Clicky

ہوم / افغانستان / افغانستان ’فل اسٹیٹس‘ کی جانب بڑھنے لگا

افغانستان ’فل اسٹیٹس‘ کی جانب بڑھنے لگا

حالیہ برسوں کے دوران افغانستان ہی ایک ایسا ملک ہے جس نے انٹرنیشنل کرکٹ میں خود کو منوانے کی کافی حد تک کوشش کی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اسے آنے والے برسوں کے دوران ترقی کے حوالے سے ایک اہم ملک تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ اس کی کارکردگی برسوں سے کھیل میں موجود آئرش اور اسکاٹش ٹیموں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ہے۔

یہ کوئی حیران کن امر نہیں ہے کہ افغانستان کرکٹ بورڈ نے مستقل رکنیت حاصل کرنے کیلئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے رابطہ کیا ہے اور اسے قوی امید ہے کہ آئندہ ماہ شیڈول آئی سی سی اجلاس میں اس حوالے سے مثبت جواب مل سکتا ہے۔ اس بارے میں اگرچہ فی الحال کوئی باضابطہ درخواست نہیں دی گئی بلکہ افغان بورڈ نے آئی سی سی سے رابطہ کر کے مستقل رکنیت کے بارے میں کہا ہے۔

افغان کرکٹ بورڈ کے حکام کرکٹ کی گورننگ باڈی کو مطمئن کرنے کیلئے ایک جامع رپورٹ کی تیاری بھی شروع کر چکے ہیں جو آئندہ ماہ آئی سی سی کے اجلاس میں پیش کی جائے گی، افغان کرکٹ کے کرتا دھرتا پرامید ہیں کہ ان کی درخواست پر مستقل رکنیت کے بارے میں سنجیدگی سے غور کیا جائے گا اور انہیں اس کی بنیاد پر آنے والے برسوں کے دوران مکمل رکنیت مل سکتی ہے۔

حالیہ برسوں مں افغانستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے
حالیہ برسوں مں افغانستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے

آئی سی سی کی خود بھی کئی سال سے یہی کوشش ہے کہ مکمل رکن ممالک کی تعداد میں اضافہ کیا جائے کیونکہ برسوں سے یہ تعداد دس پر آکر تھم چکی ہے اور اس میں اضافے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ آئی سی سی کے طریقہ کار کے تحت مستقل رکنیت کا درجہ حاصل کرنے کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ اس ملک میں مستقل بنیادوں پر تین روزہ اور چار روزہ کرکٹ کھیلی جاتی ہو اور اس کے علاوہ وہاں پر مکمل طور پر کرکٹ کی سہولیات اور انتظامی امور کے حوالے سے انفرا اسٹرکچر کا موجود ہونا لازم ہے۔

اے سی بی کے ترجمان کے مطابق انہوںنے پہلے ہی ڈومیسٹک چار روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ کو فرسٹ کلاس کرکٹ کا درجہ دینے کے حوالے سے آئی سی سی میں درخواست دی ہوئی ہے تاہم تاحال اس کی منظوری نہیں ملی اور وہ اس کا انتظار کر رہے ہیں۔

افغان کرکٹ بورڈ کے مطابق انہوں نے ملک میں 2011ء میں تین روزہ اور پھر 2014ء میں چار روزہ میچوں پر مشتمل ٹورنامنٹس کا آغاز کیا تھا اور افغانستان میں16 ٹیموں کے درمیان گریڈ تھری اور گریڈ ٹو ون ڈے ٹورنامنٹس کے علاوہ آٹھ صوبائی ٹیموں کے درمیان گریڈ ون اور ریجنل ون ڈے کپ بھی کھیلا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان نے2001ء میں آئی سی سی کی ایفیلیٹ ممبرشپ حاصل کی تھی اور 2013ء میں اسے ایسوسی ایٹ کا درجہ دے دیا گیاتھا اور نمایاں کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے آئی سی سی نے افغانستان کو ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کا اسٹیٹس بھی دے دیا تھا جس کے بعد اب اس کی اگلی کوشش یہ ہے کہ اسے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا اعزاز بھی حاصل ہو جائے۔

اگرچہ افغانستان نے زیادہ تر کرکٹ چھوٹی ٹیموں کیخلاف کھیلی ہے لیکن اس نے اب تک 70 ون ڈے میچز میں سے 35 اور 51 ٹی ٹوئنٹی میچز میں سے 32 میچز جیت رکھے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس ٹیم نے انٹرنیشنل کرکٹ میں ترقی کی منازل طے کرنے کا سفر کامیابی کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے اور اسے آنے والے برسوں کے دوران مکمل رکنیت کا اعزاز مل سکتا ہے۔

loading...

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

’’جونسے‘‘ احمد شہزاد کا نمبر کب آئے گا؟

اگر سابق ہیڈ کوچ وقار یونس کی جانب سے اس طرح کا طرز عمل ظاہر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے