Clicky

ہوم / ممالک / پاکستان / مصباح پراندھی تنقیداوریکسر مختلف حقائق!!

مصباح پراندھی تنقیداوریکسر مختلف حقائق!!

پاکستان کرکٹ ٹیم آسٹریلیامیں مسلسل چوتھے دور ے میں ٹیسٹ میچوں میں وائٹ واش کی خفت سے دوچار ہوئی ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ کینگروزکے دیس میں ہماری ایسی اور تواتر سے شکستیں نئی بات تو نہیں ہے تاہم اس بار پاکستان کی مضبوط اورماضی کے مقابلے میں آسٹریلیاکی نسبتاً کمزور ٹیم کے سبب ہمیں اُمیدتھی کہ گرین کیپس بازی پلٹ دیں گے جو دُنیا کی دوسری بہترین ٹیم کے طورپر کینگروز کے دیس پہنچے تھے۔

گزشتہ تین ٹورزکے مقابلے میں اس با ر پاکستان نے پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں مزاحمت ضرور کی مگرمیچ جیتنا تو کُجا کوئی ٹیسٹ ڈرا بھی نہ کراسکے جس کے اُنہیں ایک سے زائد مواقع ملے۔

پہلے برسبین ٹیسٹ میں 142رنزپر ڈھیر ہوجانے کے بعدکسی بھی ماہرِ کرکٹ حتیٰ کہ خود پاکستانی ٹیم کو بھی اُمید نہیں تھی کہ وہ 490رنزکے ریکارڈہدف کے قریب پہنچ جائے گی۔ اسد شفیق کی یادگار اننگزکی بدولت پاکستان ٹیم نے برسبین ٹیسٹ کی آخری اننگزمیں ریکارڈ450 رنز بناکر شائقین کے دل جیتے۔

یہی وجہ ہے کہ شکست کے باوجود اُنہیںفتح جیسا ’پروٹوکول‘ ملا۔ جس کے بعد دوسرے ملبورن ٹیسٹ میں اظہرعلی کی ریکارڈڈبل سنچری (جوکسی بھی پاکستانی بیٹسمین کی آسٹریلیامیں اولین ڈبل سنچری تھی)کی بدولت پاکستان ٹیم 443/9dکامجموعہ اسکوربورڈ کی زینت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔

گزشتہ چھ سالوں میں مصباح الحق اپنے ملک سے باہر سب سے زیادہ ٹیسٹ جیتنے والے کپتان ہیں جبکہ تناسب کے اعتبار سے محض گریم اسمتھ اور ویرات کوہلی کے بعد دوسرے نمبرپر ہیں
گزشتہ چھ سالوں میں مصباح الحق اپنے ملک سے باہر سب سے زیادہ ٹیسٹ جیتنے والے کپتان ہیں جبکہ تناسب کے اعتبار سے محض گریم اسمتھ اور ویرات کوہلی کے بعد دوسرے نمبرپر ہیں

جس کا اُنہیں آسٹریلیا کی جانب سے بھرپور جواب ملامگر اس کے باوجود وہ اس پوزیشن میں تھی کہ باآسانی میچ ڈراکراکر شکست سے بچ جاتی لیکن پاکستانی بیٹسمین آخری روز کے محض دو سیشنز بھی نہ نکال سکے جنہیں آسٹریلوی بلے بازوں نے 53.2 اوورزمیں 163رنزپر ڈھیرکرکے اننگزکی شکست سے دوچار کردیا۔

اس شکست اور سیریزصفر،دو سے گنوانے کے بعد پاکستان ٹیم کیلئے سڈنی ٹیسٹ محض ایک’رسمی کاروائی‘ بن گیا جس میں پاکستان ٹیم کیلئے محض ایک ریٹنگ پوائنٹ پانے کے علاوہ کچھ نہیں تھا لیکن یہاں بھی شکستوں کے آسیب نے پاکستان ٹیم کا پیچھا نہ چھوڑاجو دونوں اننگزمیں 315اور244رنزبناکر 220 رنزکے بڑے مارجن سے شکست سے دوچار ہوگئی۔

اس سیریزمیں ’روایتی شکست‘ کے بعد سابق کرکٹرزنے حسب ِ توقع اورعادتاً ٹیم پر تنقید اور کپتان کی تبدیلی کا مطالبہ کردیا جن میں سے اکثریت اُن پلیئرزکی تھی جنہیں خود آسٹریلیا میں اس سے بھی بدتر نتائج کا سامناکرناپڑاتھا۔

ٹیم کی شکست پر دل گرفتہ ہونا ، بہتر پوزیشن کے باوجود میچ ہارجانے پر دل میں ملال ہونا الگ بات لیکن حقائق کو یکسر تروڑمروڑ کرپیش کرنا یقینا اچھی بات نہیں ہے جس سے شائقین کرکٹ کو مایوسی کے سواکچھ نہیں ملتا اور اُن کا کرکٹ سے دل ہی اُچاٹ ہونا شروع ہوجاتا ہے جو نہ صرف شائقین کرکٹ کے ساتھ بلکہ ملکی کرکٹ کے ساتھ بھی زیادتی ہے۔

یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کہ آجکل تمام فارمیٹس خصوصاً ٹیسٹ کرکٹ کنڈیشنزکی محتاج ہوکر رہ گئی ہے ۔گزشتہ تین چارسال اس کی سب سے بڑی مثال بن کر ہمارے سامنے موجود ہیں لیکن اگر ہمیں ہی حقیقت دکھائی نہیں دیتی تو پھر ہمیں ہی اپنی ذہنی کیفیت پر تشویش ہونی چاہیے ناں کہ ٹیم پر تنقید برائے تنقید کی بوچھاڑکردی جائے۔

اگر یہی آسٹریلوی ٹیم پاکستان سے ملتی جلتی یواے ای کی کنڈیشنز میں شکست سے دوچار ہوتی ہے تب بھی یہی نام نہاد سابق ٹیسٹ کرکٹر اور کچھ ’ماہر‘کے لبادے میں ٹی وی اسکرین پر بیٹھے اینکرز پاکستان ٹیم پر تنقید کرتے ہیں کہ…’ ’ ان فتوحات میں کنڈیشنز کا زیادہ عمل دخل ہے‘‘…

لیکن جب پاکستانی ٹیم حریف ٹیم کے ملک میں جاکر ہارتی ہے تووہاں ’کنڈیشنز‘ کی بات کو ایک طرف رکھ کر سب اس کے لتے لینے کو دوڑتے ہیںاور یہ ’’ڈگڈگی‘‘ تواتر کے ساتھ بجائی جاتی ہے اور اللہ بھلا کرکے ہمارے کرکٹ بورڈکا جو ایسے ’’حضرات‘‘کی تنقیدکے دبائو میں آکر آڑے ترچھے فیصلے کرکے ٹیم کو دوبارہ ریورس گیئرمیں ڈال دیتے ہیں۔

حالیہ چھ سالوں میں یونس خان 50 سے زائد اوسط سے ٹیسٹ رنز بنانے والے اکلوتے پاکستانی بلے باز ہیں
حالیہ چھ سالوں میں یونس خان 50 سے زائد اوسط سے ٹیسٹ رنز بنانے والے اکلوتے پاکستانی بلے باز ہیں

آسٹریلیامیں شکست کے بعد حسب ِروایت پاکستان ٹیم کا کپتان تبدیل کرنے کی باتیں بلکہ مطالبے کئے جارہے ہیں جو سراسرغلط بات ہے ۔یہی لوگ محض پانچ ٹیسٹ میچ قبل مصباح الحق کے قصیدے پڑھتے ہوئے اُنہیں 2018ء تک ٹیسٹ کپتانی جاری رکھنے کا کہہ رہے تھے لیکن اب اُن کا ’راگ‘اچانک بے تر تیب ہوکر یکسر بدل گیا ہے لیکن اگر موجودہ وقت میں اُن سے ’متبادل کپتان‘کا پوچھا جائے تو ’’کراچی میڈڈصحافی‘‘اپنے شہر کے سرفرازاحمد کا نام پیش کردیں گے جسے ابھی خودکو بطورکپتان خودکو ثابت کرنا ہے جبکہ ’’لاہورئیے‘‘ صحافی اظہرعلی کی طرف دیکھنا شروع کردیتے ہیں۔

ورلڈکپ2015ء کے بعد جب اظہرعلی کو ون ڈے ٹیم کا کپتان بنانے کا فیصلہ کیاگیاتھا تو بنگلہ دیش میں تین، صفر کی ناکامی کا داغ سہنا پڑا جس کی وجہ اس فارمیٹ سے باہربیٹھے ہوئے کھلاڑ ی کو اچانک قیادت سونپنا تھا۔بعدازاں اُس نے سری لنکا کو اس کے دیس میں ون ڈے سیریز ہراکر پاکستان کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں شامل کرایا جو تقریباً ایونٹ سے باہر ہوچکی تھی ۔

اُس کے بعداُس کی قیادت میں پاکستان ٹیم فتوحات کے تسلسل کو برقرار تو نہیں رکھ سکی لیکن اگر کسی’’ خاص مقصد‘‘کو ذہن میں رکھے بغیر نیوٹرل ہوکرحالات کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کی ون ڈے کارکردگی میں بھی بہتری محسوس کی جاسکتی ہے۔یہ بحث میں کسی اور دن کیلئے رکھ دیتاہوں۔ واپس ٹیسٹ کرکٹ اور حالیہ دورۂ آسٹریلیامیں پاکستان کی شکست کی جانب آتے ہیں۔

میرا سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان گزشتہ چھ سالوں میں آسٹریلیا میں شکست کھانے والی پہلی ٹیم ہے یا مصباح الحق پہلے کپتان ہیں؟ … اگر ہماری یادداشت پوری طرح کام کرتی ہے اور ہم حالات کا صحیح تجزیہ کرنے کے ’’قابل‘‘ ہیں تو گزشتہ چھ سال (10 جنوری 2011ء سے 10جنوری2017ء) کے اعدادوشمار ہی ساری صورتحال واضح کرنے کیلئے کافی ہیں ۔

ان چھ سالوں میںآسٹریلیامیں اپنی ٹیم کی قیادت کرنے والے گیارہ غیرملکی کپتانوں میں ماسوائے فاف ڈوپلیسی کے ایک بھی ایسا کپتان نہیں ہے جس نے وہاں ٹیسٹ سیریز حتیٰ کہ ایک سے زائد ٹیسٹ میچ جیتا ہو جبکہ گریم اسمتھ اور راس ٹیلر کے علاوہ دیگرآٹھ کپتانوں میں کوئی بھی وہاں ایک فتح تک حاصل نہیں کرسکا اور ان کپتانوں میں مہندراسنگھ دھونی،الیسٹرکک اور برینڈن میکولم جیسے کامیاب ترین کپتان بھی شامل ہیں۔

تو کیا ان سب کپتانوں کو پکڑکر باہر کردینا چاہیے ،یا وہاں دو کوششوں کے باوجود فتح حاصل نہ کرپانے والے ویرات کوہلی سے ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی چھین لینی چاہیے؟

1 box

یہ صورتحال صرف آسٹریلیا میں نہیں ہے بلکہ حالیہ ہی عرصے میں اسٹیون اسمتھ کی قیادت میں آسٹریلوی ٹیم سری لنکامیںوائٹ واش کی خفت سے دوچار ہوکرآئی ہے اور کینگروز کے خلاف ہوم گرائونڈزپر ’ناقابل تسخیر‘ بننے والی سری لنکن ٹیم پروٹیزکے دیس میں فتح کیلئے ترس رہی ہے ۔

اس طرح الیسٹرکک کی قیادت میں اپنے میدانوں پر حریف ٹیم کی جان کو آنے والی انگلش ٹیم اسی کپتان کی قیادت میں بھارت میں0-4کی شکست کھاکروطن واپس گئی ہے۔ لہٰذا ہمیں سوچنا اور سمجھنا چاہیے کہ موجودہ کرکٹ میں ہوم گرائونڈزاورکنڈیشنزکا بہت زیادہ عمل دخل ہوگیاہے اور پاکستان ٹیم یا مصبا ح الحق کسی اور سیارے پر نہیں رہتے کہ اُن کا ان زمینی حقائق کا اثرہی نہ ہو۔

اگر ہوم گرائونڈزپرکھیلے گئے میچز کو نکال کرگزشتہ چھ سالوں میں کپتانوں کی فتح و شکست کے تناسب سے درجہ بندی کی جائے تو اس عرصے میں سب سے زیادہ 23 فتوحات حاصل کرنے والے مصباح الحق 1.27کے تناسب سے تیسرے کامیاب ترین کپتان کے طورپر جگمگا رہے ہیں جن کے آگے صرف گریم اسمتھ اور ویرات کوہلی ہیں ۔

بھارتی کپتان کے ان بہتر اعدادوشمار کی وجہ ماسوائے ایک مشکل ٹورکے سری لنکا،ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کے نسبتاً آسان ٹورز ہیں جہاں وہ بنگلہ دیش میں کھیلے گئے فتح اللہ ٹیسٹ میں اپنی ٹیم کو ’’ڈرا‘‘سے بڑی خوشی نہ دے سکے۔دورۂ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیامیں لگاتار پانچ شکستوں کے باوجود مصباح الحق کا اپنے ملک سے باہر میچوں کے کامیاب کپتانوں کی فہرست میں تیسرا جبکہ فتوحات کے اعتبار سے پہلا نمبر حاصل کرنا ایسا کارنامہ ہے جسے اتنا آسانی سے نظر اندازنہیں کیا جاسکتا۔

یہ صورتحال صرف آسٹریلیا میں نہیں ہے بلکہ حالیہ ہی عرصے میں اسٹیون اسمتھ کی قیادت میں آسٹریلوی ٹیم سری لنکامیںوائٹ واش کی خفت سے دوچار ہوکرآئی ہے اور کینگروز کے خلاف ہوم گرائونڈزپر ’ناقابل تسخیر‘ بننے والی سری لنکن ٹیم پروٹیزکے دیس میں فتح کیلئے ترس رہی ہے ۔

اس طرح الیسٹرکک کی قیادت میں اپنے میدانوں پر حریف ٹیم کی جان کو آنے والی انگلش ٹیم اسی کپتان کی قیادت میں بھارت میں0-4کی شکست کھاکروطن واپس گئی ہے۔ لہٰذا ہمیں سوچنا اور سمجھنا چاہیے کہ موجودہ کرکٹ میں ہوم گرائونڈزاورکنڈیشنزکا بہت زیادہ عمل دخل ہوگیاہے اور پاکستان ٹیم یا مصبا ح الحق کسی اور سیارے پر نہیں رہتے کہ اُن کا ان زمینی حقائق کا اثرہی نہ ہو۔

اگر ہوم گرائونڈزپرکھیلے گئے میچز کو نکال کرگزشتہ چھ سالوں میں کپتانوں کی فتح و شکست کے تناسب سے درجہ بندی کی جائے تو اس عرصے میں سب سے زیادہ 23 فتوحات حاصل کرنے والے مصباح الحق 1.27کے تناسب سے تیسرے کامیاب ترین کپتان کے طورپر جگمگا رہے ہیں جن کے آگے صرف گریم اسمتھ اور ویرات کوہلی ہیں ۔

بھارتی کپتان کے ان بہتر اعدادوشمار کی وجہ ماسوائے ایک مشکل ٹورکے سری لنکا،ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کے نسبتاً آسان ٹورز ہیں جہاں وہ بنگلہ دیش میں کھیلے گئے فتح اللہ ٹیسٹ میں اپنی ٹیم کو ’’ڈرا‘‘سے بڑی خوشی نہ دے سکے۔دورۂ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیامیں لگاتار پانچ شکستوں کے باوجود مصباح الحق کا اپنے ملک سے باہر میچوں کے کامیاب کپتانوں کی فہرست میں تیسرا جبکہ فتوحات کے اعتبار سے پہلا نمبر حاصل کرنا ایسا کارنامہ ہے جسے اتنا آسانی سے نظر اندازنہیں کیا جاسکتا۔

Box2

جہاں تک مصباح الحق کی عمرکی بات ہے کہ ایسے ’بڑامعاملہ‘ بنانے کم ازکم یہ تو بتائیں ناں کہ 30 سے کم سال کے’’کاغذی نوجوانوں‘‘ کی پرفارمنس کا گراف کیاہے۔(عمرکے لحاظ سے پاکستانی کرکٹرزکی کارکردگی ملاحظہ کریں)

جگہ کی کمی کے سبب میں یہ بحث یہی سمیٹ رہااورشائقین کرکٹ وماہرین کیلئے یہ سوال چھوڑ کرجارہاہوں کہ ٹی وی اسکرین پر’’ماہر‘‘ بن کربیٹھے والے اپنی ’’گپ شپ‘‘میں آخر کس بنیادپرتبصرے کرتے یا رائے دیتے ہیں؟…انہیں اس ’’گپ شپ‘‘کے عوض ٹی وی چینلزسے بھاری معاوضہ ملتا ہے۔

لہٰذا اُنہیں یہ معاوضہ ’’حلال‘‘کرتے ہوئے حالات اور حقائق پر بھی نگاہ ڈال لینی چاہیے وگرنہ اُن کے بے تُکے تبصرے یوں ہی شائقین کرکٹ میں بددِلی اور مایوسی پھیلاتے رہیں گے!!

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

مصباح الحق کے متبادل کیلئے سلمان بٹ کا نام زیرغور

پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹرانضمام الحق نے اعتراف کیاہے کہ مصباح الحق اور یونس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے