Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / بلاگ / وہاب ریا ض کے ’’باتوں کے بائونسرز‘‘ کا سلسلہ جاری

وہاب ریا ض کے ’’باتوں کے بائونسرز‘‘ کا سلسلہ جاری

کرکٹ کوئی آسان کھیل نہیں اور اس میں کامیابی کا حصول اتنا ہی زیادہ کٹھن ہے لیکن کچھ لوگوں کا خیال شاید یہ ہوتا ہے کہ وہ محض زبانی طور پر بھی ’’کارکردگی ‘‘دکھا کر کھیل سکتے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

یہ بات درست ہے کہ وہاب ریاض کو انگریزی بولنے کی اہلیت کے سبب پریس کانفرنس میں بٹھا دیا جاتا ہے لیکن ان کو یہ بات نہیں سمجھائی جاتی کہ انہیں بے پر کی ہانکنے اور اپنی ذاتی سوچ کو اُبھارنے کے بجائے ٹیم کے بارے میں بات کرنا ہے۔

دورۂ ویسٹ انڈیزمیں اپنی پریس کانفرنس میں وہاب ریاض نے کامیابیوں کا تمام تر کریڈٹ بولنگ کے شعبے کیلئے کی جانے والی منصوبہ بندی کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ اگر دیکھا جائے تو فتح کا باعث پلاننگ اور اس پر درست انداز سے عمل کرنا ہی تھااور اگر کوئی اس کا کریڈٹ لے سکتا ہے تو وہ بولنگ کوچ اظہرمحمود،کپتان اور دیگر کوچز ہی ہو سکتے ہیں

مصنف کا نقطہ نظرـ:
اگر وہاب ریاض کی یہ بات کسی حد تک تسلیم بھی کر لی جائے تو اس پہلوکو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ ایک کمزور ٹیم کیخلاف کامیابی کے بعد اس قسم کے دعوے کسی طور بھی زیب نہیں دیتے کیونکہ سب لوگ اس بات سے پوری طرح واقف ہیں کہ اظہرمحمود کی بطور کوچ اہلیت پہلے ہی بڑے سوالیہ نشان تلے دبی ہوئی ہے۔

ناقدین اس بات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کا بولنگ کوچ تبدیل کرنا چاہئے لیکن وہاب ریاض کے اس بیان سے لگتا ہے کہ انہوں نے پاکستانی بولرز کی اہمیت کے بجائے بالنگ کوچ کو بچانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے۔

یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر بولنگ کوچ اتنے ہی بڑے ’’ماہر‘‘ہیں کہ ان کی منصوبہ بندیاں کارآمد ثابت ہو رہی ہیں تو ان کی باتوں کا اثر خود وہاب ریاض پر کیوں نہیں ہو رہا جنہوں نے گیند کو وکٹ پر پٹخنے اور مار کھانے کے سوا کچھ نہیں کیا ہے۔کھیل کے شائقین تو اب یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ آخروہاب ریاض کو کس اہلیت کے سبب قومی ٹیم کے ساتھ رکھا جا رہا ہے کیونکہ فاسٹ بولرز کا کام تو وکٹیں لینا ہوتا ہے لیکن وہ اسی پہلو سے کمزوری کا شکار اور محض باتیں بنا کر ہی ٹیم کے ساتھ چپکے ہوئے ہیں۔

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

وہاب ریاض کے والد انتقال کرگئے

آسٹریلیا سے وطن واپس آتے ہی قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر وہاب ریاض کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے