Clicky

تازہ ترین خبر
ہوم / بلاگ / ’’جونسے‘‘ احمد شہزاد کا نمبر کب آئے گا؟

’’جونسے‘‘ احمد شہزاد کا نمبر کب آئے گا؟

اگر سابق ہیڈ کوچ وقار یونس کی جانب سے اس طرح کا طرز عمل ظاہر کیا جا رہا ہوتا تو بات سمجھ میں بھی آتی تھی کہ احمد شہزاد کا ان سے براہ راست کچھ مواقع پر لفظی ٹاکرا ہو ااور نوجوان بیٹسمین کی زبان سے شاید کچھ جملے ایسے ادا ہو گئے جو وقار یونس کو اتنے برے لگے کہ وہ جاتے جاتے احمد شہزاد کے کیریئر پر وہ ’’فل اسٹاپ‘‘لگا گئے جسے انضمام الحق کا اختیار بھی ختم کرنے میں ناکام ہے،

پی سی بی کے سربراہ بھی خاموشی کے ساتھ یہ تماشہ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستانی ٹیم میں نوجوان کھلاڑی کی اشد ضرورت ہے لیکن وہ بدستور سلیکشن کمیٹی کی ’’عقابی‘‘نگاہ سے صرف اس وجہ سے اوجھل ہیں کہ کسی نے شاید ایسا کرنے کیلئے کہا ہوا ہے۔

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پی سی بی چیف خود ذاتی طور پر احمد شہزاد سے ملاقات کرتے اور ان سے مستقبل میں اپنا طرز عمل بہتر کرنے کا وعدہ بھی لیا جاتا ہے جس کے بعد یہ بات بھی واضح کی جاتی ہے کہ وہ سلیکشن کیلئے دستیاب ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بہتر کارکردگی کے مالک احمد شہزاد تو گھر بیٹھے رہ جاتے ہیں لیکن چیف سلیکٹر اوسط درجے کی کارکردگی کے مالک عمر اکمل کو آگے بڑھ جانے کا ’’گرین سگنل‘‘دیتے ہوئے یہ بات ثابت کر دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کرکٹ میں سیاہ و سفید کے مالک بن چکے اور وہ جو چاہے کر سکتے ہیں۔

احمد شہزاد کارکردگی سے زیادہ نان کرکٹنگ ایشوز کے سبب ٹیم سے باہر ہیں
احمد شہزاد کارکردگی سے زیادہ نان کرکٹنگ ایشوز کے سبب ٹیم سے باہر ہیں

اس بات کا یقین تو نہیں لیکن کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک مخصوص لابی احمد شہزاد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے اور یہی وجہ تھی کہ گزشتہ دنوںلاہور کرکٹ ایسوسی ایشن نے ریجنل ون ڈے کرکٹ ٹورنامنٹ کیلئے اپنی دونوں ٹیموں میں احمد شہزاد کو شامل کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد نوجوان کھلاڑی کو اچانک ہی اسلام آباد ریجن نے اپنے اسکواڈ میں شامل کیا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کے بیٹسمین نے قومی سلیکشن کمیٹی کے ساتھ ان تمام مخالفین کو ان کی تنقید کا جواب اپنی بہترین بیٹنگ سے دیا ہے جنہوں نے ان کی راہ میں روڑے اٹکانے کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہواہے، اگر کوئی حیران نہ ہو تو اس کیلئے باقاعدہ سازشیں کی جا رہی ہیں اور ان کی واپسی کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ کی ہدایات کو بھی خاطر میں نہیں لا یا جا رہا جو سلیکشن کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی وجہ سے چپ بیٹھے ہوئے ہیں۔

احمد شہزاد ہی کیا سلیکشن کمیٹی کو پی سی بی چیف کی جانب سے سلمان بٹ اور محمد آصف کیلئے بھی یہ ہدایت آ چکی ہے کہ انہیں قومی ٹیم میں منتخب کیا جا سکتا ہے لیکن انضمام الحق نہ جانے ایسے کون سے معاملات دیکھ رہے ہیں جن کے ختم ہونے کا ہی کوئی امکان نہیں ہے۔ اگر احمد شہزاد اور سلمان بٹ کے علاوہ محمد آصف سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو شہریارخان یہ بات کیوں کہتے کہ وہ سلیکشن کیلئے دستیاب ہیں۔

چیف سلیکٹر کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ اگر ان کی ضرورت ہے تو پھر انہیں منتخب کیا جائے لیکن کمال تو یہ ہے کہ ضرورت کے باوجود بھی انضمام الحق کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی اور وہ اپنے’’جونسے‘‘ روایتی بیانات اور تاویلوں کے ساتھ فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں، انہیں یہ بھی علم نہیں ہے کہ ان کی منتخب کردہ ٹیموں کا حال کیا ہو رہا ہے۔

محمد حفیظ کو آسٹریلیا کیخلاف پوری ٹیسٹ سیریز باہر بٹھا کر پاکستان کو شکستوں کی قطار میں پھنسا چھوڑ دیا گیالیکن انہوں نے آسٹریلیا پہنچ کر وہ کارنامہ انجام دیا جس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ برسوں سے کینگروز کی سرزمین پر ناکامی کے سوا کچھ اور نہ دیکھنے والی ٹیم کو ’’پروفیسر‘‘نے فتح کا چراغ جلا کر وہ روشنی فراہم کر دی ہے جس کے سہارے آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔

احمد شہزاد کے اسٹرائک ریٹ پر ہمیشہ ہی تنقید کی جاتی ہے اوراُن پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ ٹیم کے بجائے اپنے لئے کھیلتے ہیں
احمد شہزاد کے اسٹرائک ریٹ پر ہمیشہ ہی تنقید کی جاتی ہے اوراُن پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ ٹیم کے بجائے اپنے لئے کھیلتے ہیں

ایسی ہی حیران کن واپسی احمد شہزاد کی بھی ہو سکتی ہے لیکن وہ بیچارے کچھ لوگوں کی حمایت اور کچھ کی مخالفت کے درمیان پس گئے ہیں جس کے سبب وہ لاہور کی اس ٹیم کیلئے بھی قابل غور نہیں سمجھے گئے جس کی وہ برسوں سے نمائندگی کرتے رہے تھے۔

کھیل کے حلقوں نے احمد شہزاد کی لاہور کی جانب سے اہم ٹورنامنٹ میں عدم موجودگی پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح انہیں ڈومیسٹک کرکٹ میں کارکردگی سے روک کر سلیکشن کمیٹی کو مزید دباؤ سے بچانے کی کوشش کی گئی تاکہ نہ احمد شہزاد کھیلیں گے اور نہ ہی ان کی سلیکشن کا معاملہ سامنے آئے گا

لیکن گورننگ بورڈ کے ایک رکن نے یہ دیکھتے ہی احمد شہزاد کا ہاتھ پکڑ لیا اور حال ہی میں 163رنز کی عمدہ اننگز تخلیق کر کے اسلام آباد کو قومی ریجنل ون ڈے کپ میں دوسری پوزیشن پر پہنچا دیا جبکہ لاہور کی ایک ٹیم اسی دوران لاسٹ فور مرحلے میں قدم رکھنے سے بھی محروم ہو چکی تھی۔

احمد شہزاد کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس میں ان کی اپنی بھی کچھ کوتاہیاں ہیں جنہوں نے ان کی شخصیت کو منفی روپ دینے میں اہم کردار ادا کیا لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر انضمام الحق کو احمد شہزاد یا بعض دوسرے کھلاڑیوں سے کیا ذاتی پرخاش یا شکایت ہے کہ وہ ان کے بارے میں سوچنا بھی گوارہ نہیں کرتے اور انہوں نے بلا وجہ ہی اسے اپنی انا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے۔

وہ یہ بھی نہیں دیکھ رہے کہ انہوں نے جن دو کھلاڑیوں کو ون ڈے ٹیم کیلئے منتخب کر کے آسٹریلیا بھیجا تھا انہوں نے ناکامیوں کے خاتمے میں اپنا اہم کردار نبھایا ہے اوراگر وہ اسی طرح ہمت دکھائیں تو پاکستانی ٹیم بہتر ہو سکتی ہے۔

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

ٹور میچ: اظہر،یونس ،مصباح سبھی ناکام، احمد شہزاد چل پڑے

پاکستانیز اور ویسٹ انڈیزپریذیڈنٹ الیون کے درمیان کھیلے جارہے ٹورمیچ میں پاکستان کے بڑے بیٹنگ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے