Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / اہم موضوعات / سالانہ رینکنگ اپ ڈیٹس،پاکستان کی ترقی کا امکان روشن

سالانہ رینکنگ اپ ڈیٹس،پاکستان کی ترقی کا امکان روشن

آئی سی سی ورلڈکپ2019ء میں براہ راست شرکت کیلئے ویسٹ انڈیز، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مقابلہ جاری ہے جنہیں 30ستمبرکی کٹ-آف ڈیٹ تک خودکو ٹاپ8 ٹیموں میں شامل یا برقراررکھنا ہے۔

آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں آٹھویں اور نویں درجے کی حامل پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان آج تین ون ڈے میچوں کی سیریز شروع ہورہی ہے۔گرین شرٹس(89) اورمیزبان سائیڈ(84) کے درمیان پانچ پوائنٹس کا فرق موجود ہے۔

بنگلہ دیش92پوائنٹس کے ساتھ ساتویں جبکہ سری لنکا 98پوائنٹس کے ساتھ چھٹے نمبرپر موجود ہے۔اگرچہ سری لنکا کسی حد تک خودکو ریلیکس محسوس کررہی ہے مگر سالانہ اپ ڈیٹنگ کے نتیجے میں کچھ بھی ممکن ہے کیونکہ اس سے 2013/14ء کا ریکارڈ حذف کردیا جائے گا۔یہ وہ سیزن تھا جس میں سری لنکا نے2.75کے تناسب سے کامیاب ترین ٹیم تھی جس نے 16میں سے گیارہ ون ڈے میچز جیتے تھے۔

سالانہ رینکنگ اپ ڈیٹنگ میں 2013/14ء کے سیزن کا ریکارڈ نکلنے سے سری لنکن ٹیم خسارے میں جبکہ پاکستان ٹیم فائدے میں رہے گی۔

2013/14ء میں پاکستان کی کارکردگی ففٹی تھی جس نے 18میں سے 9میچز جیتے تھے اور اتنے ہی میچوں میں شکست کھائی تھی لیکن بنگلہ دیش کی کارکردگی نہایت خراب تھی جس نے دس میچوں میں سات شکستوں کے بدلے صرف تین میچز جیتے تھے۔یہ ’’خراب ریکارڈ‘‘نکال دئیے جانے سے بنگلہ دیش کو سالانہ رینکنگ اپ ڈیٹس میں زیادہ فائدہ ہونے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ میزبان انگلینڈکے علاوہ30ستمبر تک آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں ٹاپ8میں شامل ہونے والی دیگر سات ٹیمیں ہی ورلڈکپ2019ء میں براہ راست شرکت کی اہل ہوں گی بصورت دیگر انہیں اگلے سال(2018ئ) ایسوسی ایٹ ٹیموں کے ساتھ بنگلہ دیش میں شیڈول ورلڈکپ کوالیفائرز ایونٹ کھیلنا پڑے گا جس سے مزیدصرف دو ٹیمیں ورلڈکپ کیلئے شرکت کا پروانہ حاصل کرسکیں گی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم اگر ویسٹ انڈیزکے خلاف تین میچوں کی سیریزمیں کلین سوئپ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تب وہ یکساں پوائنٹس(92)کے بعد اعشاریاتی برتری کے سبب بنگلہ دیش سے ساتویں پوزیشن چھین لے گی لیکن کلین سوئپ سے کم کوئی بھی نتیجہ پاکستان کی رینکنگ بہتربنانے میں معاون ثابت نہیں ہوگا۔

دو،ایک سے فتح کی صورت میں پاکستان ایک پوائنٹ حاصل کرسکے گی جس کی بدولت بنگلہ دیش دو پوائنٹس کے فرق سے بدستور ایک درجہ اوپر موجود رہے گی۔اس طرح اسی مارجن سے شکست کی صورت میں بھی پاکستان کی آٹھویں پوزیشن محفوظ رہے گی البتہ اس سے دونوں ٹیموں کے درمیان صرف تین پوائنٹس کا فرق باقی رہ جائے گا۔

آج شروع ہونے والی سیریزمیں پاکستان کی رینکنگ میں تنزلی کا واحد خطرہ کلین سوئپ ہے کیونکہ تینوں میچز جیتنے کی صورت میں ویسٹ انڈیزاورپاکستان کے پوائنٹس (87)برابرہوجائیں گے مگراعشاریاتی فرق کے سبب ویسٹ انڈیز آٹھویں پوزیشن پر آجائے گا۔

صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان کو ورلڈکپ2019ء میں براہ راست شرکت کی کٹ آف ڈیٹ (30ستمبر2017ئ) تک کم ازکم 9ون ڈے میچز کھیلنے ہیں جن میںانگلش کنڈیشنزمیں اُسے سخت حریفوں کے خلاف آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے میچز بھی کھیلناہیں جبکہ اس دوران ویسٹ انڈیز باہر بیٹھ کر پاکستان اور بنگلہ دیش کے میچوں پر نگاہیں جماکررکھے گی کیونکہ وہ 2015ء میں ہی ٹاپ8ٹیموں سے خارج ہونے کے سبب اس ایونٹ سے باہرہوگئی تھی۔

دوسری جانب،ساتویں نمبرپر موجود بنگلہ دیش نے چیمپئنز ٹرافی میں شرکت سے قبل آئرلینڈمیں شیڈول ٹرائنگولر سیریز میں شرکت کرنا ہے جہاں نیوزی لینڈ تیسری ٹیم کے طورپرموجود ہوگی۔اس سیریزمیں میزبان آئرلینڈ کیخلاف ایک بھی اپ سیٹ شکست بنگلہ دیش پر کافی بھاری پڑسکتی ہے۔

اس ٹرائنگولر سیریز سے قبل آئی سی سی کی سالانہ رینکنگ اپ ڈیٹ ہونی ہے جس میں 2013/14ء کے سیزن کا ریکارڈ نکال دیاجائے گا۔اس سیزن کا ریکارڈ نکلنے سے سب سے زیادہ فائدہ بنگلہ دیش کو ہوگا جسے 10میچوںمیں سات شکستوں کا بدترریکارڈ خارج ہونے سے سالانہ رینکنگ اپ ڈیٹنگ میں کافی فائدہ ہوگا جبکہ 2013/14ء کے سیزن کی کامیاب ترین ٹیم سری لنکا خسارے میں رہے گی۔

2013/14ء کے سیزن کے بعد اب تک کھیلے گئے میچوں میں چھٹے سے نویں درجے کی ٹیموں کے نتائج پر نگاہ ڈالیں تو ویسٹ انڈیزہی سب سے کمزور سائیڈ دکھائی دیتی ہے جسے 35ون ڈے میچوں میں0.36کے تناسب سے صرف9کامیابیوں کے بدلے 25 ناکامیوں کا سامناکرناپڑا ہے۔

اس طرح 51میچوں میں 30شکستوں کے بدلے صرف20میچز جیتنے والی پاکستان ٹیم کا تناسب (0.70) بھی اچھا نہیں ہے مگر یہ دیگر تینوں ٹیموں سے بہتر اور سری لنکا کے عین برابر ہے جس نے 64میچوں میں 34شکستوں کے بدلے 24کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔دوسری جانب،اس عرصے میں بنگلہ دیش کا ٹریک ریکارڈ ناقابل یقین حدتک شاندا رہے جس نے 1.83کے تناسب سے 35 میچوں میں 12شکستوں کے بدلے22میچز جیتے ہیں۔

سالانہ اپ ڈیٹنگ میں رینکنگ قوانین کے مطابق نئے سال میں (2مئی2016ء کے بعد سے)کھیلے گئے میچوں کا زیادہ ( impact)اثرہوگاجبکہ آخری سیزن(2014/15ء) کے میچوں کا اثر آدھا رہ جائے گا۔لہٰذاگزشتہ سال2مئی سے کھیلے گئے میچوں میں پاکستان کا ٹریک ریکارڈدیگر قریبی درجوں کی سبھی ٹیموں سے بہتر ہے۔

سالانہ اپ ڈیٹنگ میں ممکنہ طورپر سری لنکا اور بنگلہ دیش کے 5،5کے لگ بھگ پوائنٹس کی کٹوتی ہوسکتی ہے ،اس پاکستان اور بنگلہ دیش کو 2یا اس سے کم پوائنٹس کی کٹوتی کا سامناکرناپڑے گا۔

رینکنگ اپ ڈیٹنگ کے تناظر میں آنے والے چند مہینوں کے درمیان چھٹے سے نویں درجے کی چار ٹیموں سری لنکا،بنگلہ دیش، پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان مقابلہ دیدنی ہوگا۔اس حوالے سے مزید اعدادوشمار اور حقائق کے ساتھ مضمون آپ ’اسپورٹس لنک‘کے اگلے ایڈیشن میں ملاحظہ کرسکیں گے۔

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

گیانا میں پہلے بیٹنگ صحیح یابعدمیں؟ ریکارڈکیا کہتا ہے؟

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تین ون ڈے میچوں کی سیریز کا آخری میچ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے