں صرف ایک فتح حاصل کی ہے جس کے بدلے اُسے دس میچوں میں ناکامی کا سامناکرنا پڑا ہے۔

یہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ آجکل کی کرکٹ اور جدید سائنسی طریقوں اور ٹیکنالوجی کے آنے سے ہوم ایڈوانٹیج نمایاں حد تک بڑھ چکاہے۔ اس حوالے سے وہ ٹیمیں جنہیں اپنے میدانوں پر کم میچز کھیلنے کا موقع ملتا ہے، وہ رینکنگ میں بتدریج نیچے جارہی ہیں اور ہوم کنڈیشنز میں زیادہ میچز کھیلنے والی ٹیمیں جانی پہچانی کنڈیشنز کو انجوائے کرکے زیادہ کامیابیاں سمیٹ کر اپنی رینکنگ بہتر بنارہی ہیں ۔

یہ حالات کم اثرورسوخ یا کم اسپانسرز رکھنے والی ٹیموں کیلئے انتہائی ناموافق ہیں اور اس سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہورہاہے جو 2009ء سے مسلسل دیارِغیرمیں کرکٹ کھیلنے پر مجبورہے۔ہوم اور اَوے کنڈیشنز کی کارکردگی کا فرق ذیل کے چارٹ میں بخوبی لگایا جاسکتاہے۔

یہ اعدادوشمار نمایاں حد تک اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارتی ٹیم کی ٹیسٹ رینکنگ میں حکمرانی آئی سی سی کے خاص قانون کی ’’مہربانی ‘‘کاثمر ہے جس نے ٹیموں کوطے شدہ آئی سی سی فیوچرٹورزپروگرام کے بجائے اپنی مرضی سے ہوم اینڈ اَوے سیریز طے کرنے کا اختیار دیدیا ہے جس کے سبب دولت کے بل بوتے پردھونس جمانے والے بھارتی بورڈنے ہوم سیریزکا اتواربازارلگادیا۔

نومبر2015ء کے بعد سے بھارت نے مجموعی طورپر چھ ٹیسٹ سیریز کھیلی ہیں جن میں سے صرف ایک ملک سے باہر تھی جو اُس نے گزشتہ سال جولائی میں ویسٹ انڈیزکے ٹورمیں کھیلی تھی۔

نومبر2015ء سے ٹیموںکی ہوم اور اَوے سیریز کا موازنہ کریں تو تعداد کے اعتبار سے اتنا فرق کسی اور ٹیم کا نہیں ہے جتناکہ بھارت کا ہے جس نے چھ میں سے پانچ سیریز اپنے میدانوں پر ہی کھیلی ہیں جو اس عرصے میں کسی بھی ٹیم کی سب سے زیادہ ہوم سیریز ہیں۔

بھارت نے اَوے کے مقابلے میںچار زائد ٹیسٹ سیریز اپنے میدانوں پر کھیلی ہیں جبکہ ماسوائے زمبابوے کے، کوئی دوسری ایسی ٹیم نہیں جسے اس عرصے میں اَوے سیریزکے مقابلے میں اپنے میدانوں پر ایک سے زائد سیریز کھیلنے کو ملی ہوں۔ ایک سے زائد سیریز کھیلنے والی نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی ٹیمیں ہیں۔

بھارت نے اس عرصے میں اپنے ملک سے باہر واحد سیریز بھی آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں آٹھویں درجے پر موجود ویسٹ انڈیزکے ساتھ کھیلی ہے جس کے دو ٹیسٹ ڈرا کرنے کے علاوہ دومیچوں میں کامیابی حاصل کرکے اُس نے سیریز اپنے نام کی تھی تاہم یہی وہ سیریز تھی جس میں دو ٹیسٹ ڈراکرنے کا خمیازہ اُسے آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں نمبرون پوزیشن سے محرومی کی صورت میں بھگتنا پڑاتھا۔

بھارت کے بعد صرف جنوبی افریقہ ایسی ٹیم ہے جس نے اپنے ملک سے باہر بھی سیریز ہارنے سے زائد سیریز جیتی ہیں۔درحقیقت، اُس نے ہوم اینڈاَوے سیریزمیں یکساں نتائج دئیے ہیں جس نے تین میں سے دو سیریز جیتی اور ایک ایک سیریز ہاری ہیں۔

ایک طرف جہاں بھارت نے اپنی چھ میں سے پانچ سیریز اپنے میدانوں پر کھیلی ہیں ، وہاں دوسری جانب پاکستان کو اس عرصے میں اپنی پانچوں سیریز دیارِغیر میں کھیلنا پڑی ہیں ۔ وہ جنوبی افریقہ کے علاوہ محض دوسری ٹیم ہے جس نے اپنے ملک سے باہر دو سیریز جیتی ہیں لیکن محض نیوزی لینڈ اور آسٹریلیاکے ٹورزمیں ناکامی کے سبب اُسے ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی سے چھٹی پوزیشن پر منتقل ہونا پڑا جبکہ دوسری جانب، بھارتی ٹیم اپنی تقریباً تمام کرکٹ اپنے میدانوں پر کھیل کر اپنی ٹاپ رینکنگ کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے میں کامیاب رہی۔

اس عرصے میں اگر پاکستان ٹیم کو بھی ہوم ایڈوانٹیج حاصل ہوتا ہے تو یقینا اُس کے نتائج دیگر کئی ٹیموں سے بہتر ہونا تھے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ اُس نے نومبر2015ء سے اپنے ’سیکنڈہوم‘ (یواے ای) میں جن دو سیریز ( انگلینڈ اور ویسٹ انڈیزکیخلاف) میں حصہ لیا ہے،اُن دونوں میں ہی باآسانی فتح حاصل کی ہے۔اگر اُسے پاکستانی کنڈیشنز میں میچز کھیلنے کو ملیں تو یقینا اُس کے اعدادوشمار موجودہ ریکارڈسے کئی گنابہتر ہوسکتے ہیں۔

اگر ٹیموں کی اپنے میدانوں اور ملک سے باہر مجموعی بیٹنگ کارکردگی کا موازنہ کریں تو ہمیں کافی حیران کن نتائج دیکھنے کو ملتے ہیں مگر اس کیلئے نومبر2015ء سے موازنہ درست نہیں ہوگا کیونکہ اس عرصے میں اپنے ملک میں سب سے زیادہ پانچ سیریز کھیلنے والی بھارتی ٹیم نے دیارِ غیر میں صرف ایک ہی سیریز کھیلی ہے اور وہ بھی ویسٹ انڈیز میں جو ان دنوں کسی بھی طرح ٹیسٹ فارمیٹ میں اچھی ٹیم نہیں ہے۔

لہٰذا ہمیں درست انداز میں یہ موازنہ کرنے کیلئے تھوڑا پیچھے جانا پڑے گا۔اگر 9سال مزید پیچھے جاکر دیکھیں تو 2006ء سے جس ٹیم نے اپنے میدانوں پر سب سے عمدہ اوسط سے رنزبنائے ہیں، وہ پاکستان ٹیم ہے جس نے دس میچوں میں49.15 کی اوسط سے رنزبنائے تھے جبکہ اس عرصے میں کوئی بھی دوسری ٹیم اُس کے قریب تر نہیں ہے۔

42.56کی اوسط کے ساتھ دوسرے نمبرپرموجود آسٹریلیاتقریباً 7رنز فی اننگز پیچھے ہے لیکن 9 سال پیچھے جانے کے بجائے محض گزشتہ سالوں یعنی 2011ء سے اعدادوشمار یکجا کریں تو ہمیں انتہائی حیران کن نتائج دیکھنے کو ملتے ہیں ،وہی ٹاپ ٹیمیں اَوے اینڈ ہوم میچوں میں بیٹنگ اوسط میں زیادہ فرق رکھتی ہیں جو اچھی بیٹنگ کیلئے شہرت رکھتی ہیں جن میں آسٹریلیا اور بھارت شامل ہیں۔

گزشتہ چھ سالوں کے دوران آسٹریلوی ٹیم اپنے میدانوں پرسب سے زیادہ 43.86 رنز فی اننگزکی اوسط سے رنزبنانے والی ٹیم ہے جبکہ کوئی اور ٹیم اس عرصے میں 39کی اوسط تک بھی نہیں پہنچ سکی لیکن یہی آسٹریلوی ٹیم دیارِغیرمیں یکسرمختلف صورتحال سے دوچار ہوئی ہے جس کے بلے باز وہاں تقریباً 15رنز فی اننگزپیچھے رہے جس کا مطلب ایک ٹیم اننگزمیں میں اوسطاً 165رنز پیچھے رہے ہیں۔

آسٹریلیا واحد ٹیم ہے جس نے اَوے میچوں کی اوسط میں فرق 10 سے زائد رہاہے جبکہ اس فہرست میں دوسرے نمبرپر موجود بھارت کا یہ فرق 9.61رہا۔ یہ اعدادوشمار ’ایکسٹرا ہوم ایڈوانٹیج‘ کے انتہائی تشویشناک پہلو کو نمایاں کررہے ہیں۔

اس عرصے میں صرف پاکستان اور جنوبی افریقہ ہی دو ایسی ٹیمیں ہیں جنہوں نے اپنے ملک سے باہربھی30 سے زائد اوسط رنزبنائے ہیں جبکہ دیگر سبھی ٹیمیں اس سے نیچے رہی ہیں۔ان ٹیموں کا اس عرصے میں دیارغیر میں مجموعی نتائج بھی خاصے مایوس کن رہے ہیں ۔

مثال کے طورپر بھارت نے اس چھ سالہ دورانئے میں اپنے ملک سے باہر جن 33میچوں میں حصہ لیاہے،اُن میں سے 16 شکستوں کے بدلے صرف چھ کامیابیاں مل سکی ہیں جبکہ آسٹریلیابھی19ٹیسٹ شکستوں کو گلے لگانے کے بعد ہی 13کامیابیاں حاصل کرسکی ہے۔

درحقیقت، صرف پاکستان اور جنوبی افریقہ ہی دو ایسی ٹیمیں ہیں جنہوں نے گزشتہ چھ سالوں میں اپنے ملک سے باہر شکستوں سے زائد فتوحات حاصل کی ہیں۔

مندرجہ بالاچارٹ کے اعدادوشمار اس جانب اشارہ کررہے ہیں کہ آئی سی سی نے فیوچر ٹورز پروگرام کو نظراندازکرکے اپنی سیریز متعلقہ بورڈزکی صوابدیدپر چھوڑ کراس پورے رینکنگ نظام کوہی متنازعہ بنادیاہے۔

جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں بھی اگر حالات یونہی چلتے رہے توٹیموں کی درجہ بندی اور سیریزکھیلنے کی تعداد کا دارومدار صرف اورصرف ٹیموں کو دستیاب ’اسپانسرز‘پرہوگا۔جس سے چھوٹی مارکیٹ رکھنے والی ٹیموں کی مشکلات میں ناقابل بیان اضافہ ہوجائے گا اور کرکٹ کاکھیل دُنیابھرمیں فروغ پانے کے بجائے مزید سکڑنا شروع ہوجائے گا۔

مثال کے طورپر اپنے میدانوں پر کھیلنے کی سہولت نہ ہونے کے سبب پاکستان ٹیم یواے ای کے مہنگے میدانوں پر صرف ٹاپ ٹیموں کے خلاف ہی سیریز کھیل سکتی ہے کیونکہ بنگلہ دیش یا زمبابوے جیسی ٹیموں کے خلاف اسپانسرشپ کم ملنے سے اُن کا وہاں سیریز کھیلنا ممکن ہی نہیں۔

لہٰذا بڑی ٹیموں کے خلاف سیریز سے نتائج اتنے ’آئیڈیل‘نہیں ہوسکتے جتنا کہ کمزور ٹیموں کے خلاف کھیل کر ہوسکتے ہیں۔ اس طرح بھارت جتنی ہوم سیریز کوئی اور ایشیائی ٹیم منعقد نہیں کرسکتی کیونکہ اُنہیں زیادہ کھیلنے یا چھوٹی ٹیموں کے خلاف کھیلنے سے اسپانسرشپ مسائل آڑے آئیں گے۔

اس لئے وہ گھاٹے کی سیریز سے ہاتھ اُٹھانے کی کوشش کرتی ہیںجس کی مثال پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مجوزہ سیریزہے ۔بنگلہ دیش پاکستان آنے کو تیار نہیں تو پاکستان بھی اُس کی یواے ای کے ’مہنگے وینیوز‘پرمیزبانی کیلئے تیارنہیں جس کے سبب یہ سیریز ہی ’ملتوی‘کردی گئی ہے۔

یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے لیکن بدقسمتی سے کھیل کو چلانے اورفروغ کے ذمہ دار ادارے آئی سی سی نے بھی ’کاروبار‘کی لوری سنتے سنتے اپنی آنکھیں موند لی ہیں۔یہی دُعا ہے کہ آئی سی سی کی آنکھیں جلد کھل جائیں ،اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

چیمپئنز ٹرافی کے بائیکاٹ کا بھارتی ڈرامہ بھی فلاپ

آئی سی سی اجلاس میں بگ تھری اور ریونیو اصلاحات میں اکیلے رہ جانے والے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے