Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / بلاگ / بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور’کاغذی پھول‘ بن کر رہ گئے

بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور’کاغذی پھول‘ بن کر رہ گئے

پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ کانام پھول (اُردومیں) ہے لیکن بدقسمتی سے ابھی تک کاغذی پھول ہی ثابت ہوئے ہیں جن سے وابستہ خوشبوکی اُمیدیں دُوردورتک برلاتی نظر نہیں آتیں۔

پاکستانی ٹیم میں اگر سب سے زیادہ بڑا نقص اس کی غیر متوازن بیٹنگ کارکردگی ہے تو اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بیٹنگ کوچ کا کردار کہیں بھی دکھائی نہیں دیتا، زمبابوین کرکٹ کے اہم کردار گرانٹ فلاور کئی برس سے پاکستانی ٹیم کی تسلسل سے عاری بیٹنگ لائن کو سنبھالنے میںناکامی کے باوجود اپنی جگہ پر ڈٹے ہوئے ہیں جو عام طور پر پس پردہ رہنے میں ہی عافیت محسوس کرتے اور خود کو سامنے لانے سے گریزاں ہی رہتے ہیں۔

آسٹریلیا پہنچ کر کافی عرصے کے بعد منظر عام پر آنے والے گرانٹ فلاور کا خیال تھاکہ ’’ پاکستانی ٹیم میلبورن کی سخت وکٹ اور روایتی سرخ بال کی واپسی سے زیادہ اعتماد محسوس کر رہی ہے اور اگر پاکستانی بولرز نے اپنا مضبوط کردار ادا کر دیا تو کچھ بھی ہو سکتا ہے‘‘

شاید یہ ایک عجیب سا بیان کسی کو محسوس بھی نہ ہوا ہو کہ بیٹنگ کوچ اپنے سکھائے ہوئے بلے بازوں کے بجائے اس بات کی توقع کر رہا ہے کہ بولرز اچھی کارکردگی دکھا دیں تو پھر نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

ان سے کوئی بھی یہ بات نہیں پوچھتا کہ انہوں نے پاکستانی بیٹسمینوں کو مختلف حالات اور بدلتی ہوئی وکٹوں پر بیٹنگ کا ایسا کون سا گر سکھایا ہے کہ وہ کبھی تسلسل کے ساتھ کھیل ہی نہیں پاتے ہیںکیونکہ بعض اوقات دونوں اننگز میں ناکامی کے ساتھ ہی ایک اننگز میں اچھی اور ایک میں بری کارکردگی کا رواج عام ہوتا چلا جا رہا ہے۔

برسبین کی دوسری اور میلبورن کی پہلی اننگز اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی بیٹسمین کسی بھی قسم کے ماحول میں کھیل سکتے ہیں لیکن اس بات کا جواب بھی بیٹنگ کوچ سے ہی لیا جائے کہ جب ان کی ٹیم اچانک ڈھے جاتی ہے تو اس کی کیا وجہ ہے، وہ اس پہلو پر کام کیوں نہیں کرتے، کئی برس سے پاکستانی ٹیم کیلئے کام کرنے والے ماہر نے اس جانب توجہ کیوں نہیں دی ہے؟

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان برسبین میں پہلا ٹیسٹ ڈے اینڈ نائٹ تھا جہاں گلابی گیند استعمال کی گئی تھی لیکن میلبورن کی وکٹ کے بارے میں گرانٹ فلاور کا کہنا تھا کہ یہ اسٹرپ اچھی اور سخت نظر آرہی ہے جو کارکردگی دکھانے کیلئے بہتر ثابت ہوگی کیونکہ اس پر گیند بیٹسمین کی جانب روانی سے جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بولرز کو سخت محنت کرنا ہوگی تاکہ حریف ٹیم کو شروع سے ہی مشکل میں ڈال دیا جائے اور گیند ریورس سوئنگ بھی ہوئی تو پورا یقین ہے کہ پاکستانی ٹیم کے پاس کچھ کر دکھانے کیلئے بہت کچھ ہوگا۔

گرانٹ فلاور کی یہ تمام کی تمام باتیں یکسر غلط ثابت ہوئیں اور یہ پہلو بھی واضح ہو گیا کہ انہیں وکٹ پڑھنے میں بھی شدید مشکلات کا سامناہے، اسی وجہ سے وہ اپنے کھلاڑیوں کو وہ سب کچھ سکھانے اور بتانے میں کامیاب نہیں ہوتے جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔

پی سی بی کو چاہئے کہ وہ کھلاڑیوں کی لائن اپ میں تبدیلیوں کے ساتھ ہی اب کوچنگ اسٹاف میں موجود افراد کے مستقبل پر بھی ایک نظر ڈالے کہ ان میں سے کون تبدیل کیا جا سکتا ہے کیونکہ اب یہ بات انتہائی ضروری ہو چکی ہے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر مسائل کو ختم کرنے میں کبھی کامیابی نہیں مل سکے گی۔

نوٹ: یہ بلاگ ہفت روزہ ’’اسپورٹس لنک‘‘ سے لیا گیاہے۔

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

محمد عامر نے 17سالہ تاریخ بدل دی

پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر نے جمیکا ٹیسٹ کے دوسرے روز ساڑھے گیارہ اوورزکے کھیل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے