Clicky

ہوم / بلاگ / لاکھوں کا ایک تھپڑ…

لاکھوں کا ایک تھپڑ…

توقعات کے برخلاف سابق کھلاڑی باسط علی جو اپنے پی سی بی میں دونوں عہدے بچانے میں کامیاب ہو گئے تھے اچانک حالات کے آگے ہتھیار پھینک بیٹھے، ان کے سر سے پی سی بی چیف کا دست شفقت بھی ہٹ گیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی جونیئر کرکٹ سلیکشن کمیٹی کے سربراہ اور قومی خواتین کرکٹ ٹیم کے چیف کوچ باسط علی کو دونوں عہدوں سے فارغ کر دیا، جس کی وجہ سے تنخواہ کی مد میں آنے والے لاکھوں روپے سے وہ محروم ہوگئے ہیں یوں اُنہیں ایک تھپڑ ہی لاکھوں روپے کا پڑگیا۔

چیئر مین شہریار خان نے ویمنز ٹیم کے ہیڈ کوچ اور جونیئر ٹیم کے چیف سلیکٹر سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی کو دونوں عہدوں سے الگ کرنے کے فیصلہ کیا کیونکہ ان کی حالیہ کارکردگی ہی نہیں، طرز عمل بھی بہتر نہیں تھا۔

واضح رہے کہ ان کی کارکردگی پر کئی حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید کی جا رہی تھی جس میں سابق انٹرنیشنل کرکٹر محمود حامد بھی شامل تھے جن کو باسط علی نے غصے میں آکر تھپڑ بھی جڑ دیا جس پر ان کا معاملہ مزید خراب ہو گیا۔

باسط علی کی جانب سے تھپڑ مارنے کے اس واقعے کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آئے لیکن پھر انہوں نے اپنی اس حرکت پر معافی مانگ لی اور اپنی کہی ہوئی بات خود ہی غلط ثابت کردی کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں تھا۔ دونوں کھلاڑیوں نے شہریارخان سے حال ہی ملاقات بھی کی اور اس واقعے کی بابت اپنی جانب سے صفائی پیش کی تھی، ان کے درمیان صلح کے بعد یہ معاملہ نمٹ چکا تھا لیکن پی سی بی حکام نے اس کے باوجود باسط علی کو ٹھکانے لگا دیا جنہیں پی سی بی کے کچھ عہدیدار بچانے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔

البتہ بورڈکے اعلامئے کے مطابق باسط علی پر پی سی بی، پی ایس ایل اور پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ میں کسی بھی قسم کی ذمہ داریاں ادا کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہو گی، وہ کسی بھی جگہ دیگر ذمہ داریاں ادا کر سکتے ہیں۔

اب یہ بات انہیں کوئی کیسے سمجھائے کہ جس ’’ماہر‘‘کو انہوں نے دو عہدوں سے الگ کر دیا اور انہیں ان پر اعتماد بھی نہیں رہا ہے تو وہ بورڈ میں اب کیسے کوئی اور ذمہ داریاں نبھا سکتے ہیں اور انہیں کس بنیاد پر کوئی اور عہدہ دیا جا سکے گا؟

یہی پاکستان کرکٹ بورڈ کی سب سے بڑی کمزوری ہے کہ اس کے فیصلوں میں کبھی اس بات کی نشاندہی نہیں ہوتی کہ یہ اصولوں کی بنیاد پر کئے گئے ہیں کیونکہ جب کوئی اقدام اصول پر کیا جاتا ہے تو اس میں اگر یا مگر کی گنجائش نہیں ہوتی۔

پی سی بی کا خیال اگر یہ ہے کہ باسط علی حساس معاملات کو سنبھالنے کے اہل نہیں تو انہیں کسی اور جگہ خدمات کی انجام دہی کیلئے کیوں کہا جا رہا ہے خاص کر اس وقت جب ان میں بہتری کا کوئی عنصر بھی واضح نہیں ہے۔

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

چیمپئنزٹرافی کی کوریج پر خاص ایڈیشن شائع ہوگیا

پاکستا ن میں کھیلوں کے سرفہرست میگزین ’اسپورٹس لنک‘ کا جون 2017ء کا ایڈیشن3 (18تا24جون) …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے