Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / اہم موضوعات / بکی کی اطلاع دینے پرپاکستانی کرکٹرکی جان خطرے میں

بکی کی اطلاع دینے پرپاکستانی کرکٹرکی جان خطرے میں

پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن قانون میں میچ یا اسپاٹ فکسنگ کیلئے رابطہ کرنے والے شخص کی اطلاع بورڈکودینا ضروری ہے لیکن یہ شق اب کھلاڑیوں کیلئے وبال ِ جان بن گئی ہے۔

بکی کی جانب سے اسپاٹ فکسنگ کیلئے رابطہ کرنے پر مڈل آرڈر بیٹسمین عمرامین کی جان خطرے میں پڑ گئی ہے۔اس بات کا انکشاف پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے ایک ٹی وی پروگرام میں کیاہے۔اُن کاکہناتھا کہ عمرامین نے بورڈکو رپورٹ کی تھی کہ اُسے فکسنگ کیلئے کہاجارہاہے لیکن اُس بکی کے خلاف تو کچھ نہیں ہوا،اُلٹا عمرامین کی جان خطرے میں پڑگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کامران، عمران اور اعجازکے بھی بکی سے روابط سامنے آگئے

راشدلطیف نے کہاہے کہ کھلاڑیوں کی جانب سے جن بکیوں کی نشاندہی کی گئی ہے،وہ سبھی کراچی اورلاہورمیں آزادانہ گھوم رہے ہیں ۔یہاں اطلاع نہ دینے پر کھلاڑیوں پرپابندی عائد کردی جاتی ہے لیکن اطلاع پربھی بکیوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔راشدلطیف نے کہاکہ جب تک بورڈمیں بیٹھے لوگوں کااحتساب نہیں ہوگا،تب تک کچھ نہیں بدلے گا۔

راشدلطیف نے انکشاف کیاہے کہ اُنہیں کیریئر کے دوران ایک نہیں بلکہ دس بار فکسنگ کی آفرز ہوئیں اور ہربار ہی اُنہوں نے بورڈکو اطلاع دی مگر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔سابق کپتان کا کہناہے کہ فکسنگ کی آفرکرنے کی اطلاع دینے کا بورڈکا قانون ہی غلط ہے ۔جان کے خطرے کے پیشِ نظر اکثر پلیئرز اس بارے میں بتاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

اسپاٹ فکسنگ کیس میں ناصر جمشید پربھی فرد جرم عائد

ناصر جمشید کی جانب سے اسپاٹ فکسنگ تحقیقات میں عدم تعاون کے سبب پی سی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے