Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / اہم موضوعات / غیرمعمولی ہوم ایڈوانٹیج کرکٹ کیلئے’’سیکورٹی رِسک‘‘بن گیا

غیرمعمولی ہوم ایڈوانٹیج کرکٹ کیلئے’’سیکورٹی رِسک‘‘بن گیا

چند ہفتے قبل پاکستان میں کھیلوں کے سرفہرست میگزین ’’اسپورٹس لنک‘‘نے رینکنگ نظام میں موجود خامیوں کی دلائل اور اعدادوشمارکے ساتھ نشاندہی کی تھی جبکہ اسی دوران جنوبی افریقہ کے سابق کپتان گریم اسمتھ نے رینکنگ کو ہوم کے بجائے اَوے میچوں میں کارکردگی سے مشروط کرنے کامطالبہ کیاجو یقینا کچھ حلقوں کیلئے حیران کن تھا لیکن حقیقتاً یہ مطالبہ درست دکھائی دیتاہے اورخصوصاً آجکل کھیلی جانیوالی ٹیسٹ سیریز کے ’’نتائج‘‘نے تو اس ضرورت کو اوربھی بڑھا دیاہے۔

آجکل ہر ٹیم گھرکی شیر دکھائی دے رہی ہے جبکہ مہمان ٹیم کتنی ہی تیاری کے ساتھ آئی ہواُسے میزبان ملک کی کنڈیشنز اور پچوں کے ’’امتحان‘‘ سے گزرناہی پڑتاہے۔موجودہ دور میں کھیلی جانیوالے میچوںاور سیریزمیں نتائج کا تعین مدمقابل ٹیموں اورکھلاڑیوں کی صلاحیت سے کہیں زیادہ میزبان ملک کی ’’کنڈیشنز‘‘پرہوتا ہے۔

یہ یقینا کرکٹ شائقین کیلئے اچھی بات نہیں ہے۔کیاکوئی سوچ سکتاہے کہ نویں درجے کی بنگلہ دیشی ٹیم کے دیس میں سخت مسائل کا سامنا کرنے والی عالمی نمبر چار انگلش ٹیم کو اپنے میدانوں پر اس حریف کے خلاف اتنی مشکلات درپیش آسکتی ہیں؟

پروٹیزکے دیس میں کلین سوئپ کی خفت سے دوچار ہونے والی آسٹریلوی ٹیم کو کیا اپنے ملک میں اسی جنوبی افریقی ٹیم کے خلاف مشکلات درپیش ہوں گی جس کے خلاف محض چند ہفتے قبل وہ کلین سوئپ جیسی خفت سے دوچار ہوئی ہے؟ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ آجکل میچوں کے نتائج کا دارومدار ٹیموں کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ’’کنڈیشنز‘‘پرہوتاہے۔

اپنے ملک میں حریف ٹیم کو لتاڑکررکھ دینے والی ٹیم کو جب چند ہفتوں بعد اُسی ٹیم کا مہمان بننا ہوتا ہے تو ٹیم کی فیورٹ ٹیم اور میچوں کے نتائج کا رُخ یکسر بدل چکاہوتا ہے۔

اس کھلی حقیقت کو مزید ’’واضح‘‘کرنے کیلئے کئی مثالیں اور دلائل دیئے جاسکتے ہیں۔ 2012ء سے انگلینڈ اور آسٹریلیاکے درمیان مجموعی طورپر تین ایشز ٹیسٹ سیریز کھیلی گئی ہیں جن میں سے انگلینڈمیں کھیلی گئی دونوں سیریزمیں میزبان سائیڈ نے 3-0اور3-2 سے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ دوسری جانب انہی دونوں سیریزکے درمیان میں آسٹریلیامیں کھیلی گئی ایشز میں میزبان آسٹریلیانے5-0سے کامیابی حاصل کی ہے۔

یہ کتنی حیران کن بات ہے کہ جو ٹیم اپنے میدانوں پر دونوں سیریزمیں حریف کو قریب نہیں بھٹکنے دیتی،وہ چندماہ کے فرق سے اسی حریف ٹیم کے ملک میں جاکر بالکل ’’پھُس‘‘ہوجاتی ہے اور5-0کے کلین سوئپ کا طوق گلے میں ڈالے وطن واپس لوٹتی ہے۔

ہوم ایڈوانٹیج کو مزیدآسانی سے سمجھنے کیلئے ’’غیرمعمولی ہوم ایڈوانٹیج کرکٹ کیلئے’’سیکورٹی رِسک‘‘بن گیا‘‘ کے عنوان سے شائع کیاگیامکمل مضمون ہفت روزہ میگزین ’’اسپورٹس لنک‘‘ میں ملاحظہ کیجئے

ہرٹیم کی ہوم اینڈاَوے کارکردگی کی مکمل تفصیل آپ ہفت روزہ ’’ اسپورٹس لنک‘‘ میں ملاحظہ کرسکتے ہیں جبکہ اسی مضمون سے لیاگیاچارٹ آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں۔

اگلی سطورمیں ٹاپ ٹیموں کی کارکردگی کا مختصراً جائزہ پیش کیاجارہاہے۔

tabs-2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے